آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فرانسیسی عدالتوں میں پُرتشدد جرائم کے شکار افراد کو پُرسکون رکھنے کے لیے کتوں کا استعمال
- مصنف, کرِس بوکمین
- عہدہ, جنوب مغربی فرانس
- وقت اشاعت
ہتھکڑیوں میں جکڑا ایک شخص جج کے سامنے پیش ہونے کا منتظر بینچ پر بیٹھا ہے۔ کچھ ہی دیر قبل نزدیکی جیل سے دو پولیس افسران اس شخص کو عدالت لے کر پہنچے تھے۔
اس قیدی کے قریب ہی ایک خاتون اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ احاطہ عدالت میں موجود ہیں اور پیشی سے قبل اپنے وکیل کے ساتھ قانونی حکمت عملی پر گفتگو میں مصروف ہیں، جو ایک طلاق کا معاملہ لگ رہا ہے۔
آپ پوچھیں گے ان مناظر میں ایسا انوکھا کیا ہے کیونکہ اس طرح کے مناظر عدالتوں میں روز کا معمول ہوتے ہیں۔
مگر فرانس کی اس عدالت میں ایک منظر واقعی انوکھا ہے۔ جنوب مغربی فرانس کے اس خطے میں چیف پراسیکیوٹر اپنی قانونی پوشاک پہنے راہداریوں میں ایک خوبصورت اور مضبوط قد کاٹھ والے لیبراڈور نسل کے سیاہ کتے کے ساتھ گھوم رہے ہیں۔
تھکے ہوئے وکلا اور عدالتی عملہ جو ہمیشہ عجلت میں نظر آتا ہے اپنے دفاتر سے باہر نکلتے ہوئے اس پانچ سالہ کتے، جس کا نام لول ہے، پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے نکل جاتے ہیں۔
دو سال قبل لول یورپ میں ایسے جرائم کے شکار لوگوں کو سرکاری جوڈیشل سپورٹ دینے والا پہلا کتا بن گیا تھا جو تشدد یا جنسی زیادتیوں کا نشانہ بنے ہوں۔ لول نامی یہ کتا اس احاطہ عدالت کو کسی بھی عادی مجرم سے بہتر جانتا ہے۔
پراسیکیوٹر فریڈرک الیمنڈروز نے شمال مغربی امریکی شہر سیئٹل میں اسی طرح کے تجربے کے بارے میں سُنا تھا اور فیصلہ کیا تھا کہ وہ بھی اپنی عدالت میں یہ تجربہ کریں گے۔
پُرسکون رہنے کی تربیت
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جس دن میں لول سے ملا اس دن اس کی چھٹی تھی اور 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت میں ظاہر ہے کہ وہ اپنا دن فائر سٹیشن کے نزدیک اپنے گھر میں گزار رہا تھا۔
اس لیبراڈور کتے کو چھوٹے بچوں سمیت انجانے لوگوں کے ساتھ پُرسکون رہنے کی تربیت دی گئی ہے۔
وہ تناؤ، جذباتی اور شور شرابے والے حالات میں پُرسکون رہ سکتا ہے، جیسا کہ وکیلوں کے درمیان جرح کے ماحول میں۔ مثال کے طور پر جب ریپ کی شکار خاتون اور اس کے حملہ آور کا آمنا سامنا ہوتا ہے تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ماحول کیا ہوتا ہو گا۔
فریڈرک الیمنڈروز کا کہنا ہے کہ ’کیس کا جائزہ لینے کے بعد میں کتے کی مدد لینے کا فیصلہ کرتا ہوں۔ اگر مجھے لگتا ہے کہ اس کی پُرسکون موجودگی متاثرین کو اپنے ساتھ ہونے والے جرم کے بارے میں کُھل کر بات کرنے میں مدد کرے گی یا اس وقت بھی جب انھیں عدالت میں گواہی دینی پڑے۔ عدالت میں اُن کے ساتھ کتے کی موجودگی اکثر متاثرہ افراد کو مقدمے کی سماعت کے وقت تناؤ سے نمٹنے یا پُرسکون رہنے میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔‘
اب تک لول تین سے 90 سال کی عمر تک کے متاثرین کے ساتھ 80 مختلف مجرمانہ معاملات میں عدالت میں پیش ہوا ہے۔
ایک معاملے میں ایک بزرگ جوڑا جو پُرشدد چوری کے باعث صدمے میں تھا، کتے کی موجودگی میں پولیس کو سمجھا پایا کہ دراصل ان کے ساتھ کیا ہوا تھا۔
الیکسیا میستے ’فرانس وِکٹم‘ نام کے ایک قومی خیراتی ادارے کی مقامی شاخ چلاتی ہیں۔ وہ اور ان کے ساتھی بشمول سماجی کارکن اور جیورِسٹ سال بھر میں 600 کے قریب افراد کی مدد کرتے ہیں جن میں سے بہت سے گھریلو تشدد اور جنسی استحصال کا شکار ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’لول‘ کو متاثرین کے ساتھ لگ کر بیٹھنے کی تربیت دی گئی ہے، یہ جسمانی رابطہ ان کو درپیش قانونی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں مدد کرتا ہے۔
قانونی نظام میں ’انسانیت‘ کا پہلو
فرانس کے بڑے شہروں کی عدالتوں کے برعکس جہاں منشیات سے متعلق جرائم عام ہیں یہاں دیہی علاقوں میں جنسی زیادتی اور گھریلو تشدد سے متعلق کیسز عام ہیں۔
ابتدا میں ایک فیملی وکیل اور مقامی بار ایسوسی ایشن کے سربراہ مصطفٰی یسفی کو اپنے ساتھیوں کو اس منصوبے میں شامل ہونے کے لیے راضی کرنا پڑا۔ لیکن اب وکلا اس وقت لول کی مدد مانگتے ہیں جب یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے معاملے کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
مصطفٰی یسفی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اس پروگرام پر یقین رکھتے ہیں، عدالتی معاملات میں کتے کا ایک خاص کردار ہے جہاں وہ عدالتی عمل میں حصہ لیتا ہے۔‘
یہ سکیم گذشتہ دو سالوں میں اتنی کامیاب ثابت ہوئی ہے کہ فرانس بھر کی دیگر عدالتوں میں لول کو ’ادھار‘ لیا جاتا ہے۔ نیورس اور نیمس کے شہروں سمیت اب کئی عدالتوں کے پاس اپنے اپنے ’لول‘ یعنی کتے ہیں۔
پیرس کے نواحی علاقے بابنگی کے ایک بڑے کورٹ ہاؤس میں بھی کتا رکھا جائے گا۔
اس وقت عدالت میں موجود کتوں کی کوئی سرکاری قانونی حیثیت نہیں ہے لیکن جلد ہی اس میں تبدیلی آ سکتی ہے۔
فرانس کی حکمراں جماعت کے رکنِ پارلیمان ہیوگٹ ٹیگنا اپنے 20 ساتھیوں کی مدد سے پارلیمنٹ کے توسط سے ایک بل پاس کرنے پر زور دے رہی ہیں جس سے جانوروں کو متاثرین کی مدد کرنے کی بنیادوں پر ’عدالتی شناخت‘ ملنے کی امید ہے۔
ہیوگٹ ٹیگنا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر یہ بل قانون بن جاتا ہے تو اس سے ایسے کتوں کے لیے وزارت انصاف کی طرف سے ریاستی مالی اعانت فراہم کی جا سکتی ہے۔ یہ ایک اہم اقدام ہے کیونکہ لول کی تربیت پر 17 ہزار سے بیس ہزار ڈالر تک کی لاگت آئی ہے۔‘
لول جنوب مغربی فرانس میں بھی مشہور ہو رہا ہے جسے جرائم کے شکار لوگوں کی مدد پر منعقدہ سیمینار میں شرکت کے لیے یورپ کی پارلیمان لے جایا گیا۔
اور جب صدر میکرون نے، جو کراس نسل کے سیاہ لیبراڈور کے مالک بھی ہیں، اس مہینے میں ’لوت‘ میں دو دن گزارے تو انھوں نے ٹیم سے پوچھا کہ لول کی دیکھ بھال کس طرح کی جاتی ہے۔ وہ کیا کھاتا ہے اور اس کے مزاج کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
لوت کے چیف پراسیکیوٹر فریڈرک ایلیمنڈروز کا کہنا ہے کہ اگلا تجربہ اس ماہ کے آخر میں شروع ہو گا جس میں یہ دیکھا جا سکے گا کہ لول پُرتشدد جرائم پیشہ افراد کی اصلاح میں مدد کر سکتا ہے یا نہیں۔