آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
غزہ کے بچے: ڈراؤنے خوابوں، افسردگی اور گھبراہٹ کے ماحول میں پلتے بچے
- مصنف, سوامی ناتھن نتاراجن
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
اولیٰ ابو حسب اللہ کہتی ہیں: 'مجھے خوشی ہے کہ میرا جسم اب بھی زندہ ہے۔ نفسیاتی طور پر میں بکھر چکی ہوں۔'
بتیس سالہ اولیٰ سنگل مدر ہیں اور غزہ میں رہتی ہیں۔
ان کی خواہش ہے کہ ان کے تین سالہ بیٹے کو تباہی و بربادی نہ دیکھنا پڑے جو اپنے بچپن میں انھوں نے دیکھی۔
فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان 11 روز تک ہونے والی حالیہ جھڑپوں میں کم سے کم 248 افراد غزہ میں اور 12 اسرائیل میں مارے گئے۔ یہ لڑائی جمعے کو ہونے والی فائر بندی کے نتیجے میں بند ہوئی ہے۔
ہلاک ہونے والوں میں غزہ کے کم سے کم 65 اور اسرائیل کے دو بچے شامل ہیں۔
اولیٰ کہتی ہیں کہ جو بچے اپنے اہلخانہ کے ساتھ مارے گئے وہ اپنی جگہ، مگر جو زندہ رہ گئے ان کے معصوم ذہنوں پر جنگ کے داغ ہمیشہ باقی رہیں گے۔
’بہت سوں نے کسی کو کھویا بھی ہے اور غم کے مارے ہوئے ہیں۔ انھیں معمول کی زندگی میں لانا بہت مشکل ہے۔ ان میں سے بعض کو نفسیاتی مدد اور علاج کی ضرورت ہے۔‘
صدمہ، ذہنی و جذباتی دباؤ
اولیٰ نے ذہنی صحت میں ماسٹرز کیا ہے اور وہ نارویجیئن ریفیوجی کونسل کے ساتھ بطور ماہر نفسیات اور ایجوکیشن آفیسر کام کرتی ہیں۔
گزشتہ 13 برس سے وہ غزہ کے جنگ زدہ بچوں کی مدد کر رہی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ جنگ کی وجہ سے جن بچوں کے والدین، بہن بھائی یا کوئی دوسرا رشتہ دار ہلاک ہوا ہے انھیں پسِ صدمہ ذہنی و جذباتی دباؤ (پی ٹی ایس ڈی) لاحق ہونے کا زیادہ خدشہ ہے۔
’اس سے مراد بے خوابی، ڈراؤنے خواب، احساس جرم، تنہائی، بستر گیلا کرنا، سُن ہونے کا احساس، مایوسی، طیش، اپنے اور اپنے مستقبل کے بارے میں منفی خیالات اور افسردگی۔‘
بمباری ختم ہونے کے بعد اولیٰ نے اپنا کام پھر سے شروع کیا اور 11 برس کی پانچ لڑکیوں سے ملاقات کی جو بہت خوفزدہ تھیں۔
ان کی ایک ہم جماعت بمباری سے ہلاک ہو گئی ہے۔
اولیٰ کا کہنا ہے، ’ان میں سے ایک نے مجھے بتایا کہ جب بھی وہ کوئی دھماکہ سنتی تو سوچتی کہ وہ بھی اپنی دوست دیمہ کی طرح ماری جائیں گی۔‘
نارویجیئن ریفیوجی کونسل کے مطابق حالیہ بمباری سے ہلاک ہونے والے 11 بچے پہلے ہی ان کے سینٹر میں پسِ صدمہ ذہنی و جذباتی دباؤ کے لیے زیر علاج تھے۔
اس علاج کے دوران بچوں سے تصویریں بھی بنوائی جاتی ہیں۔
’اولیٰ کا کہنا تھا کہ ’تمام پانچ لڑکیوں نے اپنے گھروں کی تصاویر بنائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ گھروں کو اپنے لیے سب سے زیادہ محفوظ سمجھتی ہیں۔‘
مگر پھر بھی اس جائے پناہ کو کھو دینے کا خدشہ بہت زیادہ ہے۔
غزہ میں کئی عمارتوں کو فضائی حملے کر کے ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے اور ایک لاکھ سے زیادہ فلسطینی بے گھر ہو گئے ہیں۔
بچوں کے لیے گھر کی تباہی کا مطلب ہے اپنے کھلونوں، کتابوں، کپڑوں وغیرہ، یعنی ان چیزوں سے محرومی جو آپ کو تحفظ کا احساس دلاتی ہیں۔
ایسے میں اگر وہ والدین سے بھی محروم ہو جائیں تو اس کا مطلب پیار اور جائے امان سے محرومی۔
اقوام متحدہ کا سروے
غزہ کا شمار دنیا کے سب سے زیادہ گنجان آباد علاقوں میں ہوتا ہے۔
اس بند جگہ کی آبادی بیس لاکھ سے زیادہ ہے جس کا 42 فیصد 15 سال سے کم عمر کے بچوں پر مشتمل ہے۔
سنہ 2018 میں کیے گئے اقوام متحدہ کے ایک سروے کے مطابق صدمات کا شکار ہونے کے سبب غزہ کے ہر چار میں سے ایک بچے کو نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے۔
اولیٰ کو وہ صدمات اچھی طرح یاد ہیں جن سے انھیں 2000 کی دہائی میں گزرنا پڑا تھا۔
جارحانہ رویہ
ایک دن جب وہ اپنی بہن اور بھائی کے ساتھ باہر کھیل رہی تھیں تو اسرائیلی طیاروں نے ان کے محلے پر بمباری کر دی۔
’ہم نے جہاز سے آگ نکلتے دیکھی اور پھر بم کا دھماکہ ہوا۔ ہم اپنے والدین کو پکارتے ہوئے گھر کی طرف بھاگے۔ یہ سب نہایت ڈراؤنا تھا۔‘
انھیں یاد ہے کہ ایک دوسری بمباری کے دوران انھوں نے اپنی چھوٹی بہن کو کیسے تسلی دی تھی جو خوف کی وجہ سے ان سے لپٹ گئی تھی۔
’جب بچے مجھے دھماکوں کے بارے میں بتاتے ہیں تو مجھے یاد آ جاتا ہے کہ بمباری کے دوران ہمارا گھر کیسے کانپتا تھا۔ وہ جس خوف اور اضطراب کے بارے میں مجھے بتاتے ہیں میں اسے اپنے دل کی گہرائی میں محسوس کرتی ہوں۔‘
مگر اولیٰ کہتی ہیں کہ بچوں کے اندر ایسی صورتحال سے نمٹنے کا الگ نظام ہوتا ہے جس میں جارحیت بھی شامل ہے۔
اپنے بچپن کے بارے میں وہ بتاتی ہیں کہ ’اس وقت خوف، غیر یقینی اور عدم تحفظ کا احساس ہوتا تھا۔ میرے چار بھائی فضائی حملوں کے بعد بہت زیادہ مشتعل ہو جاتے تھے۔ کبھی کبھی وہ مجھے مارنے لگتے تھے۔‘
اب وہ اپنے بھائی کی جارحیت کو ان کی اپنا بقا کے خوف سے جوڑتی ہیں۔
مگر زندگی کے اس دور میں نہ انھیں اور نہ ہی ان کے بہن بھائیوں کو کسی طرح کی نفسیاتی مدد میسر ہوئی، یہ ہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنے لیے نفسیات کا شعبہ چنا۔
وہ کہتی ہیں، ’میں جانتی ہوں کہ اسرائیلی بچوں کو بھی صدمات کا سامنا ہوتا ہے۔‘
’مگر حالیہ کشیدگی کے دوران بشمول فوجیوں کے مجموعی اسرائیلی ہلاکتوں کے مقابلے چھ گنا زیادہ فلسطینی بچے مارے گئے۔ یہ اعداد و شمار آپ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔‘
'یادوں کی سر زمین'
حالیہ تشدد کے دوران انھوں نے اپنے تین سالہ بیٹے کے معمولات زندگی کو پرسکون رکھنے کی کوشش کی۔ طلاق کے بعد وہ اپنے بیٹے کے ساتھ اکیلی رہتی ہیں۔
’یہ سب سمجھنے کے لیے ابھی وہ بہت چھوٹا ہے۔ جب کوئی دھماکا ہوتا ہے تو وہ دوڑ کر میرے پاس آتا ہے۔ میں اسے ہمیشہ بچاؤں گی۔‘
اولیٰ نہیں چاہتیں کہ ان کا بیٹا ان ہی حالات کا سامنا کرے جو انھیں خود جھیلنا پڑے تھے، مگر ان کا کہنا ہے کہ وہ رہنے کے لیے کہیں اور نہیں جانا چاہتیں۔
’وہ جب بڑا ہوگا تو میں اسے بتاؤں گی کہ غزہ محض ایک جگہ نہیں ہے۔ یہ میرے والدین کا وطن، میری ماں کی قبر، میری یادوں اور شناخت کی سر زمین ہے۔‘