آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لڑکیوں کے عنفوان شباب کو پہنچنے کی متاثر کن تصاویر
کیرولائن مینڈلسن نے عہد جوانی میں قدم رکھنے کی اپنی یادوں سے تحریک پا کر پچھلے چھ برسوں میں مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والی 90 برطانوی لڑکیوں کے عنفوانِ شباب کی تصاویر اتار کر جمع کی ہیں۔
وہ کہتی ہیں، ’مجھے یاد ہے کہ 10 سے 12 سال کی عمر کے دوران میرے اندر اچانک ایک عجیب سا اضطراب پیدا ہو گیا تھا، میرے اندر خود بینی گھر کر چکی تھی اور میں دنیا اور مستقبل کے بارے میں بہت زیادہ فکر مند ہو گئی تھی۔‘
’اگرچہ اکثر والدین اس وقت کو بالی عمریا کہتے ہیں، میرے خیال میں یہ ایک اہم اور خوبصورت وقت ہوتا ہے، اسی لیے میں نے اُس دور کو پھر سے دیکھنا چاہا اور اپنے کیمرے کی مدد سے ان لڑکیوں کو توجہ کا مرکز بنایا۔ میں انھیں ویسا ہی دکھانا چاہتی تھی جیسی وہ ہیں اور ساتھ ہی انھیں خود مختاری کا احساس بھی دلانا چاہتی تھی۔‘
تصویر کھینچتے وقت کیرولائن ہر لڑکی سے اس کے عزائم، پسند، ناپسند اور مستقبل سے وابستہ توقعات کے بارے میں بھی سوال پوچھتی تھیں۔
انھیں جلد احساس ہو گیا کہ ان لڑکیوں کے جوابات اُس وقت دنیا کو درپیش مسائل کی سرسری عکاسی کر رہے ہیں۔
’پہلے تو بہت سی لڑکیوں نے جنگ، بے سرو سامانی اور اپنے بارے میں پائے جانے والے تصور پر تشویش کا اظہار کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ انھوں نے کرۂ ارض اور کلائمیٹ چینج (ماحولیاتی تبدیلی) سے متعلق اپنے خوف کے بارے میں بات کرنا شروع کر دی۔‘
’جس آخری لڑکی سے میں نے بات کی وہ لاک ڈاؤن سے لگ بھگ سات ہفتے پہلے کورونا وائرس کے بارے میں خوفزدہ تھی۔ مجھے یہ بات سمجھ میں آگئی کہ اس عمر کے بچوں کی سوچ اور ان کے احساس کی گہرائی کو کبھی بھی حقیر نہیں جاننا چاہیے۔‘
ذیل میں کیرولائن کی کھینچی ہوئی تصاویر اور ان لڑکیوں کے جوابات کا انتخاب پیش ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
ہےونز، عمر 10 سال
’مجھے مہم جو اور تخلیقی ہونا، اور خاکے بنانا اچھا لگتا ہے۔
’کسی کے رعب جمانے سے مجھ نفرت ہے۔
’میری دلی خواہش ہے کہ ڈاکٹر بنوں، اور کاش کہ دنیا میں کوئی بھی نہ مرے۔‘
روبی، عمر 11 سال
’مجھے امید ہے کہ مستقبل میں لوگ ظاہری شکل و صورت کے بارے میں ذہن کھلا رکھیں گے کیونکہ سب الگ الگ ہیں، اور میں واقعی امید کرتی ہوں کہ لوگ اس بات کو قبول کریں گے۔
’سب لوگ اس طرح نہیں ہوتے جیسے (فیشن) رسالوں میں نظر آتے ہیں، سب ہی اپنے آپ میں لاجواب ہیں۔‘
’میں چاہتی ہوں کے بڑے ہو کر میرے اندر زیادہ خود اعتمادی آئے اور میں دوسروں کے اندر بھی اعتماد پیدا کرنے میں مدد کروں۔
میرا خواب ہے کہ میری پاس اچھی ملازمت اور پومیرینائی نسل کے دو کتے ہوں۔‘
بیکا، عمر 11 سال
’بڑی ہو کر میں ریسنگ کار ڈرائیور، سائنسدان اور سنگر بننا چاہتی ہوں۔ میں ایسی جاب بھی چاہتی ہوں جس میں، میں ببر شیروں اور شیروں کی رکھوالی کر سکوں۔‘
’میرا اپنی بہن کی طرح چلنے کا خواب ہے تاکہ میں اس کے ساتھ دوڑ سکوں اور وہ جہاں بھی جائے اس کے ساتھ جاؤں۔ اگر میں چل سکتی، یہ ہی میرا ارمان ہے، تو میں اپنی بہن کے ساتھ جانا چاہتی ہوں، میں اس کے ساتھ دشوار گزار راہوں پر چلنا چاہتی ہوں۔
’میری آرزو ہے کہ میں چل سکوں۔‘
عائشہ، عمر 11 سال
’میری خواہش ہے کہ میں دنیا بھر میں گھوموں اور مختلف ملکوں اور ثقافتوں کے بہت سے نئے لوگوں سے ملوں۔ میرا خواب ہے کہ کوئی بھی بے گھر نہ رہے اور سب کہ پاس جانے کے لیے ایک خاص جگہ ہو۔‘
ایلس، عمر 11 سال
’میں بڑی ہو کر مصنف بننا چاہتی ہوں اور ایسا کام کرنا چاہتی ہوں جس کے ذریعے بن ماں باپ کے بچوں اور معذوروں کی مدد کر سکوں۔‘
’مجھے کرینیوسانوسٹوسِس ہے یعنی جب میں شیرخوار ہی تھی تو میرے سر کی ہڈیاں آپس میں جڑ گئی تھیں۔ چھ ماہ کی عمر میں میرا پہلا اور پھر ایک سال کی عمر میں دوسرا آپریشن ہوا۔‘
’میں بارانی جنگلات کی سیر کرنا چاہتی ہوں۔ میں استوائی خطے کی خوشبو کو تصور میں لا کر محسوس کرتی ہوں۔‘
لاٹی، عمر 11 سال
’میں بڑی ہو کر چڑیا گھر میں کام کرنا، جانوروں کا ڈاکٹر یا پھر مصنف بننا چاہتی ہوں۔
’کاش کہ ہم دنیا کو برباد نہ کریں۔
’ہمیں درختوں کی کٹائی روکنا ہوگی، اور گھر بنانا اور گرم رہنا بھی۔
’مجھے ڈر ہے کہ سطح سمندر میں اضافہ ہو رہا ہے اور میں کوروناوائرس کے بارے میں بھی فکر مند ہوں۔‘
ایمی، عمر 10 سال
’میرا خواب ہے کہ ہر کسی کا ایک گھر ہو، وہ اپنے پیاروں کے ساتھ رہے، انھیں پیار ملے، ان کی دیکھ بھال ہو۔
’میں ہمیشہ خوش رہنا چاہتی ہوں، ہمیشہ مجھے پیار ملے اور اچھی زندگی گزاروں۔
’میں گھر میں سب سے بڑی، مگر سب سے ننھی ہوں۔
’اگرچہ اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔
’پستہ قامت ہونے کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ آپ بڑے کام نہیں کر سکتے۔‘
ماریا، عمر 10 سال
’میں ٹیچر بننا چاہتی ہوں تاکہ بچوں کو ان کی مشکلات کو عبور کرنے میں مدد دے سکوں اور وہ ڈاکٹر اور وزرائے اعظم جیسے بڑے لوگ بن سکیں۔‘
بیٹسی، عمر 11 سال
’میں اپنے گھروں والوں کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں کیونکہ وہ بہت ہنس مکھ اور شوخ ہیں۔
’سیکنڈری سکول جانے والی میری ہم عمر لڑکیوں کو میرا مشورہ ہے کہ وہ جیسی ہیں ویسی ہی رہیں، اپنی زندگی کا اختیار کسی اور کو نہ دیں، کیونکہ دوسرے آپ کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں۔
’اپنا دفاع کریں اور ان لوگوں کا دفاع کریں جن سے لوگ کمینگی سے پیش آتے ہیں۔‘
سٹیفنی، عمر 11 سال
’مجھے رقص اور اداکاری پسند ہے کیونکہ اس طرح آپ اپنا اظہار کر سکتے ہیں، میں آزادی محسوس کرتی ہیں۔
’میں جو کہنا چاہتی ہوں اسے کہنے سے مجھے ڈر نہیں لگتا، میں شرمیلی نہیں ہوں۔
’میرا خواب ہے کہ میرا بہت بڑا گھر ہو، پیار کرنے والے گھر والے اور ڈھیر سارے پالتو جانور ہوں، زیادہ تر کتے۔
’کاش کہ دنیا میں کوئی برائی نہ ہوتی، ہم سب ایک دوسرے سے اچھا سلوک کرتے، دنیا میں سب کی سنی جاتی، اور کسی کو دبایا نہ جاتا۔‘