جوہری معاہدہ: ایران نے مذاکرات اور نئے فریق کی شمولیت کو مسترد کر دیا

وقت اشاعت

ایران کی وزارت خارجہ نے عالمی طاقتوں اور تہران کے مابین جوہری معاہدے پر مذاکرات اور نیا فریق شامل کرنے کا امکان مسترد کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادے نے کہا ہے کہ ’جوہری معاہدہ ایک کثیر الجہتی بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کی منظوری اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد 2231 کے تحت دی گئی، اس میں ردوبدل ممکن نہیں اور اس معاہدے کے فریق واضح ہیں جن میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔`

ایران کی جانب سے یہ ردعمل فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر مذاکرات میں سعودی عرب کو ضرور شامل کیا جانا چاہیے۔

العربیہ ٹی وی سی سے بات کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر مذاکرات بہت سخت ہوں گے۔

فرانسیسی صدر نے یہ بھی کہا کہ تہران کے ساتھ 2015 کے معاہدے میں علاقائی طاقتوں سے رجوع کیے بغیر جو غلطیاں ہوئیں ان سے گریز کرنا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن کی نئی انتظامیہ کہہ چکی ہے کہ وہ اس معاہدے میں دوبارہ شامل ہو جائیں گے لیکن اس سے پہلے تہران کو اس معاہدے کی تمام شرائط پر مکمل عملدرآمد شروع کرنا ہو گا۔

واضح رہے کہ سنہ 2018 میں امریکہ کے سابق صدر ٹرمپ کی جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبرداری اور اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کے بعد ایران نے جان بوجھ کر 2015 کے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اجازت سے کہیں زیادہ یورینیئم کی افزودگی شروع کر دی تھی۔

جوہری معاہدے کے تحت امریکہ، چین، فرانس، روس، برطانیہ اور جرمنی نے ایران کے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی نگرانی کے عوض پابندیوں میں نرمی کی تھی۔

جوہری معاہدہ کیا ہے؟

یہ جوہری معاہدہ ایران اور سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ممالک اور جرمنی کے درمیان طے پایا تھا۔ جس کے اہم نکات یہ ہیں:

  • ایران یورینیم کی پانچ فیصد سے زائد افزودگی روک دے گا اور درمیانے درجے تک افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ناکارہ بنائے گا۔
  • آراک کے مقام پر بھاری پانی کے جوہری منصوبے پر مزید کام نہیں کیا جائے گا۔
  • جوہری ہتھیاروں کے عالمی ادارے کو نتنانز اور فردو میں واقع جوہری تنصیبات تک روزانہ کی بنیاد پر رسائی دی جائے گی۔
  • ان اقدامات کے بدلے میں چھ ماہ تک جوہری سرگرمیوں کی وجہ سے ایران پر کوئی نئی پابندی نہیں لگائی جائے گی۔
  • قیمتی دھاتوں اور فضائی کمپنیوں کے سلسلے میں پہلے سے عائد کچھ پابندیاں معطل کر دی جائیں گی۔
  • ایران کو تیل کی فروخت کی موجودہ حد برقرار رہے گی جس کی بدولت ایران کو چار ارب بیس کروڑ ڈالر کا زرِمبادلہ حاصل ہو سکے گا۔