آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فرانس: خاندانوں کے اندر جنسی زیادتیاں روکنے کے لیے سوشل میڈیا مہم
فرانس میں دسیوں ہزار افراد نے سوشل میڈیا پر چلنے والی ایک مہم پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے جسے خاندانوں کے اندر جنسی استحصال کے مسئلے پر روشنی ڈالنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
فرانس میں جنسی تشدد کے خلاف کھڑی ہونے والی تنظیم ’نوستوتیس‘ نے اس مہم کی ہفتے کے دنوں ابتدا کی ہے اور 'می ٹو' ہیش ٹیگ کے بعد اسے 'می انسستے' (#MeTooInceste) کا نام دیا گیا ہے۔
فرانسیسی زبان میں 'انسستے' کا استعمال رشتہ داروں کے ذریعہ جنسی استحصال کے لیے ہوتا ہے اور ان میں وہ رشتے دار بھی شامل ہیں جن سے خون کا رشتہ نہیں ہے۔
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
اس مہم کے بعد ایک مشہور سیاسی مبصر اولیویر دوہمیل کے خلاف یہی الزامات عائد کیے گئے۔ ان کی سوتیلی بیٹی نے ان پر 30 سال قبل اپنے جڑواں بھائی کے ساتھ جنسی بدسلوکی کا الزام عائد کیا ہے۔ مسٹر دوہمیل نے ان الزامات کو 'ذاتی حملہ' قرار دیا ہے۔
ٹوئٹر پر اس مہم کا آغاز پچھلے ہفتے کے آخر میں 67 سالہ نوستوتیس کارکن کے ایک پیغام کے ساتھ ہوا۔ انھیں میری چینیوانس کے نام سے جانا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میری نے کہا: 'اس مسئلے کے سلسلے میں برتی جانے والی خاموشی کو توڑنے کے لیے یہ اب یا کبھی نھیں جیسی صورت حال تھی۔‘
میری چینیوانس نے کہا کہ پچھلے برسوں میں جب کارکنوں نے اپنی کہانیاں شیئر کیں کہ کس طرح خاندان میں ہی ان کے ساتھ بدسلوکی ہوئی تو انھیں 'خاموشی کی ایک دیوار' کا سامنا تھا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز سے اب تک 80 ہزار سے زیادہ افراد نے اس مہم پر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔
میئی کوہی یاما بھی ان لوگوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے اپنی کہانی کو شیئر کیا اور اس کے ساتھ انھوں نے اس خاکے کو بھی شیئر کیا جو انھوں نے پانچ سال کی عمر میں بنایا تھا۔
اس خاکے میں ایک بچہ دکھایا گیا ہے جس کا منہ نھیں ہے اور اس کے ساتھ 'اوسکور' یعنی 'میری مدد کرو' لکھا ہے۔
اس وقت بدسلوکی کے بارے میں بات کرنے کا اس کا یہ اپنا طریقہ تھا، لیکن کسی نے بھی اس کے پیغام کو نھیں سنا۔
انھوں نے مجھے بتایا کہ 'سنیچر کے روز جب میں نے یہ ٹویٹ پوسٹ کی، تو یہ کہنا عجیب ہے، لیکن مجھے اس چھوٹی سی لڑکی پر فخر تھا جس نے یہ تصویر بنائی تھی۔ میں اپنے آپ سے کہتی ہوں کہ اب لوگ اس قسم کی ڈرائنگ کو سمجھ سکتے ہیں۔ 40 سال پہلے یہ ممکن نھیں تھا۔‘
رازداری کا رواج
کارکنوں کا کہنا ہے کہ مسٹر دوہمیل کے خلاف الزامات پر اس طرح کے اثرات مرتب ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کی سوتیلی بیٹی کیملی کوچنر نے اپنی کتاب 'لا فیمیلیا گرانڈے' میں صرف مبینہ سلوک کا ہی ذکر کیا ہے بلکہ اس کے گرد خاندان کی جانب سے رازداری کے کلچر اور حصار کا بھی ذکر کیا ہے۔
جنسی تشدد کے معاملات کے ماہر اور ماہر نفسیات مورییل سیلمونا کا کہنا ہے کہ سیاستداں دوہمیل کی سوتیلی بیٹی کے ذریعہ نئے ہیش ٹیگ کے ساتھ اٹھائے گئے معاملے نے متاثرین کے بولنے کے لیے ایک 'محفوظ جگہ' فراہم کی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ تاریخی طور پر فرانس میں خاندان کے اندر زیادتی کرنے والوں کو 'تقریباً مکمل استثنیٰ' حاصل رہا ہے اور نابالغ بچوں کے خلاف عصمت دری کے ایک فیصد سے بھی کم مقدمات عدالت تک پہنچے۔‘
ڈاکٹر سیلمونا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: 'یورپ کے بیشتر حصوں میں بچوں کے خلاف تشدد سے متعلق اعداد و شمار درست نہیں ہیں۔ لیکن فرانس میں ایک لہر یا رویہ موجود ہے جو بچوں کے خلاف جنسی تشدد کو برداشت کرتا ہے۔'
اس مسئلے کے متعلق قانون پیچیدہ ہے۔ نابالغوں کے ساتھ جنسی تعلقات غیر قانونی ہے لیکن زیادتی یا جنسی زیادتی کے زیادہ سنگین الزامات کو ثابت کرنے کے لیے جس میں بچے بھی شامل ہے، یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ اس میں تشدد، دھمکی، اچانک یا زبردستی کا استعمال کیا گیا تھا۔
اگر مجرم متاثر فرد سے کہیں زیادہ معمر ہے یا اس کے پاس کوئی عہدہ یا اختیار ہے تو اسے زبردستی کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن ڈاکٹر سیلمونا کا کہنا ہے کہ یہ بھی از خود نھیں ہو سکتا۔
اس کا مطلب قانونی طور پر یہ ہے کہ کوئی 11 سال کی عمر کا بچہ کسی بالغ کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرتا ہے تو اسے اس کی رضا سمجھا جاسکتا ہے۔
مہم چلانے والے طویل عرصے سے رضامندی کی قانونی عمر کو طے کیے جانے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن قانون کو تبدیل کرنے کی اب تک کی تمام کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔
گذشتہ سال کے آخر میں ہونے والے ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ فرانس میں 10 میں سے ایک فرد نے اپنے خاندان میں ہی بچپن کے جنسی استحصال کا سامنا کیا ہے۔
میری چینیوانس نے کہا کہ وہ جانتی ہیں کہ اس نئی مہم سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہوگی لیکن وہ شواہد کی بھرمار پر حیرت زدہ ہیں۔
انھوں نے کہا: 'ایک طرف اگرچہ یہ کہانیاں افسردہ کرنے والی ہیں لیکن دوسری طرف اس سے اچھا محسوس ہو رہا کہ یہ (لوگوں کو) آزاد کرا رہی ہیں۔'