آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تشدد کا شکار ماں جسے بچی کو جنم دے کر پارک میں چھوڑ دینا یاد نہیں
تنبیہ: اس تحریر میں ایسی تفصیلات ہیں جو کہ کچھ قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔
‘ایمرجنسی کہاں ہے؟‘
‘ایگل دریا میں ٹرنر پارک۔‘
‘ٹھیک ہے۔ مجھے تفصیل سے بتائیں کہ ہوا کیا ہے۔‘
‘میں صبح کے وقت اپنے کتے کو واک کروا رہا تھا اور مجھے ایک ایسی چیز نظر آئی ہے جو کہ بظاہر ایک چھوٹا سا بچہ ہے اور تولیے میں لپٹا ہوا ہے۔‘
‘کیا آپ نے کہا کہ تولیے میں لپٹا ہوا بچہ؟‘
’یہ ایک انسانی بچہ ہے اور سانس نہیں لے رہا۔ اس کا رنگ نیلا ہے۔‘
‘اچھا یہ بچہ کتنی عمر کا لگتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
‘نومولود‘
‘اچھا۔ ہم مدد کے لیے طبعی عملہ بھیج رہے ہیں۔‘
15 اکتوبر 2013 کو صبح 930 بجے ایک شخص امریکی ریاست الاسکا میں صبح کے وقت پارک میں اپنے کتے کو واک کروا رہا تھا جب اس نے 911 کو کال کیا۔ اس نے ایسا اس وقت کیا جب اسے ایک نومولود بچی باہر پڑی ملی۔
اس خاموش سے قصبے میں لوگ اس واقعے سے حیران رہ گئے اور پولیس اور صحافی اس مقام پر ٹوٹ پڑے۔
اسی دوپہر کو طبی عملہ نے قریب میں ہی ایک خاتون کا علاج کیا جس کے زخموں سے لگتا تھا کہ انھوں نے ابھی کسی بچے کو جنم دیا ہو۔ انھیں ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔
اس خاتون کی شناخت 24 سالہ ایشلی ارڈ کے نام سے ہوئی۔
ایشلی کو سوشل میڈیا پر نفرت بھرے پیغامات ملنے لگے۔ کچھ لوگوں نے ان کے لیے موت کی سزا کا بھی مطالبہ کر دیا۔
اس کے بعد اگلے پانچ سالوں میں ایشلی کا قانونی مقدمہ بی بی سی کی ایک ڈاکومنٹری میں دکھایا گیا ہے۔ انھیں مقدمے کے دوران شاطر کہا گیا اور اس مقدمے کو سیکنڈ ڈگری قتل قرار دینے کی استدعا کی گئی۔
تاہم ان کی دفاعی ٹیم نے کہا کہ ایشلی مبینہ طور پر ایک پرتشدد رشتے میں رہ رہی تھیں جس میں ان کو بھی جان کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔
تو یہ بچی الاسکا کی ایک سرد رات کو باہر پارک میں کیسے پہنچی اور کیوں پہنچی۔
غیر متوازن رویے کا طوفان
ایشلی ارڈ پورٹساؤتھ ورجنیا میں پیدا ہوئی تھیں۔ اس واقعے سے قبل وہ کبھی بھی کسی قانونی مشکل میں نہیں آئی تھیں۔
وہ ایک مذہبی خاندان میں پلی بڑھیں اور ہائی سکول ختم کرنے کے بعد وہ فوج میں شامل ہوگئیں جہاں وہ ایک چیپلن کی اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنے لگیں۔
فوج میں ان کی ملاقات اپنے مستقبل کے شوہر کنارڈ سے ہوئی جو کہ ایک فوجی تھا۔ ایشلی، ان کا خاندان اور دوست سب یھی کہتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کا یہ رشتہ خوشی کا رشتہ نہ رہا اور اس میں تشدد کا عنصر شامل ہو گیا۔
ایشلی کی ایک دوست کہتی ہیں کہ ‘وہ مجھے روتے ہوئے فون کرتی تھی کہ اسے ثبوت مل گئے ہیں کہ وہ کسی اور عورت کے ساتھ ہے۔‘
کناڈر کی وفاداری کے بارے میں سوالات کے باوجود ایشلی نے اکتوبر 2011 میں کنارڈ سے شادی کر لی۔ ایک ماہ بعد وہ ان کے پہلے بچے کے ساتھ حمل سے ہوگئیں۔
اگلے سال کنارڈ کی افغانستان میں پوسٹنگ ہوگئی۔ یہ ان کا پہلا دورہ تھا۔ بچے کو جنم دینے کے لیے ایشلی اکیلی تھیں۔ جب ان کا شوہر موجود نہیں تھا تو ایشلی نے سوچا کہ وہ ورجنیا واپس چلی جاتی ہیں جہاں وہ اپنے خاندان کے زیادہ قریب ہوں گی۔
ایشلی اس بات کا بھی اعتراف کرتی ہیں کہ جب کنارڈ ملک میں نہیں تھا تو ان کا ایک اور مرد دوست سے جنسی تعلق قائم ہوا اور وہ حاملہ ہوگئیں۔ انھوں نے اس حمل کو ختم کرنے کے بارے میں سوچا مگر آخر میں ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
جب ان کے شوہر لوٹے تو ایشلی کا کہنا ہے کہ ان کے رویے میں کافی تبدیلی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ ان کے شوہر پی ٹی ایس ڈی کا شکار تھے۔ وہ غصے میں رہتے، اونچی آواز پر چونک جاتے، جلتی بجھتی روشنیوں پر چونک جاتے۔
ایشلی کا دعویٰ ہے کہ کنارڈ اپنے بستر کے نیچے پستول رکھ کر سوتے تھے اور انھوں نے کہا تھا کہ اگر وہ کسی اور سے کبھی حاملہ ہوئیں تو وہ انھیں قتل کر دے گا۔
کنارڈ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ انھوں نے ایک بار ایشلی کو مارا تھا مگر وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں جو ایشلی ان پر لگا رہی ہیں۔
کنارڈ کہتے ہیں کہ ایشلی انھیں پکڑتی تھیں اور مکے مارتی تھیں مگر میں انھیں جواباً نہیں مارتا تھا۔ ‘ایک رات ہم کسی بات پر لڑ رہے تھے اور اس نے مجھے تھپڑ مارا اور میں نے وقتی غصے میں جواب میں تھپڑ مار دیا۔‘
افغانستان سے لوٹنے کے کچھ ماہ بعد کنارڈ کو الاسکا میں ایک فوجی اڈے پر تعینات کیا گیا۔ کسی اور شخص سے حاملہ ہونے اور مبینہ تشدد کے باوجود ایشلی اپنے شوہر کے ساتھ چل پڑیں۔
کنارڈ نے پولیس اور ڈاکومنٹری بنانے والوں کو بتایا کہ انھیں یہ بالکل معلوم نہیں تھا کہ ان کی بیوی حاملہ ہیں۔ ‘انھوں نے اسے چھپایا اور بہت اچھے سے چھپایا۔ جب اپ کوئی راز رکھتے ہیں تو عجیب چیزیں ہوتی ہیں۔‘
انھوں نے پولیس کو یہ بھی بتایا کہ اس دوران ان کے اپنی بیوی کے ساتھ متواتر جنسی تعلقات رہے۔ جب انھوں نے اپنی بیوی سے وزن کے بارے میں سوال کیا تو ان کہنا تھا کہ اس کا تعلق فائیبرآئڈز سے ہے۔
ایشلی نے نو ماہ تک ہر کسی سے اپنا حمل چھپا کر رکھا۔
جس رات یہ بچی پارک میں ملی اس رات کنارڈ گھر پر نہیں تھے اور ان کا اصرار ہے کہ انھیں اس رات کے واقعات کے بارے میں اگلے دن تک کچھ پتا نہیں چلا۔
جن کنارڈ کو گھر سے گئے ساڑھے تین گھنٹے ہو چکے تھے تو پولیس کا کہنا ہے کہ ایشلی لیبر میں چلی گئیں۔ وہ گاڑی چلا کر پارک گئیں بچی کو پیدا کیا اور واپس آ گئیں۔
پولیس نے اس باتھ روم کی تصاویر بھی لی ہیں جہاں ایشلی نے بچی کو پیدا کیا اور ان میں دیواروں اور زمین پر خون ہی خون ہے۔
ایشلی کے میڈیکل ریکارڈ کے مطابق اس رات ان کے جسم سے اتنا خون بہا جو کہ ایک عام جنم میں ضائع ہونے والے خون کا پانچ گنا ہوتا ہے، تقریباً ان کے جسم کا آدھا خون۔
ان کے ہسپتال میں کیے گئے انٹرویو کی ٹیپ کے مطابق ایک پولیس اہلکار نے انھیں کہا ’ہمیں آج بچی ملی ہے۔‘ جس کے جواب میں ایشلی کہتی ہیں کہ ’کون سی بچی۔ میں نے کسی بچی کو جنم نہیں دیا۔‘
ایشلی کے خلاف سیکنڈ ڈگری قتل کا الزام عائد کیا گیا اور اگر انھیں سزا ہوتی ہے تو وہ 99 سال قید کی سزا پا سکتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘میں اس قدر تکلیف میں تھی۔ میرا اتنا خون بہا تھا۔‘
اپنے مقدمے سے پہلے ایشلی کو الاسکا میں خواتین کے لیے واحد جیل ہلینڈ ماؤنٹین کوریکشنل فسلیٹی میں رکھا گیا تھا۔
یہاں پر ہی ڈاکومنٹری بنانے والی ٹیم کو ان تک رسائی دی گئی۔ وہ کہتی ہیں کہ اس رات کے واقعات یاد کرنے میں انھیں مشکلات آ رہی ہیں۔
روتے ہوئے وہ بتاتی ہیں کہ میں بستر میں لیٹی ہوئی تھی اور مجھے پیٹ میں درد ہونے لگا۔ ‘میں جا کر شاور میں کھڑی ہوگئی۔‘
ایشلی کے دفاع میں ایک اہم رکن ڈاکٹر ڈائینا لین بارنز ہیں جنھوں نے بچوں کے قتل کے معاملات پر کئی سالوں کی تحقیق کی ہے۔
ایشلی، ان کے دوستوں اور ان کی فیملی سے بات کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچیں کہ حمل کو چھپایا گیا تھا۔
برطانوی محکمہِ صحت کے مطابق حمل کو چھپانے کا عمل اس وقت قرار دیا جا سکتا ہے جب خاتون حمل سے ہوں اور کسی کو بتائیں نہیں یا حقیقی طور پر خاتون کو معلوم ہی نہ ہو کہ وہ حمل سے ہیں۔ ان کے مطابق ایسا ذہنی بیماری یا پرتشدد رشتے کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔
کئی تحقیقوں میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ حمل کو کتنے کیسوں میں چھپایا جاتا ہے اور عموماً ایسا 2500 میں سے ایک کیس میں ہوتا ہے۔
ڈاکٹر بارنز کہتی ہیں کہ ان کے خیال میں کسی ایسے شخص کو سزا دینا درست نہیں جو کہ خود بیمار ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اس کیس میں بالکل واضح طور پر حمل کو چھپایا گیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے شوہر نے کہا تھا کہ کسی اور سے اگر تم حاملہ ہوئی تو میں تمھیں قتل کر دوں گا اور ایشلی نے اسے مان لیا۔‘
ڈاکٹر بارنز کہتی ہیں کہ پوسٹ پورٹم سائیکوسز کا بھی یہاں کردار ہو سکتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’کبھی مائیں بچے کی جان اس لیے لے لیتی ہیں کیونکہ ان کے غیر متوازن ذہنی خیال میں ان کا یہ ماننا ہوتا ہے کہ یہ بچے کے لیے بہترین راستہ ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ایشلی کے کیس میں ایسا بالکل ممکن ہے۔
ایشلی کا مقدمہ شروع ہونے سے پہلے استغاثہ کی جانب سے ایشلی کو ایک ڈیل کی پیشکش کی گئی تھی جس میں انھیں قتلِ خطا کی سزا ہوتی جو زیادہ سے زیادہ 20 سال قید ہے۔ ایشلی نے یہ پیشکش منظور کر لی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ دو دیگر تفسیاتی ماہرین کی رائے ڈاکٹر بارنز سے مختلف ہے۔
آخر میں ایشلی کو 12 سال کی سزا ہوئی اور تین سال کی سزا کم کر کے آخر میں انھیں نو سال قید کاٹنی ہے۔
بعد میں جیل سے ڈاکومنٹری بنانے والی ٹیم سے بات کرتے ہوئے ایشلی کہتی ہیں کہ انھیں جو علاج فراہم کیا جا رہا ہے اس کی مدد سے اس رات کے بارے میں بات کرنے کے قابل ہوگئی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ کنارڈ کا بچی کی موت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ میں نے اسے کیسے جنم دیا۔ ‘مجھے یاد ہے کہ میں نے اسے اپنے ہاتھوں میں اٹھایا ہوا تھا اور بستر پر رکھا۔ پھر مجھے یاد ہے کہ میں نے اسے اٹھایا اور گاڑی کی طرف چل دی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ انھیں بچے کو یہ کہنا یاد ہے کہ سوری میں تمھارا خیال نہیں رکھ سکتی مگر کوئی اور تمھارا خیال رکھے گا۔ ‘مجھے یاد ہے کہ میں نے اسے کہا کہ میں تمھیں دکان پر دیکھوں گی یا سکول میں دیکھوں گی۔ اس بات کی خیر ہے کہ تمھیں نہیں معلوم ہوگا کہ میں کون ہوں۔ مگر ایسا ہوا نہیں۔‘