امریکہ میں الیکٹورل کالج کے ارکان پیر کو ووٹ ڈال رہے ہیں، لیکن یہ افراد کون ہیں؟

    • مصنف, سیم کبرال
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، واشنگٹن
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

امریکی صدارتی انتخاب پانچ ہفتے قبل منعقد ہوا، لیکن باضابطہ طور پر اگلے صدر کو منتخب کرنے والے ووٹ جلد ہی ڈالے جائیں گے۔

جب امریکی عوام صدارتی انتخاب میں حصہ لیتے ہیں تو وہ براہ راست صدر کو ووٹ نہیں دیتے۔ دراصل وہ ان 538 ’الیکٹرز‘ کے ایک گروپ کو ووٹ دے رہے ہوتے ہیں جو مل کر الیکٹورل کالج بناتے ہیں اور ان کا کام ملک کے صدر اور نائب صدر کو چننا ہے۔

امریکہ کی تمام 50 ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی کی جانب سے انتخابی نتائج کی تصدیق کے بعد الیکٹرز 14 دسمبر کو اپنا ووٹ ڈالیں گے۔

ہم ان میں سے کچھ الیکٹرز سے آپ کا تعارف کرواتے ہیں جن میں دو عام امریکی شہری اور ایک وہ ہیں جنھیں سب جانتے ہیں۔

لیکن اس سے پہلے آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ سارا نظام کیسے کام کرتا ہے۔

کون کون الیکٹر بن سکتا ہے؟

امریکی آئین میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ الیکٹر کانگریس یا دیگر کسی ادارے کے رکن نہیں ہو سکتے یا موجودہ وقت میں کسی وفاقی عہدے پر فائز نہیں رہ سکتے۔ لہٰذا کون کون الیکٹر ہو سکتا ہے؟

  • ریٹائرڈ سیاستدان: سابق صدر بل کلنٹن نے اپنی اہلیہ ہیلری کو سن 2016 میں انتخابی ووٹ دیا تھا
  • ریاستی اور مقامی منتخب عہدیدار: نیویارک کے گورنر اینڈریو کوومو 2016 میں ڈیموکریٹک ووٹر تھے
  • کسی ریاست میں نچلی سطح پر کام کرنے والے کارکنان، لابینگ کرنے والے افراد یا دیگر شخصیات۔ ہمارے پاس اس کی دو مثال موجود ہیں
  • امیدوار سے ذاتی یا پیشہ ورانہ تعلق: پچھلی مرتبہ ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اپنے والد کے الیکٹر تھے

یہ بھی پڑھیے

الیکٹر کا انتخاب کیسے کیا جاتا ہے؟

انتخاب میں حصہ لینے والی ہر سیاسی جماعت انتخاب سے پہلے کے مہینوں میں اپنے الیکٹر نامزد کرتی ہے یا ان کے لیے ووٹ ڈالتی ہے۔ الیکٹر کا انتخاب کرنے کے لیے ریاستوں کے اپنے اصول ہیں۔

کسی بھی ریاست کی آبادی کے تناسب سے اس ریاست سے جتنی تعداد امریکی کانگریس (ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ) میں قانون سازوں کی ہوتی ہے، اس ریاست کو اتنے ہی الیکٹر ملتے ہیں۔

جب ہمیں یہ پتا چل جائے کہ کسی ریاست میں عوامی ووٹ کس نے جیتا ہے، تو اس سے ہمیں یہ بھی پتا چلتا ہے کہ کون سی پارٹی اس ریاست کے لیے الیکٹر مقرر کرے گی۔

الیکٹرز کی حیثیت ربر سٹامپ کی سی ہوتی ہے، یعنی ان کا کام صرف کامیاب امیدوار کی جیت کو رسمی شکل دینا ہوتا ہے۔ لہٰذا عموماً یہ افراد اس پارٹی کے وفادار اور حامی ہوتے ہیں۔

الیکٹرز کا کردار کیا ہوتا ہے؟

الیکٹرز پہلے ہی کسی مخصوص امیدوار کے لیے اپنی حمایت کا وعدہ کر چکے ہوتے ہیں، لہٰذا وہ ہمیشہ وعدے کے مطابق ہی ووٹ دیتے ہیں۔

لیکن 2016 میں اس میں اس وقت تبدیلی آئی جب نام نہاد ’بے وفا الیکٹرز‘ کی ایک تاریخی تعداد نے جن امیدواروں کی حمایت کرنے کا وعدہ کیا تھا ان کے خلاف دوسرے امیدوار کو ووٹ ڈالا۔ ان میں سے پانچ ووٹ کلنٹن کے خلاف جبکہ دو ٹرمپ کے خلاف تھے۔

سنہ 1948 کے بعد یہ پہلا الیکشن تھا جس میں ایک سے زیادہ الیکٹرز نے بے وفائی کی۔

اس کے بعد سے ریاستوں نے بے وفا ووٹرز کے خلاف قواعد کو مستحکم کیا ہے اور ایسے قوانین متعارف کروائے گئے ہیں جن کے مطابق اگر الیکٹرز وعدے کے مطابق ووٹ نہیں دیتے ہیں تو انھیں عہدے سے ہٹایا جا سکے اور ان کے ووٹوں کو منسوخ کروا دیا جائے۔ اس اقدام کو امریکی سپریم کورٹ کی حمایت حاصل ہے۔

2020 میں کیا ہونے والا ہے؟

صدر ٹرمپ کو انتہائی اہم شخصیات کی حمایت حاصل ہے، لہٰذا جن ریاستوں میں ٹرمپ کو کامیاب نہیں ملی، انھوں نے ان ریاستوں میں ریپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے ریاستی قانون سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی ووٹ کے نتائج کو مسترد کرکے اپنے الیکٹرز مقرر کریں۔

انتخابی قانون کے ماہرین کو شبہ ہے کہ شاید ایسا ممکن ہے اور ری پبلکن ریاستی رہنماؤں نے اس تجویز پر زور لگانا شروع کر دیا ہے۔

امریکہ کا صدر بننے کے لیے کسی بھی امیدوار کو 538 میں سے 270 یا اس سے زیادہ الیکٹرز کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

اگر الیکٹرز اپنی ریاستوں کے مصدقہ نتائج کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں تو وہ جو بائیڈن کو 306 اور ڈونلڈ ٹرمپ کو 232 ووٹ دیں گے، اس طرح بائیڈن کو باضابطہ طور پر صدارت سونپ دی جائے گی۔

’میں نیویارک میں ایک الیکٹر ہوں‘

اس سال کی سب سے مشہور الیکٹر ہیلری کلنٹن ہیں۔

سابق وزیرِ خارجہ اور سابق خاتونِ اول کو صدر ٹرمپ کے خلاف سنہ 2016 کے صدارتی انتخاب میں شکست ہوئی تھی، لیکن اس سال نیویارک سے بطور الیکٹر وہ ٹرمپ سے اپنا بدلہ لے پائیں گی۔

ہیلری کلنٹن نے اپنے الیکٹر بننے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو بائیڈن اور کملا ہیرس کے لیے ووٹ ڈالنا خاصا ’دلچسپ‘ ہو گا۔

تاہم اس سے قبل ہیلری کلنٹن نے الیکٹورل کالج کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ صدور کا انتخاب عوامی ووٹ کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔

ٹرمپ کے مقابلے میں تقریباً 30 لاکھ زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے باوجود سنہ 2016 میں وہ الیکٹورل کالج میں شکست سے دوچار ہوئی تھیں۔

یہ حقیقی تبدیلی ہے

کھرے پینی بیکر تین بچوں کے والد، ایک چھوٹے کاروبار کے صدر اور ایک ڈیموکریٹ ہیں۔ وہ بائیڈن اور کملا ہیریس کو اپنا الیکٹورل کالج ووٹ دینے والے وسکونسن ریاست کے 10 ووٹروں میں سے ایک ہیں۔

پینی بیکر 2017 سے ریاست کی منتخب ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے نمائندوں میں سے ایک ہیں اور سنہ 2016 میں انھوں نے کانگریس کے لیے انتخاب بھی لڑا تھا، لہٰذا وہ وسکونسن کی پارٹی سیاست میں ایک جانا پہچانا چہرہ ہیں۔

پینی بیکر کہتے ہیں ’سنہ 2016 میں میں ہیلری کلنٹن کا الیکٹر تھا، لیکن مجھے امریکہ کی پہلی خاتون صدر کے لیے اپنا ووٹ ڈالنے کا موقع نہیں ملا۔ کم از کم اب میں جو بائیڈن کے لیے اپنا ووٹ ڈال سکتا ہوں، جو معاشرے اور شائستگی کی علامت کو بحال کرنے جا رہے ہیں۔‘

وہ اپنی ریاست کے دو سیاہ فام الکیٹرز میں سے ایک ہوں گے اور ہیرس کے نائب صدر بننے کے امکان سے بہت پرجوش ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’غیر سفید فام افراد کے طور پر ہم نہیں چاہتے کہ ہمیں ایک دشمن کی حیثیت سے دیکھا جائے۔ پہلی غیر سفید فام خاتون نائب صدر ہمیں یہ امید دلاتی ہیں کہ ہمارے پاس کوئی ایسا شخص ہے جو ہمیں برابری کا درجہ دے گا اور انسانوں کی طرح دیکھے گا۔‘

یہ ایک بہت ہی معزز عہدہ ہے

نیومی نارویز پانچ بچوں کی والدہ، ایک کمیونٹی کارکن اور ایک سخت گیر ریپبلکن ہیں۔ وہ ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ان 38 الیکٹرز میں سے ایک ہوں گی جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر مائیک پینس کے لیے اپنا الیکٹورل کالج ووٹ ڈالیں گے۔

ٹیکساس میں ریپبلکن پارٹی کی عہدیدار ہونے کے علاوہ، نارویز مختلف سطحوں پر سرگرم عمل رہی ہیں۔ نارویز کو ان کی بھابی (ایک سابقہ ​​منتخب عہدیدار) نے الیکٹر نامزد کیا تھا۔ اور پھر اس سال کے شروع میں ریاستی پارٹی کے کنونشن میں باقاعدہ طور پر انھیں الیکٹر کے لیے منتخب کر لیا گیا۔

نارویز کہتی ہیں ’یہ ایک انتہائی معزز عہدہ ہے، اور میں بہت شکرگزار ہوں کہ میرے ضلعے کے لوگوں نے ووٹ دے کر مجھے اس اعزاز سے نوازا ہے۔‘

ٹیکساس ان 17 ریاستوں میں سے ایک ہے جو اپنے الیکٹر کو اس شخص کو ووٹ ڈالنے کا پابند نہیں کرتی جس نے ریاست کا مقبول ووٹ حاصل کیا ہو۔ سنہ 2016 کے انتخاب میں حصہ لینے والے ان سات بے وفا الیکٹرز میں سے اس ریاست کے دو ووٹر بھی شامل تھے، جنھوں نے سابقہ ​​صدارتی امیدوار جان کاسش اور رون پال کو ووٹ ڈالا تھا۔

نارویز کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے لیے ان کی حمایت مستحکم ہے: ’میں یہ یقینی بنانا چاہتی ہوں کہ ہمارے کانگریسی ضلع کی نمائندگی کی جائے اور ہمارے پاس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دینے کے لیے ایک وفادار الیکٹر ہو۔ اور میں جانتی ہوں کہ وہ شخص میں ہوں گی۔‘