آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکی شہر پورٹ لینڈ میں پرتشدد مظاہروں کے دوران ایک شخص ہلاک، ٹرمپ اور بائیڈن کی ایک دوسرے پر الزام تراشی
امریکہ کی ریاست اوریگون کے سب سے بڑے شہر پورٹ لینڈ میں پرتشدد مظاہروں کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ڈیموکریٹک حریف جو بائیڈن ایک دوسرے پر الزام دھرتے نظر آئے۔
صدر ٹرمپ نے پورٹ لینڈ شہر کے ڈیموکریٹک میئر ٹیڈ وہیلر پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے ’شہر میں موت اور تباہی‘ ہونے دی۔
تاہم بائیڈن نے کہا کہ صدر ٹرمپ اپنی ’لاپرواہ (بیانات سے) تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔‘
اتوار کو پورٹ لینڈ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں اور’بلیک لائیوز میٹرز‘ نامی مہم کے حامیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں میں ایک شخص کی گولی لگنے سے ہلاکت ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے:
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر پورٹ لینڈ کے میئر وہیلر نے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا پر متعدد پوسٹس میں شہر میں داخل ہو کر بدلہ لینے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ایسے افراد جو صبح سے ٹوئٹر پر کہہ رہے ہیں کہ ہم پورٹ لینڈ آ کر بدلہ لیں گے میں آپ سے کہنا چاہوں گا کہ یہاں سے دور رہیں۔‘
انھوں نے صدر ٹرمپ کی جانب سے کی جانے والی تنقید پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دراصل امریکی صدر ہی ہیں جنھوں نے ’نفرت اور تقسیم کی بنیاد رکھی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ 'مجھے خوشی ہو گی اگر صدر ہماری مدد کریں ورنہ وہ اس مسئلہ سے دور رہیں۔'
چند سماجی کارکنان کی جانب سے میئر سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ مظاہروں سے نمٹنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔
یاد رہے کہ رواں برس 25 مئی کو ریاست مینوسوٹا کے شہر منی ایپولس میں پولیس کے ہاتھوں ایک نہتے سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد پولیس کی جانب سے کیے جانے والے تشدد اور نسلی تعصب کے خلاف امریکہ اور پوری دنیا میں مظاہرے شروع ہوئے تھے جس کے بعد سے پورٹ لینڈ شہر بھی مظاہروں کا مرکز رہا ہے۔
’یہ ٹرمپ کا امریکہ ہے‘
اتوار کو متعدد ٹویٹس کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پورٹ لینڈ کو کبھی بھی ایک بیوقوف میئر بحال نہیں کر سکتا ہے' اور انھوں شہر میں وفاقی فورسز بھجوانے کی تجویز بھی دی۔
انھوں نے بائیڈن پر الزام عائد کیا کہ وہ 'رہنمائی کرنے سے کتراتے ہیں۔'
اس کے جواب میں جو بائیڈن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ '(ٹرمپ) یہ سمجھتے ہیں کہ امن و امان کے حوالے سے ٹویٹ کرنے سے وہ طاقتور ہوں گے لیکن ان کی جانب سے اپنے حامیوں کو کشیدگی بڑھانے سے روکنے کی بات نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کتنے کمزور ہیں۔'
امن و امان صدر ٹرمپ کی اتخابی مہم کا اہم موضوع ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ ڈیموکریٹس اور ان کے امیدوار بائیڈن جرم کے حوالے سے نرمی برتتے ہیں۔
اس سے قبل امریکہ کے قائم مقام ہوم لینڈ سکیورٹی سیکریٹری چاڈ وولف نے کہا تھا کہ ڈیموکریٹ حکام نے پورٹ لینڈ میں 'لاقانونیت اور افراتفری' کے پھیلاؤ کی اجازت دی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ’تمام آپشن‘ زیرِ غور ہیں۔
ڈیموکریٹس نے اس حوالے سے ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کی صدارت میں پرتشدد واقعات ہو رہے ہیں۔ انھوں نے امریکی صدر پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے اپنے بیانیے کے ذریعے صورتحال کو مزید خراب کیا ہے۔
پورٹ لینڈ شوٹنگ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
اتوار کی شام پورٹ لینڈ کی پولیس نے اپنے بیان میں کہا تھا ’پورٹ لینڈ کے پولیس اہلکاروں نے ساؤتھ ایسٹ تھرڈ ایونیو اور ساؤتھ ویسٹ آلڈر سٹریٹ کے علاقے سے گولی چلنے کی آوازیں سنی تھیں۔ انھوں نے فوراً کارروائی کی اور جائے وقوع پر اس متاثرہ شخص کا پتا لگایا جس کے سینے میں گولی لگی تھی۔ طبی عملے نے متاثرہ شخص کا جائزہ لیا جس میں یہ معلوم ہوا کہ اس کی موت ہو چکی ہے۔‘
جائے وقوع سے موصول ہونے والی تصاویر میں طبی عملہ جس شخص کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے وہ بظاہر ایک سفید فام شخص نظر آتا ہے۔
پولیس نے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے اور نہ ہی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شوٹنگ کا یہ معاملہ شہر کے مرکز میں ہونے والی جھڑپوں سے براہ راست منسلک ہے یا نہیں۔
حالیہ ہفتوں میں پورٹ لینڈ کی سڑکوں پر مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ جبکہ جولائی کے مہینے میں صدر ٹرمپ کی جانب سے پورٹ لینڈ میں وفاقی فورسز بھیجی گئی تھیں۔
پورلٹ لینڈ شہر میں صدر ٹرمپ کی حمایت میں ہر سنیچر کو ہونے والی لگاتار یہ تیسری ریلی تھی۔
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص نے جو ٹوپی پہنی ہوئی تھی اس کا تعلق انتہائی دائیں بازوں کے گروپ 'پیٹروٹ پرئیر' سے تھا۔
یہ بھی پڑھیے:
شوٹنگ کا پس منظر کیا ہے؟
شہر کے مرکزی علاقے میں شوٹنگ کا یہ معاملہ اس وقت پیش آیا جب صدر ٹرمپ کے حامیوں اور بلیک لائیوز میٹرز( یعنی بی ایل ایم) مہم کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
حالات اس وقت کشیدہ ہوئے جب 600 گاڑیوں کا ایک قافلہ پورٹ لینڈ شہر میں داخل ہونے سے پہلے شہر کے مضافاتی علاقے کلاکامس کے ایک مال میں آکر رکا۔ ان گاڑیوں تقریبا ایک ہزار ٹرمپ کے حامی سوار تھے ۔
جو ویڈیوز منظر عام پر آئے ہیں ان میں صدر ٹرمپ کے حامی بلیک لائیوز میٹرز کے حامیوں پر بقول مقامی میڈیا کے 'پیپر سپرے' پھینک رہے ہیں۔ بی ایل ایم گروپس نے گلیوں کے راستے بند کرکے صدر ٹرمپ کے حامیوں کو شہر میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں گروپوں کے درمیان ' تشدد کے بعض واقعات' پیش آئے ہیں اور بعض افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
تشدد کا یہ واقعہ گزشتہ ہفتہ منعقد ہونے والی رپبلیکن پارٹی کی کنویشن میں صدر ٹرمپ کو صدارتی امیدوار بنانے کے اعلان کے بعد پیش آیا ہے۔
صدر ٹرمپ کی نامزدگی
نامزدگی قبول کرنے کے بعد وائٹ ہاؤس کے باہر لان میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی پورٹ لینڈ دوسرا ایسا ڈیموکریٹک پارٹی کے زیر اقتدار والا علاقہ ہے جو ' فسادات ،لوٹ مار، آگ زنی اور تشدد ' کا شکار ہے۔
یہ جھڑپیں ایک ایسے وقت میں ہوئی جب گزشتہ ہفتے ریاست وسکونسن میں پولیس نے ایک نہتے سیاہ فام شخص پر گولی چلائی تھی۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جیکب بلیک نامی شخص اپنے گاڑی میں بیٹھنے کے لیے جا رہا تھا تبھی ایک پولیس اہلکار نے اس پر سات بار گولی چلائی جس کے نتیجے میں شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ وسکونسن کے کینوشا شہر میں پیش آیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ کینوشا کے دورہ کریں گے۔ کینوشا میں بڑے پیمانے پر پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔
پورٹ لینڈ شہر میں جارج فلائیڈ کے ہلاکت کے بعد ہونے والے بعض مظاہروں میں تشدد، آگ زنی، عمارتوں کو نقصان کے واقعات پیش آئے تھیں۔ اس دوران پولیس نے بعض افراد کو گرفتار کیا تھا جبکہ پولیس کے ہاتھوں کے تشدد کی بھی شکایات سامنے آئی تھیں۔
جولائی کے مہنیے میں مرکزی پولیس اہلکاروں کی اس بات کی شدید تنقید ہوئی تھی مقامی حکام کے مرضی کے خلاف انہوں نے شہر میں جمع ہونے والے لوگوں کے ہجوم کے خلاف کاروائی کی تھی۔
مرکزی پولیس اہلکار عام گاڑیوں میں آتے تھے اور زبردستی مظاہرین کو پکڑ لیتے تھے اور بغیر کسی جواز کے انہیں حراست میں لے لیتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ان مظاہرین کو پرتشدد ہجوم قرار دیا تھا لیکن مقامی اہلکاروں نے پرامن مظاہرین اور شر پسند عناصر میں فرق کیا تھا۔
اس کے علاوہ بھی پورٹ لینڈ میں دائیں بازوں اور بائیں بازوں کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہیں ہیں۔