آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
برازیل میں پھلوں کی صنعت میں انسانوں سے غلاموں جیسا سلوک، ’اتنے پیسوں میں گزارا نہیں ہو سکتا‘
- مصنف, جیووانا فلیک
- عہدہ, بی بی سی برازیل
- وقت اشاعت
ہوزِ ایوانڈرو ڈی سلوا، پھلوں کے باغات میں کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہاں دس سال کام کیا ہے لیکن اب ان سے اور برداشت نہیں ہوتا۔
25 برس کے ہوزے کے مطابق انھیں یہاں کام کر کے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ وہ ایک 'غلام' ہوں۔
ہوزے 10 برس تک برازیل کے شمال مشرقی علاقے میں تربوز کے باغات پر کیڑے مارنے والی ادویات چھڑکتے رہے۔ لیکن گزشتہ برس ان سے رہا نہیں گیا اور انھوں نے کام چھوڑ دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ انھیں کبھی بھی حفاظتی لباس مہیا نہیں کیا گیا اور اس سے ان کی صحت پر بہت برا اثر پڑا ہے : 'ان ادویات کی وجہ سے مجھے روز کام ختم کرنے کے بعد سر میں درد ہوتا۔ وہاں پر پانی اور صابن نہیں ہوتا تھا اور آپ ہاتھ تک نہیں دھو سکتے تھے'۔
برازیل میں اس طرح کی کہانیاں نئی نہیں۔ یہاں سینکڑوں لوگ آم، تربوز، کینو، اور انگور کی کاشت اور ان کے پودے لگنے میں مدد کرتے ہیں۔ یہ ساری پیداوار ہمیں یورپ اور امریکہ کی مارکیٹوں میں سستے داموں ملتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برازیل، پھلوں کی پیداوار کے شعبے میں دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ چین اور انڈیا اس فہرست میں اس سے آگے ہیں جبکہ امریکہ کا نمبر چوتھا ہے۔ لیکن نارنجی کے پھل کی کاشت اور پیداوار میں برازیل پہلے نمبر پر ہے۔ دنیا بھر میں فروخت ہونے والی ہر چار کینوؤں میں سے ایک کینو برازیل سے آتا ہے۔
برازیل میں پھلوں کی مارکیٹ بہت کامیاب اور منافع بخش کاروبار ہے۔دیہی علاقوں میں کام کرنے والے ورکروں کے ادارے کے مطابق باغات میں کام کرنے والے لوگوں کی تعداد اڑتالیس لاکھ ہے۔برازیل کی وزارتِ معیشیت کے مطابق یہ صنعت برازیل میں دس ارب ڈالر کا زرِمبادلہ پیدا کرتی ہے۔
برطانیہ کے فلاحی ادارے کی برازیلی شاخ آکسفیم برازیل کے مطابق اس سارے عمل میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اتنا بڑا منافع پیدا کرنے کے باوجود یہ رقم باغات میں کام کرنے والے ورکروں تک نہیں پہنچتی۔
آکسفیم برازیل کی ایک تحقیق کے مطابق باغات میں کام کرنے والی برازیلی ملک کے سب سے غریب 20 فیصد طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جیسا کہ ہوزے ڈا سلوا۔
برازیل میں آم توڑنے کا موسم ستمبر اور اکتوبر میں اپنے عروج پر ہوتا ہے اور برطانیہ میں بکنے والے آموں میں سے آدھے آم برازیل سے آتے ہیں۔
اس پوری سپلائی چین میں سب سے آگے 'پکرز' ہوتے ہیں، یعنی کہ وہ لوگ جن کا کام باغات سے پھل توڑنا ہے اور ان میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔
25 برس کی کارمن سوزا کا شمار بھی انہی خواتین میں ہوتا ہے۔ ریو گرانتے ڈو نورتے نامی اس ریاست میں کارمن بہت عرصے سے کام کررہی ہیں۔ برازیل میں کم سے کم اجرت کے حوالے سے قانوں بھی ہے، لیکن کارمن کو صرف پانچ ماہ کام ملتا ہے جب پھلوں کو توڑنے کا موسم عروج پر ہوتا ہے۔
وہ ایک سال میں 900 پاؤنڈ یا تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار کماتی ہیں۔جو کہ ماہانہ تقریباً 15 ہزار روپے بنتے ہیں۔ انھیں اس رقم سے سارا سال گزارا کرنا پڑتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ کسی بھی مزدور کے لیے یہ بہت کم رقم ہے لیکن یہ کچھ نہ کرنے سے بہتر ہے۔
برازیل کے جنوب مشرقی شہر ساؤ پاؤلو میں محقق گستاوؤ فیرونی نے آکسفیم برازیل کی شائع ہونے والی رپورٹ کے شریک مصنف ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ اس لیے بھی شدت اختیار کرتا جارہا ہے کیونکہ زراعت کے شعبے میں اجاراداری بڑی کمپنیوں کی ہے لیکن وہ استعمال چھوٹے پیداواری کاروباروں کا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اجرت بڑھانے اور حالات میں بہتری لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ بھی ہے کہ مزدور اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر آواز اٹھائی تو ان سے نوکری سے نکال دیا جائے گا۔
گستاوؤ فیرونی کا کہنا ہے: 'یہ کہنا کہ کوئی بھی کام بیکار بیٹھنے سے بہتر ہے، اس لیے غلط ہے کیونکہ اس سے آپ بدترین حالات میں بھی کام کرتے ہیں اور یہ، معاشی شعبے کو اپنی ذمہ داری سے بری کردیتا ہے۔ یہ ناانصافی ہے، پھلوں کا کام بہت زیادہ دولت پیدا کرتا ہے اور اس کا تقسیم کا طریقہ کار بہتر ہونا چاہیے۔'
آکسفیم نے برازیلین حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں کم سے کم اجرت میں اضافہ کریں اور باغات کی انسپیکشن اور معائنے کے طریقے کار میں بہتری لائیں تاکہ
اس بات کی یقین دہانی ہو کہ ورکروں کے ساتھ بدسلوکی نہ ہو۔ورکروں کو یونین میں بھی شامل ہونے کی اجازت دی جانی چاہیہ اور کیڑے مار دوائیوں کی منظوری کا بھی دوبارہ جائزہ لیا جائے۔
معاشی امور کی ماہر پیٹریثیا پیلیٹیئری کہتی ہیں کہ برازیل میں 998 ہیائس کی ماہانہ کم از کم اجرت کافی نہیں۔ اسے بڑھا کر 1800 کردینا چاہیے اور یہ 12 ماہ تک ملنی چاہیے۔
(ہیائس برازیل کی کرنسی ہے اور ایک ہیائس 37 پاکستانی روپوں کے برابر ہے)
برازیل کی حکومت سے جب اس حوالے سے بات کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا تو وزارتِ زراعت نے اس پر بات کرنے سے انکار کردیا اور محنت اور ادرادی قوت کی وزارت نے کوئی جواب نہیں دیا۔
آکسفیم کی اس رپورٹ میں جن بڑی کمپنیوں پر تنقید کی گئی ہے جان میں کیلیمان نامی کمپنی بھی شامل ہے۔ اس کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ 'اس رپورٹ میں پیش کی گئی حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں'۔
مغربی یورپی کا 67 فیصد پھل ممالک برازیل سے آتا ہے۔ اس میں سب سے آگے برطانیہ اور ہالینڈ ہیں۔ آکسفیم نے دونوں ملکوں کی سپر مارکیٹوں سے کہا ہے کہ وہ
نہ صرف پھلوں کے ذرائع اور سپلائی چین کی نگرانی کریں بلکہ کاشکاروں اور سپلائیر پر بھی دباؤ ڈالیں کہ وہ مزدوروں کے حالات بہتر کریں۔
ادھر برازیل کے بہیا ضلع میں ڈا سلوا کہتے ہیں کہ انھیں کام چھوڑے ایک سال کا عرصہ بیت گیا ہے۔
'جب میں نے کمپنی چھوڑی تو میرے مینیجر نے مجھے کہا کہ اگر میں ان پر مقدمہ کرتا ہوں تو مجھے اس خطے میں کوئی بھی کمپنی دوبارہ کام نہیں دے گی۔'
انھوں نے کمپنی پر مقدمہ نہیں کیا، انھیں امید ہے کہ علاقے میں بننے والے ایک ونڈ فارم پر انھیں جلد ہی کام مل جائے گا۔