آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
صدر ٹرمپ پر تنقید: بی بی سی نے میزبان ناگا منشیٹی کے خلاف دیا گیا فیصلہ واپس لے لیا
بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل لارڈ ہال نے بی بی سی کے شکایات سیل کے میزبان ناگا منشیٹی کے خلاف جزوی طور پر فیصلے کو تبدیل کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دے دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی بی سی کے بریک فاسٹ شو کی میزبان ناگا منشیٹی کے الفاظ ان کے خلاف شکایت کو جزوی طور پر بھی جائز قرار دینے کے لیے ناکافی تھے۔
ناگا منشیٹی نے جولائی میں امریکی صدر کے تبصروں کا معاملہ اٹھایا تھا جب انھوں (ٹرمپ) نے اپنے مخالفین کو کہا تھا کہ 'وہ جس جگہ سے آئی ہیں وہیں واپس چلی جائیں۔'
شکایت سیل کا کہنا تھا کہ اس کے پروگرام 'بی بی سی بریک فاسٹ' کی میزبان اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا حق رکھتی ہیں لیکن انھوں نے ادارے کے 'قواعد و ضوابط سے تجاوز کیا۔'
تاہم لارڈ ہال کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس فیصلے کی از خود نظرِ ثانی کی ہے۔ پیر کے روز انھوں نے کہا کہ نسل پرستی نسل پرستی ہے اور بی بی سی اس معاملے پر غیر جانبدار نہیں ہے۔
یاد رہے کہ ابتدائی فیصلے کے بعد درجنوں سیاہ فام اداکاروں اور میڈیا سے منسلک شخصیات نے بی بی سی سے اپنا فیصلہ تبدیل کرنے کے لیے کہا تھا۔
بی بی سی کی ایک ترجمان نے ابتدائی فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایگزیکٹو کمپلینٹ یونٹ (ای سی یو) نے فیصلہ دیا ہے کہ 'اگرچہ ناگا منشیٹی 'اپنے ملک واپس چلے جائیں' کے جملے پر ذاتی ردعمل دینے کی حقدار تھیں لیکن مجموعی طور پر ان کے تبصرے نے ادارے کے 'قواعد و ضوابط سے تجاوز کیا۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سکرپٹ سے ہٹ کر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تبصرے کے بعد 17 جولائی کو پروگرام 'بی بی سی بریک فاسٹ' میں بات کرتے ہوئے ناگا منشیٹی نے کہا تھا کہ: 'ایک سیاہ فام خاتون کی حیثیت سے جب بھی مجھے یہ سننے کو ملا کہ تم جہاں سے آئی ہو وہیں واپس چلی جاؤں، تو اس کی بنیاد نسل پرستی تھی۔'
'میں یہاں کسی پر کوئی الزام عائد نہیں کر رہی ہوں، لیکن آپ کو معلوم ہے کہ کچھ جملوں کا کیا مطلب ہوتا ہے ۔'
ناگا منشیٹی نے کہا انھیں 'بہت غصہ' آیا اور انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں بہت سے لوگوں کو بھی ایسا ہی محسوس ہوا ہوگا۔
انھوں نے اپنے ساتھی میزبان ڈین واکر کو بتایا 'میرے خیال میں اس ملک کے بہت سے لوگوں کو اس بات پر غصہ آئے گا کہ اس عہدے پر فائز شخص کو لگتا ہے وہ اس طرح کی زبان استعمال کر کے حدیں پار کر سکتا ہے۔'
یاد رہے کہ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر ڈیموکریٹک پارٹی کی الہان عمر، الیگزیندریا اوکاسیو کورٹیز، آیانہ پریسلے اور راشدہ طالب کے حوالے سے کئی بیان دیے تھے۔
انھوں نے 14 جولائی کو ٹوئٹر پر لکھا 'وہ واپس جا کر ان ٹوٹے ہوئے جرائم سے متاثرہ علاقوں کو ٹھیک کیوں نہیں کرتیں جہاں سے وہ آئی ہیں۔'
بی بی سی کے چند صحافیوں نے اس فیصلے پر اپنی ناپسندیگی کا اظہار کیا تھا۔
تنخواہ میں عدم مساوات کے تنازع میں اپنے عہدے سے استعفی دینے والی چینی مدیر اور میزبان کیری گریسی نے کہا کہ اس فیصلے کی وجہ سے بی بی سی کے صحافیوں میں 'بے چینی' پیدا ہوئی ہے جن کے لیے واپس جانا 'نسل پرستانہ' ہے۔ انھوں نے ای سی یو سے اپنے فیصلے کی وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا۔
بی بی سی کی نامہ نگار سنگیتا مائسکا نے ٹویٹ کی 'اس فیصلے کی وجہ سے بی بی سی میں کام کرنے والے اقلیتی عملے میں اضطراب پایا جاتا ہے۔' ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے لوگوں کو ہر شعبے میں ایک انوکھے طرز کی سیلف سینسرشپ کرنا پڑتی ہے۔
سنگیتا مائسکا کی حمایت میں میزبان میتھیؤ پرائس نے ٹوئٹر پر کہا کہ 'سفید فام سٹاف میں بھی اضطراب (اور کچھ غصہ) پایا جاتا ہے۔۔۔ اور میں اس سے اتفاق کرتا ہوں کہ اس معاملے پر کھلم کھلا بات کرنے کے حوالے سے ہچکچاہٹ ہے۔'
جب میزبان ناگا منشیٹی نے جولائی میں یہ بات کی تھی تو ان کی بہت تعریف کی گئی تھی۔