گرینیڈا کے انڈیانا جونز: وہ انسان جس نے اپنے ہاتھوں سے اپنے ملک کا نقشہ بنایا

    • مصنف, سٹیف کیلن اور کرس بلیک
    • عہدہ, بی بی سی ٹریول
  • وقت اشاعت

جزائر غرب الہند کے ملک گرینیڈا کے خوبصورت ساحلوں سے بڑھ کر اگر آگے کی بات کی جائے، تو یہ جزیرہ قدرتی نظاروں میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے جنت سے کم نہیں ہے جہاں بارانی جنگلات، آبشاریں اور بڑے بڑے پہاڑی سلسلے ہیں۔

اور گذشتہ 60 برسوں کے دوران جس کسی نے بھی گرینیڈا کے ’گرینڈ ایٹانگ نیچر ریزرو ‘کا دورہ کیا ہے، ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ انھیں نے ٹیلفور بیڈیو نامی شخص کو وہاں کی پگڈنڈیوں اور راستوں سے گزرتے نہ دیکھا ہو۔

معروف فلمی کردار انڈیانا جونز کی مناسبت سے ’گرینیڈا کے انڈیانا جونز‘ کہلائے جانے والے ٹیلفور بیڈیو اپنے ملک کی کسی مشہور شخصیت سے کم نہیں ہیں۔

ان کی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے ملک کے طول و عرض، جو کہ 16 ہزار کلومیٹر رقبے پر محیط ہے، کا چپہ چپہ گھوما ہوا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے اس جزیرے کی سب سے بلند چوٹی، ماؤنٹ سینٹ کیتھرین، کو 217 بار سر کیا ہوا ہے۔

اس جزیرے پر موجود قدرتی حیات سے اُن کی محبت اور اُن کی معلومات کا مقابلہ صرف اُن کی سفر کرنے کی جستجو سے کیا جا سکتا ہے، جس کے تحت انھوں نے اپنے ملک کے گرد ایک چھوٹی سے کشتی پر رُکے بغیر متعدد بار سفر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹیلفور بیڈیو اپنے ملک سے صرف ایک بار دور گئے تھے جب سنہ 1958 میں انھوں نے معروف برطانوی مصنفین چارلس ڈکنز اور شیکسپیئر سے متاثر ہو کر انگلینڈ کا دورہ کیا تھا۔

وہاں پر انھوں نے برٹش ریلوے میں ملازمت بھی اختیار کی مگر جب وہاں کا موسم انھیں بہت سرد لگا تو وہ ایک سال بعد واپس آ گئے اور اس جزیرے پر اپنے پسندیدہ مشغلے دوبارہ شروع کر دیے۔ ان کے مشغلے جیسا کہ گرینیڈا کے ساحلوں کے گرد کشتی رانی کرنا، وہاں غوطہ خوری کرنا اور جزیرے کے بارانی جنگلات میں گھومنا پھرنا وغیرہ۔

ٹیلفور بیڈیو نے اپنے ایڈونچرز کا تحریری ریکارڈ سنہ 1962 سے رکھنا شروع کیا اور اس حوالے سے انھوں نے اپنے جزیرے کے نقشے بنانے شروع کیے اور ان مقامات پر پہنچے جہاں اُن سے پہلے کوئی نہیں گیا تھا۔

ان کے کام کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا گیا اور سنہ 1989 میں گرینیڈا کے محمکہ سیاحت نے انھیں بطور گائیڈ نوکری دے دی۔

اس کے بعد سے ٹیلفور بیڈیو کی بطور گائیڈ شہرت دنیا بھر میں پھیل گئی ہے اور جو بھی سیاح گرینیڈا آتا اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ٹیلفور بیڈیو کے ساتھ گرینڈ ایٹانگ کی سیر کرے اور اس جزیرے کو ٹیلفور کی آنکھ سے دیکھے۔

یہ قطعی مبالغہ آرائی نہیں ہے کہ ٹیلفور بیڈیو کو اس جزیرے کے ہر پودے، جانور اور آبشار کے بارے میں علم ہے اور اپنے ٹور میں وہ ان پرانے راستوں کی بھی نشاندہی کرتے ہیں جن کو استعمال کرتے ہوئے مقامی افراد 18ویں صدی میں برطانوی سامراج سے بچ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

ٹیلفور اب عمر کی آٹھویں دہائی میں ہیں لیکن ان کا سیر کا شوق اور جستجو ابھی بھی پہلے جیسا ہے مگر اب ان کے گھٹنوں میں پرانی ہمت اور توانائی نہیں رہی۔

آنے والے چند ماہ میں وہ اپنے ٹورز کرانے بند کر دیں گے اور گرینیڈا کے کاریکوؤ جزیرے میں رہائش اختیار کر لیں گے جہاں انھوں نے اپنے لیے ایک چھوٹا سے گھر بنایا ہے۔

لیکن ان کا کشتی رانی چھوڑنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں ’میں اپنی زندگی کے باقی ماندہ دن کاریکوؤ میں اپنی چھوٹی سی کٹیا میں گزارنا چاہتا ہوں۔ میں 81 برس کا ہو گیا ہوں اور آپ نہیں جانتے کہ آپ کے جسم کے ساتھ (اس عمر میں) کیا ہو جائے۔ لیکن مجھے سب سے زیادہ خوشی اس وقت ہوتی ہے جب میں ہائیکنگ کر رہا ہوتا ہوں، کشتی رانی کر رہا ہوتا ہوں یا باغبانی کر رہا ہوتا ہوں۔ جب تک میرا جسم اجازت دے گا میں یہ کرتا رہوں گا۔‘

ٹیلفور بیڈیو نے اپنی معلومات کے ذخیرہ کو اپنے شاگرد سائمن گرین کے ہاتھوں میں دیا ہے جو اب گرینیڈا آنے والے سیاحوں کو سیر کراتے ہیں اور ان تمام تحریری ریکارڈز اور نقشوں کو اپڈیٹ رکھتے ہیں جو ٹیلفور نے بنانے شروع کیے تھے۔

سائمن کہتے ہیں کہ جب ٹیلفور نے یہ سلسلہ شروع کیا تھا تو لوگوں کو اندازہ نہیں تھا اور وہ اس کی اہمیت نہیں جانتے تھے کہ یہ بارانی جنگلات کتنے اہم ہیں اور وہ ان جنگلات کو جزیرے کا ایک خطرناک حصہ سمجھتے تھے۔

'لیکن ٹیلفور نے وہ کیا جو کسی نے آج تک سوچا بھی نہیں تھا۔ اور یہ انھی کی بدولت ہے کہ لوگوں کے رویے بدلے ہیں اور پھر نوے کی دہائی میں حکام کو بھی ٹیلفور کے کام کی اہمیت سمجھ آئی اور گرینیڈا میں ماحولیاتی سیاحت کا آغاز ہوا۔‘

ٹیلفور بیڈیو کے پاس کبھی بھی کوئی کمپیوٹر نہیں رہا اور انھوں نے اپنے تحریری ریکارڈز اور اپنے اشتہارات ہمیشہ اپنے ہاتھوں سے تیار کیے ہیں۔

سائمن گرین کو امید ہے کہ ٹیلفور کے کام کو کمپیوٹر پر منتقل کر کے وہ مستقبل کی نسلوں کو ان کے کام سے روشناس کرا سکیں گے۔

ٹیلفور بیڈیو کا کہنا تھا کہ جب وہ چھوٹے تھے تو ان کو گرینیڈا کے فیڈون کیمپ میں پہاڑی پر چڑھنے کے لیے لے جایا گیا تھا اور اس کے بعد سے انھوں نے اپنی پوری زندگی اپنے جزیرے کی سیر کرتے ہوئے اور اس کے بارے میں معلومات اکٹھے کرتے ہوئے بسر کی ہے۔

جب ٹیلفور بیڈیو سے پوچھا کہ انھیں سب سے زیادہ خوشی کس بات پر ہوتی ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے زندگی صرف اسی نصیحت کے تحت گزاری ہے جو ان کی دادی نے ان کو دی تھی۔

’اچھے انسان بنو، قدرت سے پیار کرو اور اپنے ارد گرد کی دنیا اور ماحول کی قدر کرو۔‘