آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پیزا کی ٹاپنگ جس نے دنیا کو تقسیم کیا: انناس اور ہیم کا جھگڑا کیا ہے؟
1960 کی دہائی میں کینیڈا میں ایک شیف نے پیزا کے اوپر لگائی جانے والی ٹاپنگ بنائی جو دنیا بھر میں مقبول ہو گئی۔ تو پھر اسے اتنے وسیع پیمانے پر کیوں پسند کیا جاتا ہے۔۔۔ اور ساتھ ہی اتنا ناپسند کیوں کیا جاتا ہے۔
اس کا ہوائی سے تعلق نہیں ہے جیسا کہ آپ سوچتے ہوں گے یا آپ اسے الزام دیں، آپ کے نقطہ نظر پر منحصر ہے.
دنیا کو ’ہیم‘ اور انناس پیزا دینے کا سہرا اس شخص کو جاتا ہے جو نہ تو ہوائی سے تھا اور نہ ہی درحقیقت اطالوی۔ سیم پانوپولس کینیڈا میں ایک یونانی تارکین وطن تھا جو چاتھم، اونٹاریو شہر میں اپنے بھائیوں کے ساتھ ایک ریستوران چلاتا تھا۔
پانوپولس نے پیزا کی جائے پیدائش یعنی نیپلز کا دورہ کیا تھا اور اسے ریستوران کے برگر اور پین کیکس کی معمول کی تیاری میں اٹلی میں عام استعمال کیے جانے والے اجزا کو اپنانے کی ترغیب ملی تھی۔ لیکن اس پر کیا ڈالنا ہے؟
پانوپولس نے مشروم اور پیپرونی جیسی اس وقت کی معیاری ٹاپنگز کا استعمال کم کر دیا اور کینیڈا کی جنوبی سرحد کے پار کے میٹھے اور کھٹے ذائقے، جو چینی کھانے پر امریکہ کی اخترا تھی، آزمانے شروع کیے۔
انھوں نے پنیر اور ٹماٹر کی چٹنی والی پیزا بیس کے اوپر ڈبوں میں دستیاب انناس اور کٹا ہوا ہیم پھیلایا، جس کا خیال شاید انھیں چینی پکوانوں کے میٹھے اور نمکین ذائقے سے متاثر ہو کر آیا اور یوں انناس اور ہیم کو ایک جگہ یکجا کیا گیا۔
کچھ غذائیں ہیم اور انناس پیزا کی طرح ڈرامائی طور پر منقسم ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا و ایشیا کے بہت سے حصوں میں پیزا کے چند مینو اس کے بغیر مکمل نظر آتے ہیں۔ تاہم اٹلی میں اس جوڑی کو وسیع پیمانے پر مکروہ سمجھا جاتا ہے۔
یہاں تک کہ اس سے عالمی رہنماؤں کے درمیان بین الاقوامی تنازعات اور سفارتی مداخلت بھی ہوئی ہے۔ یہ شدید تفرقہ کیوں ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آکسفورڈ یونیورسٹی میں انسان کے مختلف حواس پر کھانے کے اثرات کا مطالعہ کرنے والے ماہر نفسیات چارلس اسپنس کہتے ہیں کہ ’مجھے لگتا ہے کہ آپ اسے فیوژن فوڈ کہہ سکتے ہیں۔ یقیناً میٹھا سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا ذائقہ ہے، اس لیے شاید اسے جلد قبولیت حاصل ہو گئی۔‘
آسٹریلوی فوڈ پروسیسنگ کمپنی گولڈن سرکل کی جانب سے ٹراپیکل ریسیپی بک کا اجرا اور پنوپولس کی پروسیسڈ ہیم اور انناس کا ملاپ ایک ہی وقت میں ہوا۔ کتاب کے سرورق کی تصویر پر انگوٹھیوں کی طرح سے کٹے انناس ایک پکے ہوئے ہیم کو گھسیٹتے ہوئے دکھائی دیے۔
ایک دہائی قبل ایک ٹی وی باورچی نے جنگ کے بعد جرمنی کو ’ٹوسٹ ہوائی‘ نامی ٹریٹ سے متعارف کرایا تھا جو انناس کی انگوٹھی، پکے ہیم اور کٹے ہوئے پنیر پر مشتمل تھا، یہ سب گرِل کے نیچے پکایا جاتا تھا۔
یہ درحقیقت 'گرلڈ اسپام وچ' کا جرمن نمونہ ہو سکتا ہے جو ایک اسپیم اور انناس کا نسخہ ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی جرمنی میں تعینات امریکی فوجیوں کے ساتھ آیا تھا۔ سب نے انناس کی خصوصیت، مٹھاس کو پروسیسڈ سؤر کے گوشت کے نمکین، عمامی ورق کے ساتھ ملایا۔
سؤر کا گوشت اور انناس یقینا دنیا کے کھانوں میں پھل اور گوشت کا واحد ملاپ نہیں۔ فرانس میں بطخ کو ایک میٹھی نارنجی چٹنی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ ایرانی پیلاف میں بکرے کے گوشت کو انار کے ساتھ پکایا جاتا ہے۔ امریکہ میں 'تھینکس گیونگ' پر رات کا کھانا روایتی ٹرکی، یا مارش میلو اور یامز کے ساتھ کرینبیری چٹنی کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔
تو یہ کیوں کام کرے گا؟ جیسا کہ نمکین کیرمل ٹریٹس کی حالیہ دھماکے دار مقبولیت سے سامنے آیا ہے، نمکین اور میٹھے ذائقے قدرتی طور پر ایک ساتھ زیادہ مزے دار بن جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسی چیز بناتا ہے جسے تہہ در تہہ ذائقے کے نام سے جانا جاتا ہے۔
یہ تہہ مثبت اشاروں کی صورت میں دماغی رد عمل کا سبب بنتی ہے جو مٹھاس کے امتزاج کو محسوس کرتے ہیں اور اس کے کاربوہائیڈریٹ توانائی اور نمک، جسمانی افعال کے لیے بہت ضروری ہیں۔
اور انناس یقینی طور پر مٹھاس سے بھرا ہے۔ انناس کے وزن کا تقریبا 12-15 فیصد چینی پر مشتمل ہوتا ہے جو اس کی ترشی کو ذائل کر دیتا ہے اور اس کو خوش ذائقہ بنا دیتا ہے۔ انناس میں بنیادی طور پر سکروز ہوتی ہے، لیکن گلوکوز اور فرکٹوز بھی موجود ہے۔
اس کے باوجود انناس بھی کافی تیزابی ہوتے ہیں، جس کا پی ایچ 3-4 کے درمیان ہوتا ہے، اس کا انحصار انناس کی مختلف اقسام پر ہوتا ہے (مثال کے طور پر لیموں کے رس میں 2-3 کے درمیان کا پی ایچ ہوتا ہے۔) بالکل اسی طرح کولا کے ایک ڈبے میں حیرت انگیز طور پر پی ایچ 2-3 پر تیزابی ہوتی ہے۔
ہلکے گرم درجہ حرارت پر اس کی پھلدار خوشبو تیزی سے خارج ہوتی ہے، لیکن گرم درجہ حرارت اور وقت میں اضافے کے ساتھ اس کی شدت کم سے کم ہوتی جاتی ہے۔
تاہم کچھ لوگ بعض ذائقوں کے بارے میں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ ہم کھٹے ذائقے سے کتنا لطف اندوز ہوتے ہیں اس کا انحصار ہمارے جینیاتی ساخت یا ترکیب پر ہے اور سائنسدانوں نے مشاہدہ کیا ہے کہ جن لوگوں میں ٹی اے ایس 2 آر 38 نامی مخصوص جین کی مختلف شکلیں پائی جاتی ہیں وہ تلخ مرکبات کے بارے میں کم و بیش حساس ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح میٹھے ذائقوں کے لیے ہماری پسند بھی ہماری جینز پر منحصر ہے اور اس بات کو متاثر کر سکتی ہے کہ ہم کتنا میٹھا کھانا کھاتے ہیں۔ شاید یہ امکان ہے کہ کوئی اپنے پیزا پر انناس پسند کرے یا نہ کرے، اس کا تعلق ان کی جنیاتی ساخت سے ہے۔
اگر آپ غور کریں کہ جب انناس کو پکایا جاتا ہے تو اس پر کیا اثر پڑتا ہے تو شاید بات زیادہ واضح ہو جائے۔
امریکہ کے شہر بیٹن روج میں لوزیانا سٹیٹ یونیورسٹی کے زرعی مرکز میں ذائقے میں معاون غیر مستحکم کیمیکلز کا مطالعہ کرنے والے فوڈ سائنسدان زمین زو کا کہنا ہے کہ ’جب انناس کو گرم کیا جا رہا ہوتا ہے تو بہت سے کیمیائی رد عمل ہوتے ہیں کیونکہ اس میں بہت زیادہ شکر اور نامیاتی تیزاب ہوتے ہیں۔‘
انھوں نے اور ان کے ساتھیوں نے اس بات کا مطالعہ کیا ہے کہ جب انناس کو مختلف درجہ حرارت پر پکایا جاتا ہے تو اس کا کیا ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہلکے درجہ حرارت پر اس کی پھلدار خوشبو تیزی سے خارج ہوتی ہے لیکن تیز درجہ حرارت اور دیر تک پکانے سے اس کی شدت کم سے کم ہوتی جاتی ہے جبکہ گرمی کے دوران روٹی جیسی خوشبو بڑھ جاتی ہے۔
’گرم انناس میں تازہ کٹے ہوئے انناس کے مقابلے میں میٹھا اور کھٹا ذائقہ بھی کم ہوتا ہے۔‘
لیکن جب انناس کو زیادہ درجہ حرارت پر گرم کیا جاتا ہے کہ تو اس میں زیادہ تبدیلی آ جاتی ہے۔ گھر میں گھریلو اوون میں پکے ہوئے زیادہ تر منجمد اور دکان سے خریدے گئے پیزا 200 سینٹی گریڈ سے 220 سینٹی گریڈ تک کے درجہ حرارت پر 10-20 منٹ تک پکائے جاتے ہیں لیکن لکڑی سے چلنے والے پیزا اوون میں درجہ حرارت 500 سینٹی گریڈ سے زیادہ تک پہنچ سکتا ہے اور پیزا کو ایک دو منٹ سے بھی کم وقت درکار ہوتا ہے۔
ژو اور ان کے ساتھیوں نے مشاہدہ کیا کہ 200 سینٹی گریڈ سے زیادہ کے درجہ حرارت پر غیر مستحکم مرکبات کا توازن بگڑ جاتاہے اور جو مرکبات کمرے کے درجہ حرارت پر آسانی سے بخارات بن جاتے ہیں اور اکثر کھانے میں بدبو اور ذائقوں کا سبب بنتے ہیں ان میں زیادہ درجہ حرات پر ڈرامائی تبدیلی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
سب سے پہلے، ایتھیل سیٹیٹ نامی مرکب کی مقدار، جو انناس کو پھلدار بو دیتی ہے، زیادہ درجہ حرارت پر کافی کم ہو جاتی ہے۔ دریں اثنا فرفرل نامی مرکب کی سطح میں ڈرامائی اضافہ ہو جاتا ہے جو بادام اور روٹی کا ذائقہ فراہم کرتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگوں کو انناس کا میٹھا ذائقہ پسند نہ ہو خاص طو پر جب یہ نمکین پیزا اجزا جیسے ہیم، سوسج، پنیر کے ساتھ ملتا ہے۔‘ تاہم، کچھ لوگ پیزا کے نمکین ذائقے کو متوازن کرنے کے لیے میٹھا اور کھٹا ذائقہ پسند کرسکتے ہیں۔
’کچھ پیزا اجزا، خاص طور پر منجمد پیزا میں، پہلے سے کہیں زیادہ نمکین ہیں، لہذا کچھ میٹھی چیزوں کے ساتھ ٹاپنگ نمکین ذائقے کو بے اثر کر سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس نے انناس کے لیے ایک مقبول پیزا ٹاپنگ بننے کا دروازہ کھول دیا ہو۔‘
لیکن اس کی تحقیق ایک اور دلچسپ دریافت بھی کرتی ہے۔ انناس میں اضافے کے لیے دیگر مرکبات میں سے دو تھے جنھیں 2-میتھائلبوٹینل اور 3-میتھائلبوٹینل کہا جاتا ہے، جو ایک مخصوص میوہ دار ذائقہ فراہم کرتے ہیں۔ یہ دونوں پیزا میں استعمال ہونے والے ایک اہم جزو یعنی پنیر میں بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ چیڈر جیسے سخت پنیر میں سب سے زیادہ عام ہیں، لیکن موزریلا میں بھی پائے جا سکتے ہیں۔
اور یہاں 2011 میں ڈیٹا سائنسدانوں کے ایک گروپ کے تجویز کردہ ایک اور دلچسپ نظریہ کی بات کرنا بھی ضروری ہے۔
دنیا بھر سے عام ترکیبوں میں اجزا کے امتزاج کا تجزیہ کرنے کے بعد انھوں نے ایک ذائقہ نیٹ ورک تیار کیا جو ایسی غذاؤں کو جوڑتا ہے جو ذائقے کے مرکبات کو بانٹتی ہیں۔
ان کے تجربے کے مطابق مغربی کھانوں میں ایسے اجزا کو جوڑنے کا رجحان پایا جاتا ہے جو ذائقے کے مرکبات کا اشتراک کرتے ہیں جبکہ مشرقی ایشیائی کھانا پکانے کا رجحان ایسے اجزا کا استعمال کرنے کا تھا جن میں کچھ مرکبات مشترک ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ترش اور تیزابی ذائقے عام طور پر کھانے کے درمیان تالو صاف کرنے والے کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ تیل اور چربی کو کاٹتے ہیں۔
فرانسیسی اور امریکی محققین کی ایک ٹیم نے انکشاف کیا کہ چربی دار غذاؤں کے ساتھ سخت مشروبات کا بار بار استعمال چربی اور تلخی کے مجموعی احساس کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے ہیں جبکہ پانی پینے سے گلا صاف کرنا یا چکنائی کاٹنے میں زیادہ مدد نہیں ملتی۔ لہذا، یہ ممکن ہے کہ انناس کے ٹکڑے کی تیزابیت آٹے، ٹماٹر اور پنیر کے اثر کو چبانے کے دوران کم کر کے اسے مزید لطف اندوز بنانے میں مدد کرتی ہے۔
لیکن پیزا پر استعمال ہونے والا زیادہ تر انناس تازہ کٹنے کے بجائے ڈبوں سے آتا ہے، تو کیا اس کا ذائقے پر اثر پڑتا ہے؟
ہیم اور انناس سے محبت کرنے والوں اور نفرت کرنے والوں کے درمیان جنگ نے یہاں تک کہ ایک مکمل طور پر سنگین سفارتی تنازع کو جنم دیا ہے۔ 2017 میں آئس لینڈ کے صدر جیونی تھورلاسیں نے سکول کے بچوں کے سامنے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بنیادی طور پر پیزا پر انناس کے اتنے مخالف ہیں کہ اگر ان کا بس چلتا تو وہ اپنے ملک میں اس پر پابندی لگا دیں گے۔
یہاں تک کہ انھوں نے فیس بک پر ایک بیان بھی جاری کیا جس میں عام طور پر انناس کے بارے میں اپنی پوزیشن اور پیزا پر ان کی مخصوص موجودگی کی وضاحت کی گئی۔
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’میں اس مزیدار جنوب مغربی اونٹاریو تخلیق کے پیچھے کھڑا ہوں۔ جیوانی نے بعد میں اپنے موقف میں نرمی پیدا کرتے ہوئے 2018 میں اعتراف کیا کہ وہ کچھ زیادہ ہی کہہ گئے۔‘
سیم پانوپولس کو اندازہ نہیں تھا کہ اس نے کیا کر دیا ہے۔