آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سابق شریکِ حیات کو معاف کرنا اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے؟
بندھن کا ٹوٹنا کبھی بھی آسان بات نہیں رہی ہے، لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے کہ کچھ لوگ اپنے سابق شریک حیات کو واپس حاصل کرنے کے لیے شدید کوشش کرتے ہیں جبکہ کچھ اُس سے میلوں دور بھاگتے ہیں؟ پرانے پیار کے شعلوں کو دوبارہ سے بھڑکانے کی خواہش کی جڑیں ہماری نفسیات میں گہری کیوں ہیں۔
یانِس کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے جب اس نے اپنے شریک حیات (پارٹنر) کو بتایا کہ ہمارے تعلقات اب چل نہیں پا رہے ہیں۔ ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والی 28 برس کی خاتون نے اپنے ٹوٹے ہوئے دل کو تھامے ہوئے واپس گھر کی طرف چلتے ہوئے سکھ کی سانس لی۔
پچھلے دو ماہ میں یہ تیسری مرتبہ تھا کہ ان دونوں نے اپنے رشتے کو توڑا تھا۔ اس مرتبہ یانِس نے طے کر لیا تھا کہ اب لوٹ کر نہیں جانا ہے۔
یانِس نے اپنے پچھلے واقعات کے بارے میں کہا ’میں اُس کو بہت زیادہ یاد کرتی ہوں اور بار بار اپنے ذہن میں اکھٹے گزارے ہوئے وقت کے خوبصورت لمحات کو یاد کرتی ہوں۔‘
ماضی میں خوشگوار یادوں کی وجہ سے کھو جانے سے وہ دوبارہ اس رشتے کے اچھائیوں میں پھنس جاتیں ’اس لیے میں بار بار لوٹ جاتی۔ لیکن ہمارے ذہن ایک دوسرے سے اتنے زیادہ مختلف ہیں کہ دوبارہ سے آغاز نہیں کیا جا سکتا ہے اور اُس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ میں نے اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں سے اُس کو ڈیلیٹ کر دیا ہے، اور میں جانتی ہوں کہ اب یہ آخری مرتبہ ہے کہ ہم دوبارہ سے اکھٹا ہوں گے۔‘
پرانی آگ کے شعلوں کو دوبارہ سے بھڑکانا ہماری زندگی میں ہمیشہ سے ایک عمومی بات ہے۔ ایک جائزے کے مطابق دو تہائی طلبا و طالبات کے رشتے ٹوٹتے اور دوبارہ سے بندھتے ہیں، جبکہ نصف ایسے ہیں جو رشتہ ٹوٹ جانے کے بعد بھی جنسی تعلق کا عمل جاری رکھتے ہیں۔
شادی بیاہ کے عہد و پیمان کے بعد بھی رشتوں کی حدود دُھندلاتی رہتی ہیں۔ ایک اور جائزے کے مطابق اکھٹا رہنے والے جوڑوں میں سے ایک تہائی اور شادی شدہ جوڑوں میں سے نصف ایسے ہیں جو اپنے تعلقات کے ٹوٹنے اور پھر بحال ہونے کے تجربے سے گزرے ہیں۔
ایک احساس جس نے بے شمار نغموں، ناولوں، ریئلیٹی شوز اور فلموں کو متاثر کیا ہے ۔۔۔ رشتہ ٹوٹنا اور پھر اس کے لیے معافی مانگنا یہ شاید ہماری نفسیات میں بہت گہری جڑیں رکھتا ہے۔ تاہم ناکام تعلقات کو دوبارہ سے چلانے کا موقع دینا ہماری سرشت میں شامل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
جب پہلی مرتبہ ایک تعلق یا رشتہ ٹوٹتا ہے تو لوگ عموماً ایک ایسے مرحلے سے گزرتے ہیں جو بقول کِنسی انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ایک نیورولوجسٹ ہیلن فِشر، ایک ’احتجاج‘ کا دور ہوتا ہے جس کے دوران مسترد کیا گیا ساتھی اپنے سابق دوست کا پھر سے دل جیتنے کی دُھن کا شکار ہو جاتا ہے جس نے اُنھیں دُھتکارا ہوتا ہے۔
فِشر اور ان کی ٹیم نے ایسے پندرہ افراد کے دماغوں کا فنکشنل میگنیٹک ریسونینس امیجنگ (ایف ایم آر آئی) سکینر کے ذریعے معائنہ کیا جن کو ان کے رومانوی ساتھی نے حال ہی میں مسترد کر دیا تھا۔
جب ان سے کہا گیا کہ وہ سابق محبوبوں کی تصویروں کو دیکھیں تو ان کے دماغ کا وہ حصہ جو نفع و نقصان، کی تمیز کرتا ہے اس میں خود ترسی اور جذبات کو منظم کرنے والا نظام فعال ہو گیا، اور ساتھ ساتھ دماغ کا وہ حصہ بھی جو رومان اور محبت اور کسی سے لگاؤ یا اُنسیت سے جڑا ہوتا ہے۔
ہیلن فشر کہتی ہیں کہ ’مسترد ہونے کے بعد آپ اُس سے محبت کرنا بند نہیں کر دیتے ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ اُس شخص سے پہلے سے زیادہ شدت سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ دماغ کا وہ حصہ جو علت یا عادت کی لت سے جڑا ہوتا ہے وہ فعال ہو جاتا ہے۔‘
فِشر کے مطابق، جب عاشق ناکام ہو جاتا ہے تو اس کے دماغ میں زیادہ مقدار میں ڈوپامین (دماغ میں پایا جانے والا مرکب جو عصبی ترسیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے) اور نیورو ٹرانسمیٹر نورپائینفرین کا اخراج ہوتا ہے جن سے نفسیاتی دباؤ کی کیفیت اور مدد کی التجا پیدا ہوتی ہے۔
وہ اسے 'مایوسی کی کشش' کہتی ہیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ جذبات کی زیادتی کی اس کیفیت میں کیوں کچھ دُھتکارے ہوئے لوگ اپنی خواہشات کی تکمیل کی خاطر اپنے سابق کو واپس حاصل کرنے کے لیے بہت ڈرامائی قسم کی حرکتیں کرتے ہیں۔
دھتکارے ہوئے مرد اور خواتین دونوں میں ’نیوکلیس اکیومبنز‘ فعال ہو جاتا ہے جو کہ کسی بھی علت یا عادت کی خواہش میں شدت پیدا کر دیتا ہے۔ فِشر کے اس تجربے کے شرکا اپنے آپ کو دھتکارنے والے کے بارے میں بہت ہی شدت کے ساتھ سوچ رہے تھے اور اُسی سابق کے ساتھ دوبارہ سے تعلقات بحال کرنے کی شدید خواہش رکھتے تھے۔
فِشر مزید کہتی ہیں کہ ’جدائی کی پریشانی تقریباً ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کہ کسی پِلّے کو اُس کی ماں سے جدا کر دیا جائے اور اُسے کچن میں محدود کردیا جائے، یہ بار بار چکر لگاتا رہے گا اور یہ بھونکے گا اور چلائے گا۔ وہ جوڑے جو ٹوٹ جاتے ہیں اور کئی مرتبہ واپس تعلقات بحال کر لیتے ہیں۔
’وہ اپنے کیمیکلز کے لحاظ سے ایک دوسرے کی علت یا عادت کی لت کا شکار ہوتے ہیں یعنی ان میں ایک دوسرے کی عادت کی لت مضبوط ہو چکی ہوتی ہے، اس لیے جب تک ان کی شدت ختم نہیں ہو جاتی ہے تب تک وہ ایک دوسرے سے مکمل طور پر جدا نہیں ہوتے ہیں۔‘
اس کے ساتھ ساتھ ہمارے دماغ میں ہونے والے کیمائی ردعمل کی وجہ سے لوگ اپنے تعلقات کی تجدیدِ نو کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جس کی وجہ رویے میں کئی قسم کے عوامل کا موجود ہونا ہے۔
اگر سابق ساتھی نے تعلقات ٹوٹنے کے بعد کسی نئے دوست کے ساتھ تعلق بنایا یا کسی اور کے ساتھ ڈیٹنگ کی تو پھر پرانے دوست کے لیے جذبات مٹائے جا سکتے ہیں جس سے واپس جانے کے امکانات یا خواہشات کم کی جاسکتی ہیں۔
تاہم دوسرے لوگ تعلقات ٹوٹنے کی صورت میں ہم آہنگ قسم کے احساسات سے گزرنے کا تجربہ کرتے ہیں جس سے ان کے اپنے سابق کو معاف کر دینے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں اور اس طرح واپس لوٹنے کی خواہش کم ہوتی چلی جاتی ہے۔
یونیورسٹی آف ٹیکساس سے وابستہ تعلقات کے بننے اور بگڑنے پر تحقیق کرنے والے پروفیسر رینی ڈیلی کہتی ہیں کہ تعلقات میں معاملات و مسائل کے ’عدم حل‘ کی کیفیت دونوں میں یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ چلو اِک مرتبہ پھر سے کوشش کریں۔
پروفریسر ڈیلی کہتی ہیں کہ 'تعلقات کے ٹوٹنے کی صورت میں ایک جوڑے کو کئی تضادات کے تجربے کا سامنا ہو سکتا ہے لیکن پھر بھی ایک دوسرے سے ایک تعلق محسوس کرتے ہیں یا محبت کرتے ہیں۔ اس لیے یہ احساس حالات یا تعلقات میں مسائل کو صحیح طرح بنائے رکھنے یا نہ بنائے رکھنے کا بھی ہو سکتا ہے۔ اگر تعلقات کا اختتام غیر واضح سبب کے باعث ہو تو لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے رشتے میں مثبت تبدیلیاں کیں اور دوبارہ کوشش کریں۔'
پروفیسر ڈیلی لگاؤ یا اُنسیت کے نظریے کا بھی ذکر کرتی ہیں جو کہ علومِ نفیسات میں کافی مقبول نظریہ ہے اور میڈیا میں اس پر ڈیٹنگ میں دو لوگوں کے درمیان شخصیتی مطابقت کی وضاحت کے لیے بہت گفتگو ہوتی ہے، لیکن یہ رومانوی تعلقات میں بحالی کے پہلو کی وضاحت نہیں دیتا ہے۔
نظریہِ اُنسیت کے مطابق بچوں کی پرورش کے دوران ان کا خیال رکھنے والے کا رویہ بچوں کی بلوغت کے زمانے میں ان کی انسیت کے رویے کی تشکیل کرتا ہے ۔۔۔ وہ بعد کی زندگی میں کسی بالغ شخص کے ساتھ تحفظ محسوس کر سکتے ہیں، اس سے پریشان ہو سکتے ہیں یا گریز کرسکتے ہیں۔
ایک احساسِ تحفظ والی اُنسیت ایک صحت مند قسم کے جذباتی رشتے کا اشارہ دیتی ہے، جبکہ پریشانی پیدا کرنے والی انسیت کے حامل افراد اپنی ذات کی اہمیت پر شک کرتے ہیں اور اپنی آپ کو کمتر سمجھتے ہیں اور اپنی قربت کو بحال کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاتے ہیں۔
تیسرا گروپ جن کی انسیت کا تجربہ انھیں دوسروں سے گریز کرنا سیکھاتا ہے، یہ لوگ قریبی تعلق بنانے میں مزاحمت کرنے کی وجہ سے جذباتی تعلق بنانے سے عاری شخصیت کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔
اس نظریے کے مطابق، وہ پارٹنر جو پریشانی سے وابستہ یا گریز سے وابستہ انسیت سے جڑے ہوتے ہیں ان کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے انسیت یا لگاؤ محسوس کرتے ہیں اور ان کے لیے تعلقات مستقل طور پر توڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اس بات کی حمایت میں کوئی ریسرچ موجو د نہیں ہے۔
پروفیسر ڈیلی کہتی ہیں کہ 'ہمیں اکثر تعلقات توڑنے اور بحال کرنے والے جوڑوں کی پریشانی اور گریز کرنے والی انسیت کے درمیان کوئی فرق نظر نہیں آیا، اور نہ ہی انسیت سے وابستہ تعلق کا اپنے پارٹنر سے رشتے کی نوعیت کے میعار میں کوئی فرق دیکھا۔'
یانِس کے تجربے کے مطابق ماضی کی یادیں اور تنہائی کا معاف کر دینے میں اہم کردار ہوتا ہے۔ یونیورسٹی آف کینٹکی کی جنسی صحت کی پروفیسر کرسٹن مارک کہتی ہیں کہ ’جو لوگ اس بات کی شدت محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنے سابق پارٹنر کی جانب لوٹ جائیں چاہے اس کا رویہ اچھا نہ رہا ہو، ان کے پیچھے عموماً تنہائی کا احساس، رشتے کی مثبت باتوں کو یاد رکھنا اور وہ نقصان اور افسوس جو رشتے کے ٹوٹنے سے پیدا ہوتا ہے، کار فرما ہوتے ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ماضی کے تعلق کا احساس اس وقت شدت سے محسوس ہونے لگتا ہے جب موجودہ تعلق صحیح طرح سے چل نہ رہا ہو۔
وہ لوگ جو تنہا یا سنگل ہونے سے ڈرتے ہیں وہ عموماً اپنے ماضی کے تعلق کو شدت سے بحال کرنے کی خواہش محسوس کر سکتے ہیں۔ یہ بات شاید یانِس کے موجودہ حالات میں اُس کے رویے کی زیادہ بہتر طریقے سے وضاحت پیش کر سکے۔
وہ کہتی ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران بہت تنہا محسوس کرتی ہے جس کی وجہ سے اس نے محسوس کیا کہ وہ اپنے پرانے محبوب سے اپنے رشتہ بحال کرنے کے لیے اس سے اپنے تعلقات بہتر کرے۔
وائیل-کارنیل سکول آف میڈیسن کے نیویارک پریسبیٹیرین ہسپتال سے وابستہ نفیسات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر گیل سالٹز کے مطابق، جو لاک ڈاؤن میں تنہائی اکیلے یعنی سنگل افراد محسوس کر رہے ہیں اس میں سوشل میڈیا کی وجہ سے زیادہ شدت پیدا ہو جاتی ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے سابق محبوب کی یاد ذہن میں رہتی ہے۔
میڈیا سے ہر حال میں گریز کرنے کی خواہش لوگوں کو اپنے سابق ساتھیوں کی بانہوں کی جانب دھکیل سکتی ہے۔ گیل سالٹز کہتی ہیں کہ ماضی کے تعلقات اتنے خوبصورت نہیں ہوتے ہیں جتنے کہ ہم ان کو خوبصورت یادوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔
سالٹز کہتی ہیں کہ ’فیس بک اور سوشل میڈیا کی دیگر سائٹس لوگوں کو اپنی سابق دوستوں کو ڈھونڈنے کے قابل بناتی ہیں اور انھیں دوبارہ قریب لاتی ہیں۔ ماضی کے تعلقات اتنے خوبصورت نہیں ہوتے ہیں جتنے کہ ہم ان کو خوبصورت یادوں کے طور پر دیکھتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ لوگ اس دوران بدل بھی چکے ہوتے ہیں۔
’سوشل میڈیا ان یادوں کو بھلا کر آگے بڑھنے میں مشکلات پیدا کرتا ہے ۔۔۔ اپنے سابق دوست کو کوئی ٹیکسٹ پوسٹ کرنا غیر صحت مند رویہ ہوتا ہے۔‘
یونیورسٹی آف میامی سے وابستہ جذبات کے مطالعے کے پروفیسر اور ’آن رومانس‘ نامی کتاب کی مصنف، بیرِٹ بروگارڈ کہتی ہیں کہ اب جبکہ سوشل میڈیا نے علحیدگی کے عمل کو مشکل بنا دیا ہے، یہ شاید حیران کن نہیں ہے کہ اس صدی کی نئی نسل جسے جینریشن زی کہتے ہیں، رشتہ ٹوٹنے کے منفی اثرات کا شکار ہونے کے خطرے میں ہو سکتے ہیں۔
بروگارڈ کہتی ہیں کہ 'برے انداز سے تعلقات ٹوٹنا اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ رومانوی محبت کی تاریخ ہے۔ لیکن یہ اتنی زیادہ پھیل چکا ہے کہ اب ان کے مختلف قسم کے نام پڑ گئے ہیں۔
بروگارڈ مزید کہتی ہیں کہ اس صدی میں پیدا ہونے والی نسل جو جنیریشن زی کہلاتی ہے اس کے پریشانیوں اور ذہنی دباؤ کی بیماریوں کا شکار ہونے کے کافی خدشات ہوتے ہیں اور ان کا پچھلی نسل کی نسبت سوشل میڈیا پر انحصار زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے اس نئی نسل میں رشتہ ٹوٹنا اور جُڑنا ایک معمول کی بات سمجھی جاتی ہے۔
کیونکہ جنیریشن زی لیپ ٹاپ اور ٹیبلیٹ کے ساتھ پیدا ہوئی ہے اس لیے وہ اپنی ڈیٹنگ کے مسائل کے حل آن لائن ڈھونڈتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں صرف امریکہ میں کاروباری تربیت کے لیے شروع ہونے والی ویب سائٹ کی مالی حیثیت کا اندازہ سنہ 2018 میں ایک ارب ڈالرز کے قریب لگایا گیا ہے اور اس کے ساتھ دل ٹوٹنے والوں کو کوچنگ دینے والوں کی نئی مارکیٹ بن گئی ہے۔
دل ٹوٹنے والوں کو کوچنگ دینے والے اپنے کلائنٹس کو پرانی محبت کی آگ بھڑکانے یا آگے بڑھنے کی کوچنگ کریں گے۔ ان میں کئی ایک اپنے بلاگز پر مختلف حل پیش کرتے ہیں، یوٹیوب ویڈیوز اور پوڈکاسٹ والوں نے اس مقصد کے لیے لاکھوں ممبرز رجسٹر کیے ہیں۔
زیادہ معروف ہونے والوں میں ایک حل کہلاتا ہے ’نو-کانٹیکٹ رول‘ (30 دنوں کے لیے یا 60 دنوں کے لیے یا ہمیشہ کے لیے دوبارہ رابطہ نہ کریں)۔ یہ وقت ہے شاید اپنی ذاتی نشو و نمو کا۔
کئی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اپنے سابق پارٹنر کو یہ یادیں یاد دلانے کے لیے کے وہ کتنے اچھے تھے دن اور اب آپ کے حالات کتنے بدل چکے ہیں ایک آدھ ٹیکسٹ بھیج دینا چاہیے۔
نیورولوجسٹ اور اینتھروپولوجسٹ ہیلن فِشر اتفاق کرتی ہیں کہ ’نو-کانٹیکٹ رول‘ سے فائدہ ہو سکتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ نوے دنوں تک کسی علت یا عادت سے گریز کرنا موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن کیا اس کا جذباتی تعلق کے سلسلے میں فائدہ ہو گا؟
فِشر کہتی ہیں کہ ’ایک ٹوٹے ہوئے دل کا علاج اسی طرح ہوتا ہے جس طرح کسی نشئی کا علاج ۔۔۔ آپ اُس سے اس کا نشہ دور کر دیتے ہیں، اپنا سوشل میڈیا دیکھنا چھوڑ دیں اور اُس سے کوئی تعلق نہ رکھیں۔‘
بروگارڈ بھی کہتی ہیں کہ اِس رول ’میں کوئی سائنس پنہاں ہے۔‘ جذبات کی شدت ۔۔۔ جس میں غصہ، دھوکہ اور بہت ساری باتیں شامل ہیں ۔۔۔ وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جاتی ہیں۔
ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والی ایک ا ور 20 برس کی للیان، انٹرنیٹ استعمال کرنے والی ایک اور ایسی خاتون تھیں جو اپنے دوست کے ساتھ تعلقات ٹوٹنے کے چند دنوں بعد ہی اس سے بحال کرنے کے طریقے انٹرنیٹ پر ڈھونڈ رہی تھی۔ اتفاق سے اُس کو سوشل میڈیا پر ڈیٹنگ کی ایک تربیتی ویڈیو مل گئی۔
للیان کہتی ہے کہ اس ویڈیو کے کوچ نے اسے اپنے سابق دوست سے فاصلہ رکھنے کا مشورہ دیا اور یہ کہ اپنی زندگی پر ایک نظر دوڑائے۔ ’علحیدگی کے بعد کے وقت میں مجھے اِس سے آرام ملا، لیکن اس نے مجھے پریشان بھی کیا۔ اس کوچ نے مجھے دوبارہ سے اپنے سابق دوست سے دوبارہ رابطہ کرنے سے پہلے 30 دنوں کے وقفے کا مشورہ دیا اور جب دوبارہ ملاقات ہو تو اچھا لباس زیب تن کیا ہوا ہو تاکہ اُسے یہ نظر آئے کہ اب میں بہتر ہو گئی ہوں لیکن میں بہت زیادہ انتظار نہیں کرسکتی تھی۔‘
اگرچہ ٹوٹے دلوں کے علاج کرنے والے کوچز شاید ایک فوری سہولت مہیا کر سکیں، لیکن ضروری نہیں ہے کہ ان کے بتائے ہوئے حل سائنسی لحاظ سے درست بھی ہوں۔
بروگارڈ کہتی ہیں کہ ’ٹوٹے دلوں کا علاج کرنے والے یہ کوچز عموماً نیورو سائنسز، نفیسات، دماغی سائنس، سماجی علوم یا فلسفہ وغیرہ میں باقاعدہ تربیت یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے قابلِ اعتبار نہیں ہوتے ہیں۔‘
ماہرینِ نفیسات یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کوچز میں کچھ اپنے علاج کے دوران دوسروں کی تحقیق چرا کر اپنے نام سے پیش کرتے ہیں، لیکن یہ دوسروں کی ان ریسرچز کی معلومات کی صحت کو جانچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔
بروگارڈ کہتی ہیں کہ ’ایسے کوچز ایک پروفیشنل تھیراپسٹ سے زیادہ مہنگے ہو سکتے ہیں، لیکن بغیر کسی سائنسی ثبوت کے کہ جو وہ علاج بتا رہے ہیں کیا وہ درست بھی ہے؟ شاید آپ اپنا وقت اور ان کی مصنوعات خریدنے میں اپنی دولت ضائع کر رہے ہوں۔ ان کی کتابیں شاید آسان نرخوں پر مل جاتی ہوں، لیکن ان کی پیشہ ورانہ حیثیت مشکوک ہو گی اور عملاً بالکل بے کار ہوں گی۔‘
بیرِٹ بروگارڈ کہتی ہیں کہ آن لائن ٹوٹے دلوں کا علاج کرنے والے شاید ایک پروفیشنل تھیپراپِسٹ سے زیادہ مہنگے ہو سکتے ہیں، اور ہو سکتا ہے کہ آپ اپنا وقت اور اپنا پیسے ان کی مصنوعات خریدنے میں ضائع کر رہے ہوں۔
ماہرین اس صنعت کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں جس کی کوئی ادارہ نگرانی بھی نہیں کر رہا ہے۔ پروفیسر ڈیلی نے بروگارڈ کے خیالات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹوٹے دلوں کے بارے میں مشورہ دینے والوں کی کوئی کوالیفیکیشن بھی نہیں ہوتی ہے‘ جبکہ پرفیسر سالٹز کہتی ہیں کہ یہ شعبہ کسی ’نگرانی کے بغیر کام‘ کر رہا ہے۔
سالٹز کہتی ہیں کہ ’ایسا ممکن ہے کہ کوئی بھی اُٹھ کر اپنے آپ کو کوچ کہہ دے۔ اس لیے میں تو کھل کر احتیاط کا مشورہ دوں گی۔ اس کوچ نے کتنی گہری، کتنے عرصے کی باقاعدہ تربیت حاصل کی ہوئی ہے اور کیا کوئی ٹریننگ لی بھی ہوئی ہے؟ چند دنوں کی یا ہفتے کے ایک آدھ دن کی تربیت آپ کو ایک تھیراپِسٹ نہیں بناتی ہے۔ ان کو کون تربیت دیتا ہے کیسی تربیت دیتا ہے؟‘
بروگارڈ ٹوٹے ہوئے دلوں والوں کو مشورہ دیتی ہیں کہ بجائے اس کے کہ شکستہ دل لوگ آن لائن کوچز پر اپنی رقم ضائع کریں وہ تعلقات اور رشتے ٹوٹنے کے بارے میں مستند ذرائع سے حاصل کی ہوئی کتابیں پڑھیں جن میں گُوگل سکالر پر شائع ہونے والے تحقیقی مقالے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
تاہم وہ کسی کو دوبارہ سے حاصل کرنے کی کوششوں پر وقت اور دولت ضائع کرنے کے بارے میں خبردار کرتی ہیں۔ ’اگر آپ کو ہر حالت میں اپنے سابق دوست کی طرف لوٹنا ہے تو آپ کو یہ سوچنا ہو گا کہ کیا وہ واقعی اس قابل ہے؟‘
وہ کہتی ہیں کہ تعلقات میں مفاہمت کا کوئی 'ٹرِک' نہیں ہوتا ہے سوائے اس کے کہ ناکام ہو جانے والے رشتے کے بارے میں یہ بات کریں کہ کیا غلطی ہوئی۔
فشر کہتی ہیں کہ وہ لوگ جو اپنے سابق دوست سے مفاہمت کرنا ہی نہیں چاہتے ہیں، ان کے لیے امید کی کرن یہ ہے کہ 'احتجاج' کی سطح سے گزر جانے کے بعد ان کا دماغ نا اُمیدی اور سب کچھ ترک کر دینے کی سطح میں جا سکتا ہے، اور پھر بالآخر حقائق کو قبول کرنے کی کیفیت، بے پروائی اور نشو و نما کی سطح۔‘
فِشر یہ نتیجہ نکالتی ہیں کہ ’آپ شدید تکلیف اور پریشانی سے گزرتے ہیں، لیکن آخر میں آپ بہتر ہوجاتے ہیں۔ آپ اُس شحص کو نہیں بھولتے ہیں جس نے آپ کے ساتھ دھوکہ کیا ہو، لیکن آپ آگے بڑھ جاتے ہیں اور کسی اور سے پیار کرنے لگتے ہیں۔‘