http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 20 November, 2008, 18:33 GMT 23:33 PST

مناء رانا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور

عبدالقادر سلیکشن کمیٹی کے سربراہ

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین اعجاز بٹ نے جمعرات کو اسلام آباد میں پی سی بی کے آئین میں ترامیم کے لیے بننے والی کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مستقل سلیکشن کمیٹی کے سربراہ سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالقادر ہوں گے۔

اعجاز بٹ کے چئرمین بننے کے بعد سلیکشن کمیٹی کے گزشتہ چئرمین صلاح الدین صلو نے استعفی دے دیا تھا اور اعجاز بٹ نے وسیم جعفر کی سربراہی میں عارضی سلیکشن کمیٹی بنائی تھی جس نے ویسٹ انڈیز کے خلاف اب ظہبی میں ہونے والی ایک روزہ سیریز کے لیے ٹیم کا انتخاب کیا تھا۔

اعجاز بٹ نے چند روز پہلے یہ عندیہ دیا تھا کہ بھارتی ٹیم کے دورہء پاکستان سے پہلے مستقل سلیکشن کمیٹی بنا دی جائے گی۔ اب انہوں نے ذرائع ابلاغ کو متوقع چیف سلیکٹر کے نام سے آگاہ کر دیا ہے۔

اپنے دور میں گگلی کرانے کے ماہر لیگ سپنر عبدالقادر کا کہنا ہے کہ وہ ٹیم کے انتخاب کے لیے ایمانداری پر مبنی ایک ایسا نظام لائیں گے جن میں فرسٹ کلاس میں کارکردگی دکھانے والے کرکٹرز کو ٹیم میں آنے کے مکمل مواقع ملیں گے۔

عبدالقادر کا کہنا تھا کہ اس ذمہ داری کو ملنے کے بعد ان کا پہلا کام بھارتی ٹیم کے خلاف سیریز کے لیے پاکستان کی ٹیم کا انتخاب ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارتی ٹیم اس وقت بہت اچھی فارم میں ہے لیکن پاکستان کی ٹیم نے بھی حال ہی میں کافی اچھی کاکردگی دکھائی ہے اور میری کوشش ہو گی کہ پاکستان میں دستیاب کھلاڑیوں میں بہترین اور با صلاحیت کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جائے جو بھارتی ٹیم کو سخت مقابلہ دے۔

عبدالقادر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک نظام کو متعارف کروانے کاسوچا ہے جس کے تحت وہ پاکستان کے اٹھارہ بہترین بالرز اور اٹھارہ بہترین بیٹس مینوں کا انتخاب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ آٹھ کھلاڑی انڈر 19 سے چنے جائیں گے اور ان چوالیس کھلاڑیوں کو چار ٹیموں میں تقسیم کر کے ان کے درمیان دس میچز کروائے جائیں گے۔

عبدالقادر کا کہنا ہے کہ وہ کیمپ وغیرہ لگانے پر یقین نہیں رکھتے وہ میچز کروا کر تمام کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے اور جو بہترین کھیل پیش کرے گا وہی ٹیم میں جگہ حاصل کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ محمد یوسف کا متبادل نہیں مل سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام کھلاڑیوں نے کبھی نہ کبھی تو ٹیم سے جانا ہی ہوتا ہے اور ہمیشہ ان کی جگہ لینے کے لیے اچھے کھلاڑی آ جاتے ہیں۔

عبدالقادر کے بقول ان کی شکل میں کرکٹ بورڈ کو سلیکٹر تو مل ہی جائے گا لیکن وہ اس کے علاوہ سپن بالنگ کے شعبے میں کھلاڑیوں کی تربیت بھی کریں گے۔ان کے بقول وہ ایک سینئر کرکٹر ہونے کے ناطے سے کھلاڑیوں میں نظم وضبط پیدا کرنے ان میں جیت کی لگن پیدا کرنے اور ان کے درمیان اگر کوئی رنجیشیں ہیں تو ان کو دور کرنے میں بھی مدد گار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا بہت عرصے سے یہی مطالبہ تھا کہ کرکٹ بورڈ کے تمام معاملات سابق کرکٹرز چلائیں اور نئے چئرمین خود بھی کرکٹر ہیں اور انہوں نے تمام کرکٹرز پر مشتمل اپنی ٹیم بنائی ہے اورجاوید میاں داد کو ڈاریکٹر جنرل بنانے کا ان کا اقدام بھی بہت اچھا ہے۔

عبدالقادر کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کی کرکٹ کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور وہ اپنی یہ ذمہ داری نیک نیتی اور ایمانداری سے نبھائیں گے۔