http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 15 November, 2008, 12:55 GMT 17:55 PST

عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ابوظہبی

پاکستان کی تین صفر پر نظر

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ابوظہبی میں تیسرا اور آخری ون ڈے انٹرنیشنل اتوار کو کھیلا جائے گا۔ پاکستانی ٹیم یہ سیریز پہلے ہی جیت چکی ہے اورکپتان شعیب ملک تیسرا میچ بھی جیت کر کلین سوئپ کے منتظر ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم اس وقت آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں چھٹے نمبر پر ہے اور اگر وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز تین صفر سے جیتنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس کی رینکنگ چوتھی ہوجائے گی۔

شیخ زید سٹیڈیم سے
تفصیلی سکور کارڈ

ویسٹ انڈیز کی ٹیم اس وقت عالمی ون ڈے رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر ہے۔
کپتان شعیب ملک کے لئے یہ بات یقیناً اطمینان کا باعث ہے کہ جس سیریز کو ان کی کپتانی کے ممکنہ آخری امتحان سے تعبیر کیا جارہا تھا اس امتحان میں وہ پورے اترے اور انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے لئے کوئی موقع نہیں چھوڑا کہ وہ قیادت کے لئے کسی دوسرے کرکٹر کے بارے میں سوچے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف اہم سیریز سے قبل یہ جیت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

ویسٹ انڈین کوچ جان ڈائسن نے اپنی بولنگ پر عدم اطمینان ظاہر کیا ہے۔
آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ڈائسن کا کہنا ہے کہ ان کے بالر ابھی بھی درست لائن لینتھ پرگیندیں نہیں کررہے ہیں اور حریف ٹیم کو بہت زیادہ فری ہٹ فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ویسٹ انڈین بیٹسمین باؤنڈریز کے عادی ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ چوکے چھکے کے ساتھ ساتھ آپ ایک ایک رن لے کر اسکور کو متحرک رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ صفر پر دونوں اوپنروں کا آؤٹ ہونا مہنگا پڑا جبکہ زیویئر مارشل کی وکٹ گرنے سے ان کی ٹیم پر بے پناہ دباؤ بڑھ گیا تھا۔

تیسرے ون ڈے میں بھی فاسٹ بولر شعیب اختر کی شرکت یقینی نہیں ہے۔
وہ پنڈلی کا پٹھہ کھنچ جانے کے سبب دونوں میچ نہیں کھیل سکے تھے۔

مقامی شائقین شعیب اختر کے نہ کھیلنے پر خاصے مایوس دکھائی دیئے اور کچھ نے خاصے تلخ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر شعیب اختر نے فٹ ہی نہیں ہونا تو انہیں ٹیم کے ساتھ ساتھ کیوں رکھا جاتا ہے۔ بہتر تھا کہ انہیں وطن بھیج کر کسی حقدار فاسٹ بولر کو یہاں بلالیا جاتا۔