http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 13 November, 2008, 16:42 GMT 21:42 PST

مناء رانا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور

شعیب ملک کی کارکردگی پراطمینان

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین اعجاز بٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ٹیم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے میچ میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی اور خاص طور پر کپتان شعیب ملک کی کارکردگی بہت اچھی تھی لیکن چونکہ ان کی کپتانی کی مدت اکتیس دسمبر تک ہے اس لیے انہیں دوبارہ یہ عہدہ دیا جائے گا یا نہیں اس کا فیصلہ تب ہی ہو گا۔

اعجاز بٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کو محض اس لیے تبدیل نہیں کریں گے کہ اس کی مدت ختم ہو گئی ہے بلکہ اس کی کارکردگی کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی اسے اس کے عہدے پر رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کل کے میچ میں شعیب ملک کی کپتانی اور اس کی ذاتی کارکردگی سے وہ مطمئن ہیں۔

پی سی بی کے چئرمین وکٹ کیپر کامران اکمل کے زور دار کھیل سے بہت خوش تھے جبکہ انہوں نے ٹیم مینجمنٹ کی بھی تعریف کی۔

ابوظہبی جانے سے پہلے پاکستان کی ٹیم کے کوچ انتخاب عالم کا کہنا تھا کہ ٹیم کے کپتان اور سئنیر کھلاڑیوں میں کچھ معمولی مسائل تھے جنہیں بات چیت سے حل کر لیا گیا ہے۔

بورڈ کے چئرمین سے دریافت کیا کہ کیا وہ کل سئنیر کھلاڑیوں کی کارکردگی سے یہ سمجھتے ہیں کہ ٹیم اب متحد ہو کر کھیل رہی ہے تو اعجاز بٹ کا کہنا تھا کہ اس بات کا جواب وہ چھ ماہ بعد بہتر طور پر دے سکیں گے کیونکہ اتنی جلدی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ تمام مسئلے حل ہو گئے ہیں اور راتوں رات سب کچھ ٹھیک ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کوشششیں ہو رہی ہیں اور کھلاڑیوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا اور جلد کافی بہتری نظر آئے گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چئرمین نے بورڈ کی انتظامیہ اور ٹیم مینجمنٹ میں کافی تبدیلیاں کر دیں ہیں جبکہ ٹیم کی سلیکشن کے لیے عارضی سلیکشن کمیٹی تو بنا دی گئی ہے لیکن باقاعدہ سلیکشن کمیٹی بنانا ابھی باقی ہے۔ اس ضمن میں اعجاز بٹ کا کہنا تھا کہ عنقریب سلیکشن کمیٹی کا اعلان کر دیا جائے گا اور یہ اعلان بھارتی ٹیم کے دورہ پاکستان سے بہت پہلے کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کی مدت دو سال ہو گی لیکن ایک سال کے بعد اس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ فارمولہ سب پر لاگو ہو گا اور کرکٹ بورڈ اور ٹیم سے وابستہ تمام عہدوں پر فائز افراد کی کارکردگی کو ایک سال کے بعد جانچہ جائے گا کہ آیا انہوں نے اپنا کام ایک سال میں بہتر طریقے سے کیا یا نہیں۔