Tuesday, 16 September, 2008, 00:00 GMT 05:00 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
پاکستان ہاکی فیڈریشن نےہاکی کے کھیل میں عالمی سطح پر ملک کے کھوئے ہوئے مقام کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے چار سالہ پروگرام کا اعلان کردیا ہے جسے ’میگا پلان‘ کا نام دیا گیا ہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری آصف باجوہ کے مطابق اس منصوبے میں نچلی سطح پر کھلاڑیوں کی تربیت کے لئے غیرملکی کوچ کی تقرری۔ سکولوں اور کلب کی سطح پر مقابلوں کو دوبارہ شروع کرنا اور غیرملکی کھلاڑیوں کی شرکت کے ذریعے لیگ ہاکی کا انعقاد شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اس وقت پاکستانی ہاکی اپنے بدترین دور سے گزررہی ہے۔ حالیہ بیجنگ اولمپکس میں پاکستانی ٹیم آٹھویں پوزیشن حاصل کرسکی۔
آصف باجوہ جو اولمپکس سے کچھ ہی دنوں پہلے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری بنے ہیں کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ منصوبہ اپنے ساتھیوں
سے طویل مشورے کے بعد تیار کیا ہے اس پر عمل درآمد ناممکن نہیں بلکہ اگر نیک نیتی سے اس پر کام کیا گیا تو اس کے ضرور ثمرات پاکستانی
ہاکی کو ملیں گے۔
|
ہاکی میگا پلان
|
آصف باجوہ نے کہا کہ ڈیولپمنٹ اینڈ ریسرچ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جارہا ہےجس میں ایک غیرملکی کوچ کی تقرری کی جائے گا جس کا کام نچلی سطح پر کھلاڑیوں کی عصرحاضر کے تقاضوں کے مطابق تربیت کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ غیرملکی کوچ صرف گائیڈ لائن تیار کرکے پاکستانی کوچز کو دے گا جو اس ادارے سے منسلک ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی اور لاہور تک محدود اکیڈمیز ختم کرکے ملک بھر میں بارہ ’گرومننگ سینٹرز‘ قائم کئے جارہے ہیں۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری نے کہا کہ پاکستان میں ایک ہی مرتبہ لیگ ہاکی منعقد کی گئی جس میں غیرملکی کھلاڑیوں نے حصہ لیا تھا اسے دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ فیڈریشن میں اعزازی طور پر کام کرنے کے کلچر کو ختم کرکے تمام تقرریاں تنخواہ کے مطابق کی جائیں گی تاکہ جواب دہی بھی رہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ ایک جونیئر ٹیم کا کھلاڑی سینئر ٹیم میں منتخب ہونے کے بعد دوبارہ جونیئر ٹیم کے لئے نہیں کھیل سکے گا ۔
آصف باجوہ نے کہا کہ اس ’میگا پلان‘ پر سالانہ پانچ کروڑ روپے خرچ ہونگے اور انہیں امید ہے کہ ہاکی کو نظرانداز کردینے والے قومی ادارے قومی کھیل سے محبت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنا فرض پورا کریں گے۔