Wednesday, 20 August, 2008, 11:45 GMT 16:45 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی باکسر حسین شاہ کو اولمپکس میں تمغہ جیتے بیس سال ہوگئے ہیں لیکن طویل عرصہ گزرجانے کے باوجود آج بھی جب اولمپکس کا وقت آتا ہے تو انہیں کانسی کا وہ تمغہ یاد آجاتا ہے جو انہوں نے1988ء کےاولمپکس میں جیتا تھا۔
حسین شاہ یہ کہنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے کہ اس اولمپک میڈل اور جہانگیرخان نے ان کی زندگی ہی بدل دی۔
حسین شاہ اس وقت جاپانی کلب کادو ایبی کے کوچنگ اسٹاف میں شامل ہیں۔ اس کلب کا ایک باکسر حال ہی میں ورلڈ باکسنگ ایسوسی ایشن کا
لائٹ ویٹ عالمی چیمپئن بنا ہے۔اس سے قبل بھی اسی کلب کے ایک باکسر نے ورلڈ ٹائٹل حاصل کیا تھا۔
|
اس دور کی ناکامی
|
جب حسین شاہ سے یہ سوال کیا گیا کہ ان کے ایک ساتھی باکسر ابرارحسین اپنی اور دیگر باکسرز کی کامیابیوں پر شک کر رہے ہیں کہ یہ شاید پروفیسر انور چوہدری کے اثرورسوخ کا نتیجہ تھیں تو حسین شاہ نے اسے تاثر کو یکسر مسترد کردیااور کہنے لگے’سوچنے کی بات یہ ہے کہ ابرارحسین نے تین اولمپکس میں حصہ لیا۔ میں نے بھی کئی سال تک بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی دوسرے بھی کئی باکسرز تھے اگر پروفیسر انورچوہدری ہی نے تمغے جتواکر دینے تھے تو اولمپکس میں پاکستان ایک سے زائد تمغے کیوں نہیں جیت سکا؟ درحقیقت پروفیسر انورچوہدری کے آئبا کا صدر ہونے کا پاکستان کو صرف یہ فائدہ ہوا کہ پاکستانی باکسرز کے ساتھ کوئی بھی بے ایمانی یا گڑبڑ کرنے کا نہیں سوچ سکتا تھا۔‘
حسین شاہ پاکستانی باکسرز کی ناکامی کی بڑی وجہ انہیں بین الاقوامی سطح پر ملنے والے برائے نام مواقعوں کو قرار دیتے ہیں ’ہمارے زمانے میں پاکستان میں بھی متعدد انٹرنیشنل ٹورنامنٹس ہوتے تھے اور پاکستانی باکسرز بیرون ملک بھی جاتے تھے۔ پاکستانی باکسرز کو اب بھی ٹریننگ کے لئے کیوبا اور روسی ریاستوں میں بھیجا جاتا ہے لیکن انٹرنیشنل ٹورنامنٹس میں کم شرکت سے ان کی اولمپکس کی تیاری پر اثر پڑا ہے۔ ‘
حسین شاہ پاکستانی باکسنگ کا مستقبل بہت زیادہ اچھا نہیں دیکھ رہے ہیں’باکسرز پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سخت محنت کریں اور کچھ بن کر دکھائیں۔اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو پاکستان میں باکسنگ ختم ہوجائے گی لیکن مجھے یہ سن کر بھی افسوس ہورہا ہے کہ پاکستانی باکسرز میں ممنوعہ قوت بخش ادویات اور نشہ آور اشیاء کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے جو انتہائی خوفناک بات ہے ۔‘