Wednesday, 20 August, 2008, 22:46 GMT 03:46 PST
افغان تائیکوانڈو کھلاڑی روح اللہ نیک پا بیجنگ اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیت کر اولمپکس تاریخ میں افغانستان کے لیے پہلا تمغہ حاصل کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔
انہوں نے اٹھاون کلوگرام درجہ بندی کے پلے آف مقابلوں میں سپین سے تعلق رکھنے والے عالمی چیمپیئن یوان انتونیو راموس کو چار ایک سے شکست دی۔
اس سے قبل اولمپکس میں افغانستان کی بہترین کارکردگی سنہ 1964 کے اولمپک مقابلوں میں کشتی میں پانچویں پوزیشن تھی۔
تمغہ جیتنے کی خبر افغانستان کے ٹی وی اور ریڈیو چینلوں پر اہم ترین خبر کے طور پر نشر کی گئی اور اطلاعات کے مطابق افغان صدر حامد کرزئی نے بھی فون پر روح اللہ کو یہ کارنامہ سرانجام دینے پر مبارکباد دی ہے۔
افغان اولمپک کمیٹی کے سربراہ محمد انور جگدالک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ روح اللہ کی اس کارکردگی کے اعتراف میں افغان حکومت انہیں ایک گھر بطور انعام دے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کابل کی ایک تنظیم روح اللہ نیک پا کو پچاس ہزار ڈالر بطور تحفہ دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔
تائیکوانڈو کوریا کی ایک مارشل آرٹ ہے جسے 1972 میں امریکہ کے مارشل آرٹ کے ماہر افغانستان لائے تھے۔ افغانستان میں تائیکوانڈو مارشل آرٹ سب سے مقبول ترین کھیل ہے اور یہاں اس کے 700 کلب ہیں اور 25000 سے زیادہ کھلاڑی اس کھیل میں حصہ لیتے ہیں۔