Tuesday, 19 August, 2008, 08:10 GMT 13:10 PST
انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم ستمبر میں پاکستان میں منعقد ہونے والی چیمپئنز ٹرافی میں حصہ لے گی یا نہیں اس کا فیصلہ انگلینڈ اور ویلس کرکٹ بورڈ کی ایک میٹنگ میں منگل کو ہوگا۔
انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے اتوار کو دو گھنٹے کی میٹنگ میں انٹرنیشنل کرکٹ کاؤنسل کے دو نمائندوں کے ساتھ میٹنگ کر کے پاکستان میں حفاظت کے خدشات کے سبب کھیلنے پر اپنی سیکورٹی کے حوالے سے فکرمندی کا اظہار کیا ہے۔
انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ’میٹنگ میں انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکیٹو ڈیوڈ کولیر بھی موجود تھے اور میٹنگ میں کیا ہوا اس کی رپورٹ وہ ہمیں دیں گے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’ کھلاڑیوں کے خدشات پر بات کرنے کے لیے انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی ایک میٹنگ منگل کو لندن میں ہوگی۔‘
مینٹگ میں انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے مینیجر ڈیوڈ کولیر اور ہیو مورس بھی موجود تھے اور انہوں نے سبھی کھلاڑیوں کا موقف سنا۔
جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کو پاکستان سے باہر منعقد کرانے پر غور کر سکتا ہے تو انکا کہنا تھا ’اس کا جواب تو آئی سی سی ہی دے سکتا ہے۔‘
آسٹریلیا اور نیو زیلنڈ کے کھلاڑیوں کے علاوہ انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں نے پاکستان میں بارہ ستمبر سے کھیلی جانے والی چیمپئنز ٹرافی میں حصہ لینے سے پہلے اپنی سیکورٹی کے تئیں فکر مندی کا اظہار کیا ہے۔
انگلینڈ کے کپتان کیون پیٹرسن کا کہنا ہے کہ انہیں خوشی ہے کھلاڑیوں کے خدشات پر غور کیا جارہا ہے۔
|
بڑا فیصلہ
|
انکا کہنا تھا ’خوش قسمتی سے بورڈ کے بعض ممبران نے ہماری بات سنی اور بورڈ کو معلوم ہے کہ کھلاڑی سیکورٹی کے بارے میں فکر مند ہیں۔‘
پیٹرسن نے مزید کہا کہ ’ کھلاڑیوں کی بات سننے کے بعد بورڈ جو بھی فیصلہ کرے گا وہ ایک بڑا فیصلہ ہوگا۔ میں بورڈ کو یہ بتاؤں گا کہ ڈریسنگ روم میں کھلاڑی اپنی حفاظت کے بارے میں کس طرح تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور بورڈ اس پر کوئی بھی فیصلہ منگل کو کرے گا۔‘
دریں اثناء پیر کو پاکستان کے صدر پرویز مشرف کے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نسیم اشرف نے بھی اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔ پاکستان میں کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا انتخاب صدر ہی کرتے ہیں۔ نسیم اشرف کو 2006 میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین منتخب کیا گیا تھا۔
اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد نسیم اشرف نے کہا، ’میں نے صدر کے دفتر اپنا استعفی بھیج دیا ہے اور اب میں بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے کام نہیں کرسکتا ہوں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’صدر کے مستعفی ہونے کے بعد مجھے نہیں لگتا کہ اخلاقی طور پر مجھے اپنے عہدے پر بنے رہنا چاہیے۔‘ حالانکہ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے استعفی سے چیمپئنز ٹرافی متاثر نہیں ہوگی۔ انوں نے کہا، ’ٹورنامنٹ جاری رہے گا کہ کیونکہ بورڈ تو کام کر ہی رہا ہے۔ میں تب تک اپنا کام کرتا رہوں گا جب تک میرا استعفی منظور نہیں ہوجاتا۔ ‘