Wednesday, 23 July, 2008, 12:35 GMT 17:35 PST
سری لنکا کے ابھرتے ہوئے نئے سپنر اجنتھا مینڈس اپنے کیریئر کا پہلا ٹیسٹ میچ انڈیا کے خلاف کھیل رہے ہیں۔ انڈیا اور سری لنکا کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ بدھ (آج) سے کولمبو میں شروع ہوا ہے۔
تیئس سالہ مینڈس نے حال ہی میں ایشیا کپ میں حصہ لے کر اپنا نام بنایا تھا اور ٹیسٹ سیریز میں وہ سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے موتھایا مرلی دھرن کے ساتھ گیند کریں گے۔
سری لنکا کے کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ارجنا رانا ٹنگا نے کہا ہے کہ ’وہ اپنی نو کے ایک اور انوکھے (بولر) ہیں۔‘
اس میچ میں ایسے قانون کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے جس میں کھلاڑی ایمپائر کے فیصلے کو چیلنج کر سکیں گے اور ٹی وی پلیز کے کے لیے رجوع کر سکیں گے۔
دوسری طرف انڈیا کے بلے باز سچن تندولکر بھی کوشش کریں گے کے برائن لارا کا سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز 11،953 کا ریکارڈ توڑ دیں۔ انہیں یہ ریکارڈ توڑنے کے لیے صرف 172 رنز درکار ہیں۔
تاہم سب کی نظریں نئے بولر مینڈس پر ٹکی ہوئی ہیں جنہوں نے 6 جولائی کو ایشیا کپ میں صرف 13 رنز پر انڈیا کے تین کھلاڑی آؤٹ کر دیے تھے۔
مینڈس لیگ بریک، آف بریک، گگلی، ٹاپ سپنرز کی ورائٹی بڑی آسانی اور بغیر بولنگ ایکشن میں کوئی واضح تبدیلی لائے کرا سکتے ہیں۔ ان کی سب سے خطرناک گیند کو ’کیرم بال‘ کہا جاتا ہے جو وہ ہاتھ کی تیسری انگلی کے استعمال سے کراتے ہیں اور بیٹسمینوں کو اسے کھیلنے میں خاصی دشواری پیش آتی ہے۔
ارجنا رانا ٹنگا کہتے ہیں کہ ’ہمیں پتہ نہیں کہ ہمیں ایسے لوگ کہاں سے ملے ہیں لیکن دس برس میں ایک مرتبہ کہیں سے ہمارے پاس اس جیسے بولر آ جاتے ہیں۔‘