Wednesday, 16 July, 2008, 15:45 GMT 20:45 PST
مناء رانا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان کے سابق کرکٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کرکٹ میں ہونے والے پے در پے تنازعات اور محمد آصف کے ڈوپ ٹیسٹ کے مثبت نتائج آنے کے پاکستان کی کرکٹ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور کوچ جاوید میاں داد کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال بہت افسوس ناک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کی ذمہ داری محمد آصف کے ساتھ ساتھ کرکٹ بورڈ پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرکٹ بورڈ کی کھلاڑیوں پر گرفت بے حد کمزور ہے اور چونکہ کرکٹ بورڈ کے موجودہ ارباب اختیار کرکٹ کی کوئی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے لہٰذا وہ کھلاڑیوں کو سنبھال نہیں پا رہے۔
جاوید میاں داد کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے آئے دن پاکستان کی کرکٹ ایک نئےتنازعے کا شکار ہو رہی ہے اور دوسری جانب ٹیم
کی کارکردگی کا گراف بدستور نیچے جا رہا ہے اور اگر زمبابوے اور بنگلہ دیش کے خلاف یہ حالیہ فتوحات نہ ہوتیں تو ٹیم کی رینکنگ
مزید گر جاتی۔
|
غلط فیصلہ
|
انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ محمد آصف کے پکڑے جانے کے بعد بھی کرکٹ بورڈ نے ان پر اپنی گرفت مضبوط نہیں کی تو ایسا تو ہونا ہی تھا۔
جاوید میاں داد نے کہا کہ اس تمام صورتحال میں صدر پاکستان پرویز مشرف کو کہ جو کرکٹ بورڈ کے پیٹرن بھی ہیں راست قدم اٹھانا چاہیے ۔
پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ایک اور سابق کپتان رمیض راجہ نے محمد آصف پر سخت تنقید کی اور کہا کہ واڈا کے قوانین کے مطابق انہیں جو بھی سزا ہے وہ ضرور ملنی چاہیے۔ رمیض راجہ کا کہنا تھا کہ محمد آصف کے اس عمل سے پاکستان کی کرکٹ کی بہت بدنامی ہوئی ہے اور کرکٹ کے حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس کی تمام ذمہ داری محمد آصف پر ہے لیکن کرکٹ بورڈ کی بھی کچھ نہ کچھ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب دو سال پہلے محمد آصف کے جسم میں نیندرولون کے آثار ملے تھے تو وہ معاملہ سیاست کا شکار ہوا اور کرکٹ بورڈ
کمزور ہوگیا اور اس نے محمد آصف کوسزا نہیں دی جو مزید نظم وضبط کی خلاف ورزی کا سبب بنی۔
|
دولت اور شہرت
|
انہوں نے کہا کہ اسی کمزوری کے سبب کھلاڑیوں کو شہ ملتی ہے اور بہت دولت اور شہرت مل جانے کے سبب یہ کھلاڑی خود کو سنبھال نہیں پاتے جس سے بلا آخر وہی انجام ہوتا ہے جو محمد آصف کا ہوا۔
رمیض راجہ نے کہا کہ اگرچہ محمد آصف کے ٹیم میں نہ ہونے سے آنے والے چمپیئنز ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ میں ٹیم کو نقصان تو ہوگا لیکن پاکستان کی ٹیم کو چاہیے کہ اس واقعے کا منفی اثر لینے کی بجائے ہمت کرے اور باقی کھلاڑی یہ ثابت کریں کہ وہ بھی ٹیم کو جتوا سکتے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف سلیکٹر وسیم باری کا کہناہے کہ شعیب اختر اور عمر گل کو بھی فٹنس کے مسائل کا سامنا ہے اور اب محمد آصف کے معطل ہونے کے بعد پاکستان کی ٹیم کا بالنگ اٹیک بہت کمزور ہوگیا ہے اور اس کی ذمہ داری بھی محمد آصف پر ہے انہیں ایسا عمل نہیں کرنا چاہیے تھا جس سے ملک کو اور ٹیم کو دھچکا پہنچے۔
وسیم باری نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو دو سال پہلے محمد آصف کے ڈوپ ٹیسٹ کے واقعے میں ملوث ہونے کے بعد ان پر کڑی نظر رکھنی
چاہیے تھی۔
|
آصف بچہ تو نہیں
|
انہوں نے کہا کہ محمد آصف نے لا پرواہی کی انتہا کر دی کہ ایک بار وہ پہلے بھی ڈوپ ٹیسٹ میں مثبت آئے اور اس کے بعد بھی انہوں نے احتیاط نہیں کی تو وہی قصور وار ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چئرمین لیفٹیننٹ جرنل ریٹائرڈ توقیر ضیاء کا کہنا ہے کہ محمد آصف کی یہ بہت بڑی غلطی ہے اور وہ کوئی بچے تو نہیں ہیں کہ انہیں اس کے نتائج کا اندازہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس لیے اصل قصور وار تو وہی ہیں لیکن کرکٹ بورڈ کو ایک اچھا کھلاڑی ملا تھا لیکن وہ اس کو صحیح طور پر سنبھال نہ سکے جس طرح انہوں نے شعیب اختر کو بھی خراب کیا اور کر رہے ہیں اسی طرح آصف کو بھی خراب کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ محمد آصف کے ٹیم میں نہ ہونے سے ٹیم کا نقصان تو ہوگا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ شعیب اختر کو ضرور چمپئنز ٹرافی میں کھلائیں اگر وہ دو تین میچ بھی کھیلتا ہے تو وہ میچ کا نقشہ بدل سکتا ہے اور اگر یہ دونوں ٹیم میں نہیں ہیں تو سوائے سہیل تنویر کے باقی فاسٹ بالرز اوسط درجے کے ہی ہیں۔