Monday, 14 July, 2008, 11:33 GMT 16:33 PST
ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
انڈین پریمیئر لیگ حکام کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ کے دوران جس کھلاڑی کے پیشاب کے نمونے میں ممنوعہ ادویہ کے اثرات ملے ہیں وہ پاکستان کے فاسٹ بالر محمد آصف ہیں۔
آئی پی ایل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ انڈین پریمیئر لیگ کی جانب سے تصدیق کی جاتی ہے کہ جس کھلاری نے(ڈوپنگ)قانون توڑا ہے وہ فاسٹ بالر محمد آصف ہیں‘۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس سلسلہ میں آصف کو اور پاکستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ کو تحریری طور پر مطلع کیا گیا ہے۔
آئی پی ایل کے ترجمان جاوید اختر کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹر محمد آصف جن کے پیشاب کے نمونوں میں ممنوعہ ادویہ کے نمونے پائے گئے ہیں، وہ دوسرے ٹیسٹ کے لیے اپیل کر سکتے ہیں
جاوید اختر کے مطابق آئی سی سی کے بنائے قانون کے تحت ہر کھیل کے دوران سویڈن کی آزاد ایجنسی اکثر میچوں سے قبل کسی بھی کھلاڑی کے پیشاب کے نمونوں کو اکٹھا کرتی ہے۔اس مرتبہ بھی ایجنسی نے چند کھلاڑیوں کے نمونے جمع کیے گئے تھے۔ ان کے یہ نمونے سوئٹزرلینڈ کی لیباریٹری میں بھیجے گئے تھے جن میں سے آصف کو ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا۔
اختر کے مطابق اگر دوسرا نتیجہ بھی مثبت ہوا تو سزا کے فیصلہ کا اختیار تین رکنی کمیٹی کو ہو گا۔جس میں ڈاکٹر روی باپٹ، کرکٹر سنیل گاؤسکر اور وکیل سریش گپتے شامل ہیں۔
محمد آصف کو آئی پی ایل کی بولی میں چھ لاکھ پچاس ہزار ڈالر میں’دلی ڈئر ڈیولز‘ نے خریدا تھا اور اس ٹورنامنٹ سے واپسی پر ہی یکم جون کو انہیں دبئی ایئرپورٹ پر مبینہ طور پر ممنوعہ نشہ آور شے کی برآمدگی پر حراست میں لیا گیا تھا۔ دبئی حکام نے اٹھارہ دن حراست میں رکھنے کے بعد انہیں رہا کیا تھا تاہم ان پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ اکتوبر سنہ 2006 میں محمد آصف پر ممنوعہ دوا نیندرولون کے استعمال کی پاداش میں ایک برس کی پابندی لگائی گئی تھی جو کہ اپیل کے نتیجے میں دو ماہ بعد اٹھا لی گئی تھی۔