Thursday, 03 July, 2008, 02:04 GMT 07:04 PST
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے سنہ دو ہزار چھ میں انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان کھیلے گئے اوول ٹیسٹ کا نتیجہ تبدیل کر کے اسے ڈار قرار دے دیا ہے۔
یہ میچ پاکستانی ٹیم پر لگائے گئے بال ٹمپرنگ کے الزام کی وجہ سے متنازعہ بن گیا تھا۔ میچ میں انگلینڈ کو فاتح قرار دیا گیا تھا لیکن آئی سی سی کے مطابق اب اسے ڈرا سمجھا جائے گا۔
دبئی میں اپنے سالانہ اجلاس کے بعد آئی سی سی نے کہا کہ اس میچ کے غیر معمولی حالات کی وجہ سے میچ کا اصل نتیجہ مناسب نہیں تھا۔
میچ اس وقت متنازع ہو گیا تھا جب بال ٹیمپرنگ کے الزامات پر برہم پاکستانی ٹیم نے چائے کے وقفے کے بعد میدان میں اترنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس پر امپائر ڈیرل ہیئر نے انگلینڈ کو فاتح قرار دے دیا گیا تھا۔
آئی سی سی نے جمعرات کو دبئی میں اپنے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا۔
شہریار خان نے جو اوول تنازع کے وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین تھے، کہا ہے کہ وہ میچ کے نتیجے کو بدلنے کے کسی بھی فیصلے کا خیر مقدم کریں گے۔
انہوں نے بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو سے بات کرتے ہوئے ان دعوؤں پر برہمی کا اظہار کیا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم نے میدان میں آنے سے انکار کر دیا تھا۔
شہریار خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم بال ٹیمپرنگ کا الزام لگنے کے بعد میدان میں واپس آنے میں صرف تاخیر کر رہی تھی۔
’ہم نے میدان میں آنے میں تاخیر کی اور انگلش کرکٹ بورڈ اور ریفری کو تین مرتبہ بتایا کہ ہم میدان میں آنے کو تیار ہیں‘
پاکستان نے اوول تنازع کا ذمہ دار امپائر ڈیرل ہیئر کو قرار دیا تھا۔ ڈیرل ہیئر اور بلی ڈوکٹروو نے پہلے انگلینڈ کو یہ کہہ کر پانچ پینلٹی رنز دیئے تھے کہ پاکستانی ٹیم گیند کو سوئنگ کرنے کے لیے اسے ٹیمپر کر رہی ہے۔ بعد میں انگلینڈ کو میچ کا فاتح قرار دے دیا گیا تھا۔
تاہم بعد میں اس وقت پاکستان کرکٹ کے کپتان انضمام الحق کو آئی سی سی کے ٹرائبیونل نے بال ٹیمپرنگ کے الزام سے بری کر دیا تھا اگرچہ ابتدا میں کھیل شروع کرنے سے انکارکر کے کھیل کی بے توقیری کے الزام میں ان پر چار میچ کھیلنے کی پابندی لگائی گئی تھی۔
بعد میں آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر کو آئی سی سی کے امپائرنگ پینل سے ہٹا دیا گیا تھا
پاکستان نے یہ بھی مان لیا تھا کہ وہ سنہ دو ہزار بارہ میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ انگلینڈ میں کھیلے گا جس کی فیس اوول میچ کے نقصان پر زرِ تلافی کے طور پر ادا کر دی جائے گی۔