Thursday, 26 June, 2008, 10:25 GMT 15:25 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
وریندر سہواگ اور سریش رائنا نے پاکستانی بولنگ کو مکمل طور پر بے بس کرتے ہوئے بھارت کو ایشیا کپ کے اہم میچ میں 6 وکٹوں سے کامیابی دلادی۔
وریندر سہواگ نے صرف 95گیندوں پر 12چوکوں اور5 چھکوں کی مدد سے 119رنز کی طوفانی اننگز کھیلی۔ سریش رائنا نے بھی محض 69گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے84 رنز سکور کیے جس میں10 چوکے اور3 چھکے شامل تھے۔
بھارت نے پاکستان کے سکور299 رنز چار کھلاڑی آؤٹ کے جواب میں 43 ویں اوور میں4 وکٹوں کے نقصان پر مطلوبہ سکور پورا کرلیا۔
ٹورنامنٹ کے قواعد کے مطابق اگلے مرحلے میں کوالیفائی کرنے والی چاروں ٹیموں نے اگر ایک دوسرے کے خلاف پوائنٹس حاصل کیے ہیں تو
وہ دوسرے مرحلے میں اس کے پاس موجود رہیں گے۔ دوسرے مرحلے میں پہنچنے والی ٹیموں کے ہانگ کانگ اور امارات کے خلاف حاصل کردہ پوائنٹس
ان کے مجموعی پوائنٹ میں شامل نہیں ہونگے۔
سریش رائنا کی وکٹ بھی راؤ افتخار نے حاصل کی لیکن پاکستانی بولنگ اس وقت غیرموثر ہوگئی جب عمر گل سائیڈ اسٹرین کی وجہ سے بولنگ کے قابل نہ رہے اور کپتان شعیب ملک جو بیٹنگ میں کریمپ پڑجانے کے سبب میدان سے باہر چلے گئے تھے بھارتی اننگز کے چودہویں اوور کے بعد میدان میں واپس آئے تھے اور قواعد وضوابط کے تحت تیئسویں اوور کے بعد بولنگ کرسکتے تھے لیکن انہوں نے بولنگ نہیں کی۔
31 ویں اوور میں شاہد آفریدی نے وریندر سہواگ کو یونس خان کے ہاتھوں کیچ کرادیا لیکن اسوقت بھارت کا سکور231 ہوچکا تھا۔
کپتان مہندر سنگھ دھونی اور یوراج سنگھ کی63 رنز کی شراکت اسوقت ٹوٹی جب بھارتی ٹیم فتح کے لئے صرف چھ رنز کی دوری پر تھی۔ دھونی نے یونس خان کو چھکا لگاکر میچ کا اختتام کیا وہ 26 اور روحیت شرما صفر پر ناٹ آؤٹ رہے۔
اس سے قبل پاکستان نے شعیب ملک کی شاندار سنچری کی بدولت پچاس اوورز میں4 وکٹوں پر299 رنز بنائے تھے۔
پاکستانی کپتان کریمپ پڑجانے کے سبب 125 کے سکور پر بیٹنگ جاری نہ رکھ سکے۔ ان کی اننگز میں پندرہ چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔
نیشنل سٹیڈیم میں ایشیا کپ کے اہم میچ کا ٹاس پاکستان نے جیتا اور پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا۔
شعیب ملک اور سلمان بٹ نے ابتدا میں محتاط انداز اختیار کیا تاہم وہ4ء21 اوورز کھیل کر پہلی وکٹ کی شراکت میں90 رنز کا اضافہ
کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
سلمان بٹ 64گیندوں پر35 رنز بناکر پیوش چاؤلہ کی گیند پر سریش رائنا کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔
شعیب ملک اور یونس خان نے رنز کی رفتار تیز کرتے ہوئے اپنی ٹیم کے لیے ایک بڑے سکور تک پہنچنے کی امید کو زندہ رکھا۔
شعیب ملک نے جو پریس کانفرنس میں صحافیوں کے چبھتے ہوئے سوالات اور اپنے تیز جوابات کے سبب ہمیشہ سرخیوں میں رہتے ہیں شاندار سنچری کے ذریعے بھی شہ سرخیوں میں آ گئے۔
وہ ون ڈے انٹرنیشنل میں چھٹی، بھارت کے خلاف تیسری اور بحیثیت کپتان پہلی سنچری ایک سو چار گیندوں پر مکمل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کی اننگز میں تیرہ چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔
شعیب ملک نے آخری ون ڈے سنچری دوسال قبل بھارت کے خلاف لاہور میں بنائی تھی جس کے بعد54 میچز سنچری کے بغیر گزرگئے تھے۔
122کے انفرادی سکور پر شعیب ملک کو کریمپ پڑجانے کے سبب رنر کی خدمات حاصل کرنی پڑیں لیکن125 کے سکور پر وہ اننگز جاری نہ رکھ
سکے اور انہیں واپس جانا پڑا۔
شعیب ملک اس لحاظ سے بھی خوش قسمت رہے کہ یوسف پٹھان کے ایک ہی اوور میں پہلے116 رنز پر پیوش چاؤلہ اور پھر121 کے سکور پر گوتم
گمبھیر نے ان کے کیچز ڈراپ کردیے۔
یونس خان نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے پانچ چوکوں کی مدد سے59 رنز بنائے۔ انہیں یوسف پٹھان کی گیند پر سریش رائنا نے کیچ کیا۔
یونس خان اور شعیب ملک کے درمیان دوسری وکٹ کی شراکت میں129 رنز بنے۔ محمد یوسف نے 20گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے5 چوکوں کی مدد
سے30 رنز بنائے۔
شاہد آفریدی آٹھ گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 9 رنز بناکر آر پی سنگھ کی گیند پر دھونی کو کیچ دے گئے۔
سترہ رنز پر ایشانت شرما کی گیند پر سریش رائنا کے ہاتھوں کیچ ہونے سے بچنے والے مصباح الحق نے31 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔
سہیل تنویر تین رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔
بھارتی فیلڈرز نے چار کیچز ڈراپ کیے۔