Monday, 23 June, 2008, 16:28 GMT 21:28 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
بھارت کی کرکٹ ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی گزر ے کل کی کامیابیوں کو بھول کر ایشیا کپ کو ایک نئی شروعات کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
وہ اس بحث کا حصہ بننے کے لئے بھی تیار نہیں کہ بھارتی کرکٹ ٹیم اس ٹورنامنٹ میں ’فیورٹ‘ ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اہم بات یہ ہوگی کہ آپ کس طرح پورے ٹورنامنٹ میں اپنی کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھتے ہیں۔
|
|
انہوں نے کہا کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں کہ ماضی میں آپ نے کتنے میچ جیتے اور کتنے ہارے اصل بات آج کی ہے کہ اس دن آپ کیا کررہے ہیں۔ آپ کو بالکل نئے انداز سے ہر چیز شروع کرنی ہوتی ہے خاص کر ون ڈے کرکٹ میں۔
مہندر سنگھ دھونی سے اوپر کے نمبروں پر ان کے بیٹنگ کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ کہنے لگے کہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ اوپنرز نے ٹیم کو کس طرح کا آغاز فراہم کیا ہے۔
عرفان پٹھان کی فٹنس کے بارے میں سوال پر بھارتی کپتان نے کہا کہ اسے انجری نہیں کہہ سکتے ان کی سائیڈ اسٹرین کا مسئلہ ہے اور پہلے میچ میں انہیں آرام دیا جائے گا تاکہ وہ دوسرے میچ کے لئے فٹ ہوسکیں۔
انہوں نے کہا کہ اس ٹورنامنٹ میں اچھے میچز ہیں لہذا نہ صرف نوجوان کھلاڑیوں بلکہ پوری ٹیم کے لئے ہر میچ چیلنج ہے اور صلاحیتوں کا امتحان ہے۔
اسوقت کرکٹرز کو بیک وقت تین طرز کی کرکٹ کھیلنے کو مل رہی ہے تو ایسے میں وہ خود کو کس طرح ٹوئنٹی ٹوئنٹی پچاس اوورز اور ٹیسٹ کرکٹ کے لئے تیار کرسکتے ہیں؟ اس سوال پر مہندر سنگھ دھونی نے کہا کہ انٹرنیشنل کیلنڈر بہت سخت اور مصروف ہوتا جارہا ہے جس میں کرکٹرز کو ایڈجسٹ کرنا ہی پڑتا ہے۔
دھونی نے کمزور ٹیم ہانگ کانگ کے خلاف بھی تجربات کو خارج ازامکان قرار دے دیا اور کہا کہ کرکٹ بہت عجیب وغریب کھیل ہے۔
دھونی سے جب پاک بھارت مقابلوں کی روایتی رقابت کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ یہ رقابت تو رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف پاک بھارت کرکٹ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ جب بھارتی ٹیم آسٹریلیا سے کھیلتی ہے تو اس وقت بھی میدان میں یہی کیفیت رہتی ہے۔ تاہم اب پاکستان اور بھارت تواتر سے کھیل رہے ہیں تو پریشر میں بھی کچھ کمی آئی ہے۔
مہندر سنگھ دھونی سے جب یہ پوچھا گیا کہ سی بی سیریز اور پھر ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی جیت نے آپ کو کامیاب کپتان بنادیا ہے اس کا راز کیا ہے؟ تو وہ ہنستے ہوئے بولے ’ اس کا فیصلہ آپ ہی کیجئے۔ کوئی اپنے منہ میاں مٹھو نہیں بنتا۔‘