http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 20 June, 2008, 09:12 GMT 14:12 PST

عبدالرشید شکور، مناء رانا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پاکستان

تمام ٹیسٹ درست تھے: محمد آصف

یکم جون کو کسی ممنوعہ شے کی برآمدگی پر دبئی ائیر پورٹ پر حراست میں لیے گئے پاکستان کی ٹیم کے فاسٹ بالر محمد آصف دبئی کے حکام کی جانب سے الزامات واپس لینے پر جمعے کی صبح دبئی سے براستہ کراچی لاہور پہنچ گئے ہیں۔

پاکستان پہنچ کر انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ان کے جتنے بھی ٹیسٹ لیے گئے وہ سب درست تھے اور اس سے پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی پی ایل سے پہلے ان کا جو ڈوب ٹیسٹ لیا تھا وہ بھی ٹھیک تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ کوئی ممنوعہ دوا استعمال نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی اس سلسلے میں ہدایات پر پورا عمل کرتے ہیں۔

آصف رہا ، وطن واپس پہنچ گئے

محمد آصف کی رہائی کا فیصلہ

محمد آصف نے کہا کہ ان کے پاس حکیم کی ایک دوا تھی اور انہیں معلوم نہیں تھا کہ اس میں افیون تھی یا نہیں۔ انہوں نے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی رہائی میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف اور دبئی میں پاکستان کے سفیر احسان اللہ کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف جمعے شام کو محمد آصف سے ملنے کے بعد ذرائع ابلاغ کو حالات سےآگاہ کریں گے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے کمیونیکیشن آفیسر سمیع الحسن برنی کا کہنا ہے کہ آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہدایت دی ہے کہ وہ آصف کے سلسلے میں کی گئی تمام تحقیقات سے آئی سی سی کو آگاہ رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک تو محمد آصف کے کیس کے سلسلے میں کوئی بات سامنے نہیں آئی لیکن کیونکہ آئی سی سی عالمی ڈوپنگ ایجینسی کی رکن ہے اس لیے وہ اس تمام معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

آصف نے ان تمام خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے جن میں دبئی ائرپورٹ پر حراست میں لیے جانے کے وقت انہیں نشے کی حالت میں بتایا گیا تھا اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ انہوں نے ائرپورٹ اسٹاف کے ساتھ بدتمیزی کی تھی۔

انیس روز دبئی میں زیر حراست رہنے کے بعد وطن واپسی پر بی بی سی کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں محمد آصف نے کہا کہ ان کی سمجھ سے باہر ہے کہ میڈیا نے اس طرح کی غیرذمہ دارانہ خبریں کیسے دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہ نشے کی حالت میں تھے اور نہ ہی انہوں نے کسی کے ساتھ بدتمیزی کی۔ اس طرح کی خبریں ان کے لیے تکلیف دہ تھیں اور ان سے ان کی ساکھ کو زبردست نقصان پہنچا ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ وہ ان تمام باتوں کو غلط ثابت کریں گے۔

محمد آصف نے کہا کہ ان انیس دنوں کے دوران ان کے بارے میں متضاد باتیں سامنے لائی گئیں حالانکہ اصل حقیقت کیا ہے وہ کسی کو نہیں معلوم۔
انہوں نے حراست کے دوران اپنے سے منسوب انٹرویوز کو بھی جعلی قرار دیا اور کہا کہ اس دوران انہوں نے صرف گھر والوں اور کرکٹ بورڈ سے رابطہ رکھا تھا۔

محمد آصف نے کہا کہ اپنے ملک میں آنے کی انہیں جو خوشی ہے وہ بیان سے باہر ہے انہیں اپنے والدین سے ملکر بہت سکون ملا ہے اور اب ان کی اولین ترجیح جلد سے جلد مطلوبہ فٹنس لیول حاصل کرکے پاکستانی ٹیم میں واپسی ہے، جس کے لیے وہ بہت بے چین ہیں۔