Monday, 16 June, 2008, 18:53 GMT 23:53 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ عارف علی خان عباسی نے کہا ہے کہ نیشنل سٹیڈیم کے اطراف پاکستان کرکٹ بورڈ کی ملکیت اراضی پر ہاوسنگ کالونیوں کی اعلی سطحی تحقیقات ہونی چاہیے۔
عارف علی خان عباسی نے کراچی پریس کلب کے پروگرام ” میٹ دی پریس،، میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دو سابق صدور کی واضح ہدایات کے باوجود نیشنل سٹیڈیم کے اطراف پاکستان کرکٹ بورڈ کی ملکیت اراضی کو غیرقانونی طور پر فروخت کردیا گیا۔
انہوں نے پاکستانی کرکٹ کی تباہی کا ذمہ دار سابق صدر فاروق لغاری کو قرار دیا اور کہا کہ نیشنل سٹیڈیم کے اطراف پاکستان کرکٹ بورڈ کی ملکیت اراضی تقریباً ایک سو آٹھ ایکڑ ہے جس کے بارے میں صدر ضیاء الحق اور صدر غلام اسحق خان کی واضح ہدایات تھیں کہ اسے کسی بھی صورت میں فروخت نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن فاروق لغاری نے جب وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن انچیف تھے ایک آرڈیننس کے ذریعے سکیورٹی ایکسچنج کمیشن آف پاکستان ( ایس ای سی پی ) کو لکھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نام کی کمپنی کو بند کردیا جائے اور اس کے جتنے بھی پیسے اور پراپرٹی ہے اسے سرکاری ادارے کی حیثیت میں منتقل کردیں۔
عارف عباسی کا کہنا ہے کہ حیرت اس بات پر ہے کہ اس آرڈیننس کو کبھی بھی پارلیمنٹ میں نہیں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس ای سی
پی کے بارہا نوٹسز کے بعد بالآخر پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک سابق سربراہ توقیر ضیاء کے دور میں پی سی بی کے وکیل نے یہ بیان دے
دیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ایک کمپنی کی حیثیت سے ختم ہوگئی ہے لہٰذا سکیورٹی ایکسچنج کمیشن آف پاکستان اسے اپنے ریکارڈ سے نکال
دے۔
|
|
عارف علی عباسی نے کہا کہ انہوں نے اپنے وکیل مظفرعلی خان کو عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کو کہا لیکن انہوں نے بتایا کہ پانچ ججوں نے سماعت سے انکار کردیا ہے البتہ چھٹے جج نے ان کے حق میں حکم امتناعی جاری کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں کئی پردہ نشینوں کے نام بھی آتے ہیں۔
عارف علی خان عباسی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ڈوپنگ سمیت کئی حساس معاملات پر اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اگر قاسم عمر اور یونس احمد کے الزامات کو سنجیدگی سے سنا جاتا تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ محمد آصف کو پہلے بھی ڈوپنگ میں بچایاگیا کہ وہ ٹیم کے لیے لازمی ہیں حالانکہ کرکٹ میں کوئی بھی کرکٹر لازمی نہیں ہے۔