Wednesday, 30 April, 2008, 17:52 GMT 22:52 PST
برازیل کے مشہور فٹ بالر رونالڈو اور خواتین کے لباس میں ملبوس تین مرد جسم فروشوں کا ایک سکینڈل منظر عام پر آیا ہے۔
الزام ہے سوموار کے روز ریو ڈی جینیرو میں اپنی دوست کو گھر چھوڑنے کے بعد رونالڈو نے تین طوائفوں کو ساتھ لیا۔ ایک مقامی ہوٹل میں کمرہ لیا کمرے میں پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ وہ خاتون طوائفیں نہیں نسائی لباس کے شوقین مرد ہیں۔
ریو پولیس کے مطابق رونالڈو کا دعویٰ ہے کہ بعد میں ان تینوں نے رینالڈو سے زبردستی پیسے لینے کی کوشش کی۔
مقامی میڈیا کے مطابق ایک طوائف ایلبرٹین کا کہنا ہے کہ رونالڈو کو جب یہ معلوم ہوا کہ وہ کمرے میں آنے والوں میں ایک مرد ہے تو انہوں نے اسے مارنے کی دھمکی دی۔
ریو کے پولیس افسر کارلوس اوگسٹو کے مطابق رونالڈو نے کہا ’ایلبرٹین ان کی گاڑی کے کاغذات لے گیا ہے اور اس کے عوض تیس ہزار ڈالر کا مطالبے کیا ہے‘۔
پولیس افسر نے کہا ’رونالڈو قبول کرتے ہیں کہ انہوں نے دل بہلانے کے لیے طوائفوں کی خدمات حاصل کیں اور یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ یہ کافی حد تک ممکن ہے کہ رونالڈو پیسوں کے جبری مطالبے کے شکار ہوں‘۔
طوائف کا کہنا ہے کہ رونالڈو نشے میں تھے اور انہوں نے پیسے دینے سے انکار کیا اور مارنے کی دھمکی دی۔
رونالڈو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں کبھی منشیات کا استعمال نہیں کیا اور زور دیا کہ وہ زبردستی پیسے لینے کے شکار ہوئے ہیں۔
تین بار فیفا کے فٹ بالر آف دی ایئر بننے والے رونالڈو برازیل میں گھٹنے کی سرجری سے صحتیاب ہو رہے ہیں۔