Monday, 28 April, 2008, 11:10 GMT 16:10 PST
ہربھجن سنگھ کی طرف سے فاسٹ بولر سری سانت کو تھپڑ مارنے کی پاداشت میں گیارہ ماہ تک انڈین کرکٹ لیگ کھیلنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ہربھجن سنگھ پر گیارہ میچ کی پابندی کے علاوہ تمام ٹورنامنٹ کے لیے میچ فیس سے محروم ہوں گے۔
اس واقعے پر ہربھجن سنگھ کے خلاف تادیبی کارروائی کی سماعت پیر کے روز دلی میں ہوئی ہے۔ اس سماعت کی سربراہی میچ ریفری فرخ انجینیئر نے کی۔
سریسنتھ اس واقعے کے بعد پھوٹ پھوٹ کر روئے تھے جو کہ لاکھوں افراد نے اپنے ٹی وی سکرینز پر دیکھا۔
بھارت کے کرکٹ کنٹرول بورڈ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ بھی ہربھجن کے خلاف کارروائی شروع کریں گے کیونکہ وہ ائی پی ایل میں کھیلنے کے علاوہ سینٹرل کانٹریکٹ پر ہیں۔
ہربھجن پر آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے ’لیول فور‘ (درجہ چار) کے تحت الزام عائد کیا جائے گا۔ اگر ہربھجن کو قصوروار پایا جاتا ہے تو ان پر پانچ ٹیسٹ اور دس ایک روزہ میچوں سے لے کر عمر بھر تک کی پابندی لگائی جا سکتی ہے۔
ہربھجن سنگھ حال میں ایک اور تنازعے میں بھی ملوث تھے جب ان پر الزام لگا تھا کہ آسٹریلیا کے ٹیسٹ سیریز کے دورے میں ایک میچ کے دوران انہوں نے آسٹریلیا کے اینڈریو سائمنڈز کو ’بندر‘ کہا تھا۔
اس واقعے کے سلسلے میں ہربھجن سنگھ پر نسلی تعصب پر مبنی بدکلامی کا الزآم لگا تھا تاہم انہیں نسلی تعصب کے الزام میں بری کیا گیا لیکن بدکلامی کا قصوروار پایا گیا۔
ہربھجن پر آسٹریلوی دورے کے اس واقعے کے بعد کارروائی پر بھارتی شائقین کافی مشتعل ہوئے تھے اور بھارت بھر میں ان الزامات کے خلاف احتجاج دیکھا گیا۔ ایک وقت میں تو ایسا لگ رہا تھا جیسے بھارت شاید یہ دورے مکمل کرنے سے انکار کر دے۔
آسٹریولوی دورے کے بعد ہربھجن کا بھارتی شائقین نے ایک ہیرو کے طور پر استقبال کیا تاہم اس تازہ واقعے کے بعد عام پبلک انہیں ایک ’ولین‘ قرار دے رہی ہے۔
ہربھجن پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی ٹیم اور پنجاب کی ٹیم کے میچ کے بعد غصے میں شریسنتھ کو پہلے دھکا دیا اور پھر تھپڑ مارا۔
ہربھجن اس سے انکار کرتے ہیں تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس واقعے کی ویڈیو ثبوت ہے۔