Tuesday, 15 April, 2008, 11:14 GMT 16:14 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
فاسٹ بولر شعیب اختر کی اپیل کاجائزہ لینے کے لئے قائم ایپلٹ کمیٹی کے سربراہ جسٹس ( ریٹائرڈ ) آفتاب فرخ نے کہا ہے کہ وہ انصاف کے تقاضے پورے کرینگے کیونکہ وہ کسی کا دباؤ قبول کرنے والے شخص نہیں۔
ایپلٹ کمیٹی، جس کے دیگر دو ارکان سلمان تاثیر اور حسیب احسن ہیں، جمعرات کو قذافی سٹیڈیم میں شعیب اختر اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکلاء سے ملاقات کر کے یہ طے کرے گی کہ اس معاملے کی باقاعدہ سماعت کب شروع کی جائے۔
جسٹس ( ریٹائرڈ ) آفتاب فرخ نے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ اپنے خدا اور ضمیر کو جواب دہ ہیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایپلٹ کمیٹی کی کارروائی شعیب اختر کے وکلاء کے رویے پر انحصار کرے گی۔ جب کارروائی شروع ہوگی تب ہی پتہ چلے گا کہ ان کے ارادے کیا ہیں؟ کیا وہ اس معاملے کو طول دینا چاہتے ہیں یا اسے جلد ختم کرنا چاہتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ وہ شعیب اختر کو صفائی کا مکمل موقع دینگے جو ان کا بنیادی حق ہے۔
|
کوئی دباؤ نہیں
|
لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج، جو1956 کے اولمپکس کے سائیکلنگ ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں، یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ شعیب اختر کی اپیل کا معاملہ دونوں فریقین کے متضاد بیانات اور میڈیا میں آنے کے سبب پیچیدہ ہوگیا ہے۔
دوسری جانب فاسٹ بولر شعیب اختر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد دوبارہ پاکستانی ٹیم میں واپس آ کر اس کی جیت میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ شعیب اختر نے کہا کہ انہیں ایپلٹ کمیٹی سے انصاف کی توقع ہے۔
شعیب اختر کے وکلاء کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی انضباطی کمیٹی کے فیصلے کی کاپی مل گئی ہے۔ واضح رہے کہ شعیب اختر پر ڈسپلن کی خلاف ورزی پر پانچ سالہ پابندی عائد کی گئی ہے۔