Thursday, 03 April, 2008, 13:08 GMT 18:08 PST
مناء رانا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان کرکٹ بورڈ نے فاسٹ بالر شعیب اختر پر بورڈ کے ارباب اختیار کے خلاف بیان دینے پر بیس کروڑ روپے کا ہرجانہ کیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل تفضل حسین رضوی کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس میں شعیب اختر کو دس کروڑ روپے کا نوٹس مؤکل کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش پر اور دس کروڑ روپے کا نوٹس پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے نام کو داغدار کرنے دیا گیا ہے۔
اسی انٹرویو میں شعیب اختر نے کہا تھا کہ کرکٹ بورڈ کے چئرمین نے پاکستان کی ٹیم کے باقی کھلاڑیوں سے بھی حصہ طلب کیا تھا۔
پی سی بی کے وکیل کی جانب سے دیے گئے اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر نسیم اشرف پر یہ الزام سرا سر بے بنیاد ہے اور اس سے ان کی شہرت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اس کے علاوہ اس نوٹس میں شعیب اختر سے کہا گیا ہے کہ وہ پی سی بی کے چئرمین کے خلاف دیے گئے اپنے بیان کو واپس لیں اور اس پر غیر
مشروط معافی مانگیں۔
|
اگر مزید ’ہتک آمیز‘ بات کہی تو
|
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر شعیب اختر نے اگر کوئی مزید ہتک آمیز بات کہی تو اس پر مزید ہرجانے کا دعوی کیا جا سکے گا جب کہ ان کے مؤکل اس طرح کے بیان کو نشر یا شائع کرنے والے ادارے کو بھی ہرجانے کا نوٹس بھیجنے کا حق رکھتے ہیں۔
اس سے پہلے جمعرات کی صبح لاہور آمد پر شعیب اختر نے لاہور ائر پورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کل یعنی جمعہ کو دو بجے تک اپنی اپیل دائر کر دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے آئی پی ایل کھیلنے سے نہیں روکا جا سکتا کیونکہ میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے سنٹرل کانٹریکٹ میں شامل نہیں ہوں۔ انہوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔