http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 19 February, 2008, 13:18 GMT 18:18 PST

عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

دورے کا انحصار سکیورٹی رپورٹ پر

آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے اپنی ٹیم کے دورۂ پاکستان کو مارچ کے اوائل میں پاکستان جانے والے سکیورٹی وفد کی حتمی رپورٹ سے مشروط کر دیا ہے۔

کوالالمپور میں پاکستان اور آسٹریلوی کرکٹ بورڈز کے حکام کے درمیان مذاکرات میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ آسٹریلوی سکیورٹی وفد مارچ کے اوائل میں پاکستان کا دورہ کر کے میچوں کے مقامات اور سکیورٹی کے معاملات کا جائزہ لے گا اور اس کی رپورٹ کی روشنی میں آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے دورۂ پاکستان کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

دونوں بورڈز کے حکام نے دورے کی تاریخوں میں تبدیلی پر بھی اتفاق کیا ہے اور اگر آسٹریلوی ٹیم پاکستان آتی ہے تو یہ دورہ 29 مارچ سے 27 اپریل کے دوران ہوگا۔ اس سے قبل آسٹریلوی ٹیم نے10 مارچ سے27 اپریل تک پاکستان کا دورہ کرنا تھا۔

اس سے قبل آسٹریلوی کرکٹ بورڈ اپنے سکیورٹی وفد کو بھی پاکستان بھیجنے کے بارے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھا، تاہم اب اس نے اپنے سکیورٹی ماہرین کو پاکستان بھیجنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو جیمز سدرلینڈ کا کہنا ہے کہ دورے کی تاریخ میں تاخیر سے انہیں پاکستان میں انتخابات کے بعد کی صورتحال کا صحیح طور پر جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔

واضح رہے کہ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کو تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلنے آئندہ ماہ پاکستان آنا ہے، لیکن آسٹریلوی کرکٹ بورڈ پاکستان کے دورے کے بارے میں ابتداء ہی سے تذبذب کا شکار ہے اور متعدد آسٹریلوی کرکٹرز بھی پاکستان کے دورے کے بارے میں سکیورٹی کے خدشات ظاہر کرچکے ہیں۔

آسٹریلوی کرکٹ ٹیم نے سنہ 2002ء میں بھی سکیورٹی صورتحال کو بنیاد بنا کر پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کولمبو اور شارجہ میں کھیلی تھی۔ تاہم اس مرتبہ پاکستان کرکٹ بورڈ آسٹریلیا سے نیوٹرل مقام پر سیریز کھیلنے کی تجویز مسترد کرچکا ہے۔