Thursday, 31 January, 2008, 05:38 GMT 10:38 PST
بیورو رپورٹ
بی بی سی نیوز
بھارت کے کرکٹر ہربھجن سنگھ کو آسٹریلوی کرکٹر اینڈریو سمنڈز کے خلاف نسلی امتیازانہ فقرے بازی کے الزام سے بری کرنے والے جج نے کہا ہے کہ انسانی غلطی سے ہربھجن ایک بڑی سزا سے بچ گئے ہیں۔
تاہم بھارتی کھلاڑی کو غیر مہذب الفاظ استعمال کرنے پر سزا دی گئی ہے۔ جان ہینسن کا کہنا ہے کہ اگر وہ ہربھجن سنگھ کے ماضی کے ریکارڈ کے متعلق جانتے تو انہیں مختلف سزا دیتے۔
2001 میں ہربھجن سنگھ کو ایمپائر کو غصہ دلانے کے جرم میں جرمانہ اور میچ کھیلنے پر پابندی کی سزا ہوئی تھی۔
جان ہینسن نے کہا کہ ہربھجن کو اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کرنا چاہیے کیونکہ انہیں انسانی غلطیوں اور ڈیٹا بیس کا فائدہ پہنچا ہے۔
ہینسن نے کہا کہ اگر انہیں جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں پیش آنے والے واقعے کا علم ہوتا تو ہربھجن سنگھ پر ایک میچ کی پابندی لگائی جا سکتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ جب انہیں اس واقعے کا کچھ تاخیر سے علم ہوا تو انہوں نے سزا مقرر کرنے کے عمل کو از سرے نو شروع کرنے کے امکان بھی جائزہ لیا تھا لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ قواعد اور ضوابط کا بغور جائزہ لینے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ وہ اس عمل کو از سر نو شروع نہیں کر سکتے۔ لہذا انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جو سزا سنائی جا چکی ہے وہی برقرار رکھی جائے گی۔
گزشتہ ماہ بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان دوسرے ٹیسٹ کے دوران ہربھجن سنگھ کو اینڈریو سائمنڈ کو بندر کہنے کا سزا وار قرار دیا گیا تھا۔
ہربھجن کی اپیل پر سماعت کے دوران ان کے جرم کی نوعیت کو کم کردیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے اینڈریو سائمنڈ کے خلاف غیر مناسب زبان کے استعمال کا اعتراف کر لیا تھا۔ ہربھجن کی سزا کے طور پر آدھی میچ فیس ضبط کر لی گئی تھی۔
ہنیسن نے کہا کہ ان کے فیصلے پر بھارت کی طرف سے ہربھجن سنگھ کوسزا سنائے جانے کی صورت میں سیریز ادھوری چھوڑ کر واپس چلے جانے کی بات کا کوئی اثر نہیں ہوا۔