Tuesday, 29 January, 2008, 07:29 GMT 12:29 PST
بیورو رپورٹ
بی بی سی نیوز
بھارت کے کرکٹر ہربھجن سنگھ کو آسٹریلوی کرکٹر اینڈریو سمنڈز کے خلاف نسلی امتیازانہ فقرے بازی کے الزام سے بری کر دیا گیا اور ان پر عائد تین ٹیسٹ میچ کی پابندی بھی اٹھا لی گئی ہے۔
اینڈریو سمنڈز نے آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں ہربھجن پر الزام لگایا تھا کہ اس نے انہیں بندر کہہ کر پکارا۔ میچ ریفری مائیک پراکٹر نے الزام کی سماعت کے بعد ہربھجن سنگھ پر تین ٹیسٹ میچوں کی پابندی عائد کر دی تھی۔
اپیل کی سماعت میں فیصلہ ہوا کہ نسلی امتیاز کی فقرے بازی کے شواہد نہیں ملے تاہم ہربھجن غیر مہذب الفاظ استعمال کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری نرنجن شاہ نے کہا ’نسلی امتیاز کا الزام ختم ہوگیا ہے اور سزا صرف غیر مہذب الفاظ استعمال کرنے پر ملی ہے‘۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے اپیل کمشنر جان ہینسن اپنا تفصیلی فیصلہ بدھ کو ایڈیلیڈ میں دیں گے۔ تاہم یہ نہیں معلوم کہ کیا وہ اس بات پر تبصرہ کریں گے کہ کیسے مستقبل میں ایسی صورتحال کو قابو میں لایا جائے۔
آئی سی سی کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اپیل کمشنر کی رپورٹ کے چند دن بعد تبصرہ کر سکیں گے۔
بھارتی اور آسٹریلین کرکٹ بورڈ نے مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے ’ہربھجن اور سمنڈز کا معاملہ بخوبی حل ہو گیا ہے۔ دونوں کھلاڑیوں اور کپتانوں کا کہنا ہے کہ وہ کھیل پر توجہ دیں گے۔‘
واضح رہے کہ بھارتی سپنر نے ان الزامات کی تردید کی تھی کہہ انہوں نےاینڈریو سمنڈز کو بندر کہا تھا۔ اس فیصلے کے بعد بھارت نے آسٹریلیا کا دورہ منسوخ کرنے کی دھمکی تھی لیکن بعد میں اپنا فیصلہ تبدیل کر دیا تھا۔
ہربھجن کے مبینہ الفاظ کے خلاف شکایت کے بعد میچ ریفری مائیک پروکٹر نے اس کیس کی سماعت کی تھی۔ اس واقعہ کے وقت ہربھجن سنگھ سچن تندولکر کے ساتھ بیٹنگ کر رہے تھے اور سچن نے بھی کہا ہے کہ ہربھجن نے سمنڈز کو ’بندر‘ نہیں کہا۔