Wednesday, 23 January, 2008, 07:32 GMT 12:32 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
فاسٹ بولر شعیب اختر کیا پاکستان کرکٹ بورڈ کا نیا سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرسکیں گے؟ یہ سوال اس وقت کرکٹ کے حلقوں میں بڑی اہمیت اختیار کرگیا ہے ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت کے دور ے سے لے کر اب تک پاکستان کرکٹ بورڈ کے ارباب اختیار شعیب اختر کی فٹنس، اور ڈسپلن کی مبینہ خلاف ورزیوں کے بار ے میں مختلف نوعیت کے بیانات دے چکے ہیں۔
ان بیانات سے سے لگتا ہے کہ اس سال پاکستان کرکٹ بورڈ جن کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ دینے والا ہے ان میں شاید شعیب اختر شامل نہیں
ہونگے۔
|
|
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ نئے سینٹرل کنٹریکٹ انہی کھلاڑیوں کو دئے جائیں گے جن کی کارکردگی اور فٹنس کی بنیاد پر ٹیم میں شمولیت یقینی ہوگی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت حسین نغمی نے ایک اخباری انٹرویو میں کہا ہے کہ شعیب اختر نے بھارت کے دورے میں ایک مرتبہ بھی پانچ اوورز کا کوئی سپیل نہیں کرایا اور ان کی فٹنس پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے ۔
تاہم انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ شعیب اختر کی جانب سے ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزی کا کوئی واقعہ نہیں ہوا ہے۔