Saturday, 19 January, 2008, 08:10 GMT 13:10 PST
ہندوستان نے تیسرے میچ میں آسٹریلیا کو بہتر رن سے شکست دے کر ٹیسٹ میچوں میں میزبان ٹیم کی فتوحات کا سلسلہ توڑ دیا ہے۔
پرتھ میں کھیل کے چوتھے روز آسٹریلوی ٹیم تین سو چالیس رن بنا کر آؤٹ ہوگئی جبکہ جیت کے لیے اسے چار سو تیرہ رن درکار تھے۔
اس سے قبل آسٹریلیا نے لگاتار سولہ میچوں میں کامیابی حاصل کی تھی۔
سنیچر کو میزبان ٹیم نے دو وکٹوں پر پینسٹھ رن کے اسکور سے آگے کھیلنا شروع کیا۔ کھانے کے وقفے تک صرف کپتان رکی پانٹنگ آؤٹ ہوئے تھے جنہوں نے پینتالیس رن بنائے۔
آسٹریلیا کی طرف سے سب سے زیادہ رنز کلارک نے بنائے۔ وہ اکیاسی رنز بنا کر انیل کمبلے کی گیند پر سٹمپ آؤٹ ہوئے۔ ان کے علاوہ دوسرا قابلِ ذکر سکور جونسن اور مائیکل ہسی کا تھا جنہوں نے بالترتیب 50 اور 46 رنز بنائے۔
اس سے قبل آسٹریلیا اپنے ہوم گراؤنڈ پر آخری مرتبہ سن دو ہزار تین میں ہندوستان سے ہی ہارا تھا۔ وہ سیریز بھی برابر رہی تھی۔ اس میچ میں کامیابی سے ہندوستانی کھلاڑیوں کے حوصلے یقیناً بلند ہوں گے اور وہ اگلا میچ جیت کر سیریز برابر کرنے کے ان کے امکانات کو تقویت ملے گی۔
اس سیریز نے یکا یک پلٹا کھایا ہے کیونکہ پہلے دو میچوں میں میزبان ٹیم کا پلڑا بھاری رہا تھا اور دونوں ٹیموں کے درمیان تعلقات کافی تلخ ہوگئے تھے۔
آسٹریلیا کا مڈل آرڈر ناکام رہا اور پھر ہندوستانی بیٹس مین ویریندر سہواگ نے ایک اہم مرحلے پر دو وکٹ لیکر ہندوستان کی فتح کو تقریباً یقینی بنادیا۔ انہوں نے ایڈم گلکرسٹ کو آؤٹ کیا جو بہت جم کر کھیل رہے تھے۔
انڈیا کی طرف سے عرفان پٹھان نے تین جبکہ انیل کمبلے، آر پی سنگھ اور سہواگ نے دو دو وکٹ حاصل کیے۔ جبکہ شرما کے ہاتھ میں ایک
وکٹ آیا۔
اگلا میچ ایڈیلیڈ میں کھیلا جائے گا۔
یاد رہے کہ میچ کے دوسرے دن بھارتی بالروں کی عمدہ کارکردگی کی بدولت آسٹریلیا کی پوری ٹیم ہندوستان کی پہلی اننگز کے سکور 330
کے جواب میں دو سو بارہ رن بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔