Saturday, 19 January, 2008, 04:45 GMT 09:45 PST
سابق کپتان اور نامور کھلاڑی عمران خان نے تیز رفتار بالر شعیب اختر کو قومی ٹیم میں شامل نہ کیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بھارت کے خلاف سیریز میں شکست کے بعد قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔
عمران خان کا کہنا ہے کہ ’بدنیتی ہمیشہ ایک بڑا مسئلہ رہی ہے اور شکست کے بعد قربانی کے بکرے ڈھونڈنا آسان ہوتا ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ شعیب اگر فٹ ہو تو اب بھی دوسرے بالروں سے کہیں بہتر ہے۔‘
راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے پکارے جانے والے بتیس سالہ شعیب اختر کو پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی زمبابوے کی ٹیم کے خلاف پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کے لیے ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔ انہیں کہا گیا ہے کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر اپنی فٹنس کا ثبوت دیں۔
تاہم بھارت سے واپسی پر شعیب نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں۔ ’فلموں میں تھوڑی سے دلچسپی لینے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کرکٹ خیر آباد کہہ رہے ہیں۔ میں زمبابوے کے خٹف کھیلنا چاہونگا اور آسٹریلیا کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی تیار ہوں۔‘
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نسیم اشرف نے شعیب کی شوبز میں دلچسپی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا تھا کہ پچیس جنوری کو (بورڈ کی) گورننگ باڈی کی میٹنگ میں ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے پر غور کیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران شعیب کے ان فٹ ہونے پر انہوں
نے بھی اس پر تنقید کی تھی لیکن اب ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کو کوئی جواز نہیں ہے۔ ’ٹیم انتظامیہ کو یہ کارروائی اسی وقت
کرنی چاہیے تھی۔‘
![]() |
|
| شعیب اختر اداکاری میں بھی دلچسپی لے رہے ہیں |
پاکستانی ٹیم کے کوچ جیف لاسن نے بھی شعیب اختر کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہمارا بہترین بالر ہے اور اگر شعیب فٹ ہوا تو وہ چاہیں گے کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف کھیلے۔