Wednesday, 16 January, 2008, 11:22 GMT 16:22 PST
ہندوستان کی سٹار ٹینس کھلاڑی ثانیہ مرزا کا کہنا ہے انہوں نے خود پر قومی پرچم کی توہین کا الزام عائد کیے جانے کے بعد ٹینس کے کھیل کو الوداع کہنے کی بات سوچی تھی۔
نئے سال پر ثانیہ مرزا کو ایک تصویر میں ایسی میز پر پیر رکھے ہوئے دکھایا گیا تھا جس پر بھارت کا قومی پرچم رکھا ہوا تھا اور
انہیں اس معاملے میں
قومی پرچم کی توہین سے متعلق قانون کے تحت سزا کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
آسٹریلین اوپن نے دوسرے راؤنڈ میں پہنچنے والی اکیس سالہ ثانیہ مرزا کا کہنا ہے کہ انہوں نے انجانے میں پرچم کے قریب پیر رکھ دیے تھے۔
ثانیہ مرزا کا کہنا ہے’ گزشتہ ہفتے میرے میں دماغ بہت سے خیالات آئے ان میں یہ خيال بھی تھا کہ میں کھیل کو الوداع کہ دوں۔ لیکن یہ خیال اتنا سنجیدہ نہیں تھا کہ میں واقعی کھیل کو الوداع کہنے جارہی ہوں‘۔
ثانیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے قومی پرچم کی توہین نہیں کی ہے۔’میں کبھی بھی ایسا کچھ نہیں کروں گي جس سے میرے ملک کی بے عزتی ہو۔ مجھے اپنے ملک سے پیار ہے۔ اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہ سکتی‘۔
اخبارات میں ثانیہ مرزا کی اس تصویر کے اشاعت کے بعد جس میں ان کے پیر قومی پرچم کے پاس رکھے ہیں ایک شہری نے بھوپال کی عدالت میں ثانیہ مرزا کے خلاف مفاد عامہ کی ایک اپیل دائر کی تھی۔ ثانیہ کی یہ تصویر آسٹریلیا میں ہوپ مین کپ کےمیچ کے دوران لی گئی تھی۔ قومی پرچم کی توہین کا الزام ثابت ہونے پر تین سال کی قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
ماضی میں بھی ثانیہ مرزا کئی تنازعات کا شکار ہوئی ہیں۔ کھیل کے دوران ان کے سکرٹ پہننے پر فتوی جاری ہوا تھا اور اس کے بعد حال ہی میں ان کے آبائی شہر حیدرآباد میں ثانیہ مرزا کے مکہ مسجد میں ایک اشتہار کی شوٹنگ کرنے پر تنازعہ پیدا ہوگیا تھا۔