Wednesday, 16 January, 2008, 14:29 GMT 19:29 PST
مناء رانا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ جیف لاسن کا کہنا ہے کہ پاکستانی کپتان شعیب ملک سو فیصد ٹھیک نہیں ہے تاہم انہیں امید ہے کہ وہ زمبابوے کے خلاف سیریز میں کھیل سکیں گے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جیف لاسن نے کہا کہ’اگرچہ شعیب ملک کا ٹخنہ اب ٹھیک ہے مگر اسے سو فیصد ٹھیک نہیں کہہ سکتا تاہم میں پر امید ہوں کہ وہ زمبابوے کے خلاف سیریزمیں کھیل سکے گا‘۔
جیف لاسن نے کہا کہ’شعیب نے فیلڈنگ پریکٹس کی جس کے بعد ٹخنے میں تھوڑی سوجن آ گئی لیکن یہ ایک عام بات ہے‘۔
پاکستان ٹیم کے کپتان شعیب ملک کی مکمل فٹنس کے متعلق قیاس آرائیاں جاری ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ شاید وہ زمبابوے کے خلاف نہ کھیل سکیں۔
زمبابوے کے خلاف ون ڈے سیریز کی تیاری کے لیے قذافی سٹیڈیم لاہور میں لگے کیمپ کے دوسرے روز پریکٹس کے بعد جیف لاسن نے کہا کہ وہ زمبابوے کا مقابلہ کرنے کے لیے بالکل تیار ہیں لیکن اسے آسان حریف نہیں سمجھتے۔
انہوں نے کہا کہ’زمبابوے کی ٹیم بہتر ہو رہی ہے اور اس نے ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کو سخت مقابلہ دیا‘۔ انہوں نے کہا کہ’ضرورت ہے کہ کھلاڑی ہمیشہ ذہنی طور پر مضبوط رہیں اور کسی بھی ٹیم کے خلاف ڈھیلے نہ پڑیں‘۔
جیف لاسن نے امید ظاہر کی کہ شعیب اختر اور عمر گل کی غیر موجودگی میں راؤ افتخار، یاسر عرفات اور سہیل تنویر اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ’ان نئے کھلاڑیوں میں بہت اہلیت ہے‘۔
کیمپ میں نوجوان کھلاڑیوں کو بلانے کا فائدہ بتاتے ہوئے جیف لاسن نے کہا کہ اس سے کیمپ میں جان نظر آئی اور موڈ کافی بہتر رہا۔ انہوں نے کہا کہ ان نوجوان کھلاڑیوں نے قائداعظم ٹرافی میں اچھی کارکردگی دکھائی تھی۔ ’میں دراصل ان نئے کھلاڑیوں کا رویہ دیکھنا چاھتا تھا اور انہوں نے فیلڈنگ اور دیگر شعبوں میں بہت محنت اور قوت کا مظاہرہ کیا‘۔
جیف لاسن نے پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ انہوں نے قائداعظم ٹرافی کے فائنل کے کچھ دن دیکھے تھے اور کھیل کا معیار بہت بہتر تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ نے کافی بہتر کھلاڑی پیدا کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فروری میں ہونے والے پینٹنگولر سیریز بہت اہم ہو گی اور اس میں معیار کا صحیح اندازہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی کوچنگ میں پاکستان کی ٹیم دو سیریز ہاری ہے لیکن اس بات کا ان پر کوئی دباؤ نہیں۔ وہ صرف اس بات کو مد نظر رکھتے ہیں کہ پاکستان کی ٹیم کو کھیل میں اور فٹنس میں بہتری لانےاور ذہنی طور پر مضبوط کرنے کے لیے کیا کیا جائے۔ ’میں ہر وقت اسی کوشش میں رہتا ہوں۔‘
پاکستان کی ٹیم کے غیر ملکی کوچ کا کہنا تھا کہ وہ زمبابوے کے خلاف سیریز جیتنا چاھتے ہیں اور وہ اس سیریز میں نئے کھلاڑیوں کو بھی آزمانا چاھیں گے۔
آسٹریلیا کی ٹیم کے پاکستان آنے کے امکانات کے بارے میں جیف لاسن نے اپنے پرانے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ کرکٹ آسٹریلیا پاکستان ٹیم بھیجنے کے لیے تیار ہے لیکن آسٹریلوی کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں انتخابات کے بعد اپنا ذہن بنائیں گے۔