Thursday, 10 January, 2008, 10:36 GMT 15:36 PST
روہت برجناتھ
یہ اپنے آپ میں دلچسپ ہے کہ آسٹریلیا میں سلسلے وار دو ٹیسٹ میچوں کی شکست کے بعد بھی ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان کی عزت میں کوئی کمی نہیں آئی جبکہ سولہ ٹیسٹ میچوں میں جیتنے والے کپتان رکی پونٹنگ کو اپنے ہی ملک کے باشندوں کی طرف سے برطرفی کا مطالبہ جھیلنا پڑ رہا ہے۔
اس میں ہمارے لیے ایک سبق ہے، وہ یہ کہ ٹیم کس جذبے سے کھیلتی ہے۔ یہی اہم ہے۔ مطلب یہ کہ کھلاڑیوں کا سلوک اپنے آپ کیسا ہوتا ہے۔ سڈنی ميں ہندوستانی کھیلاڑیوں نے ایک بال بھی صحیح ڈھنگ سے نہیں پکڑی، باوجود کھلاڑیوں کے تئیں عوام کا ردعمل دوستانہ رہا۔وجہ یہ رہی کہ ہندوستانی کھلاڑیوں نے کھیل کے جذبے کا مظاہرہ کیا۔
جب امپائر نے آسٹریلوی کھیلاڑیوں کو اس وقت آوٹ نہيں دیا جب واضح طور پر وہ آوٹ تھے تو کوئی بھی امپائر سے فیصلے کو تبدیل کرنے لیے نہيں گیا، یہاں تک آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کے کپتان رکی پونٹنگ بھی نہيں گئے۔
اسی طرح اس وقت بھی کوئی ناخوشگوار منظر نہيں سامنے آیاجب ہندوستانی کھلاڑیوں کو آؤٹ دے دیا گيا حالانکہ وہ آؤٹ نہيں تھے۔ حتٰی کہ جب انیل کمبلے نے کھیل کے جذبے کی بات کی تو بھی اپنی ہی ٹیم کے لیے یعنی ہندوستانی ٹیم کے کھیل کے جذبے کی بات کی۔
حال ہی میں جب آسٹریلیا کی ٹیم ہندوستان کے دورے پر تھی تو ہندوستانی ٹیم کا رویہ تھوڑا سخت تھا اس لیے ٹیم کی کسی نے بھی حمایت نہيں کی۔
کیا ہندوستان کو اپنے دورۂ آسٹریلیا پر بھی سخت رویہ رکھنا چاہیے تھا، یقینی طور پر آسٹریلیا میں ایسا ممکن نہيں ہے اور ہندوستان کرکٹ کے جذبے کی بات نہیں کرسکتا ہے۔
آپ اپنی مخالف ٹیم پرناشائستہ رویے کا الزام اس وقت نہيں لگا سکتے ہیں جب خود ہی شائستہ نہيں ہوں۔لیکن ہندوستانی ٹیم نے گزشتہ عشرے میں کمبلے، سچن، لکشمن، دراوڈ جیسوں سے اخلاق اور سلیقہ سیکھا ہے اور سڈنی اس کا ثبوت ہے۔
لیکن اس تمام تنازعے میں ایک اچھی خبر رہی اور وہ یہ کہ میدان پر لگاتارآسٹیریلیا نے بازی ماری جبکہ میدان کے باہر اکثر ہندوستان کی ٹیم نے بازی ماری۔
رکی پونٹنگ کی ٹیم کر ایک گستاخ ٹیم کہا جا سکتا ہے۔لیکن یہ ایک بہترین آسٹریلوی ٹیم بھی ہے اور ایک کھیل کے شوقین آسٹریلوی عوام کے لیے اس کی ٹیم کے بارے میں یہ کہنا قابل تکلیف امر ہے۔ لیکن سڈنی کی گلیوں میں آسٹریلوی عوام نے ہندوستانی ٹیم سے کہا ہےہم لوگ آپ کے پیچھے ہیں ساتھی۔
ہندوستانی ٹیم ہمیشہ آسٹریلیا کے ساحلوں کو خراب ماحول میں چھوڑتی ہے اور اس کی وجہ اب تک آسٹریلیا کی اچھی کارکردگی رہی ہے۔
لیکن سڈنی ٹیسٹ کے متعلق پونٹنگ اور یہاں تک ایڈم گلکرسٹ نے بھی حقیت کا سامنا نہيں کیا۔ اسی وجہ سے کمبلے نے کہا کہ ایک ٹیم نے ہی کھیل کے جذبے کا مظاہرہ کیا۔ اور یہ وجہ ہے کہ آسٹریلیا میں بار ہندوستان کا خانہ خراب نہيں ہوا۔
ہندستانی ٹیم کی کمزوریوں کوضرورت سے زيادہ اچھالا گیا کیوں کہ وہ آسٹریلیا کو ایک اہم ٹیم سمجھتی ہے۔ ہاں یہ بھی سچ ہے کہ اپنے غیر معیاری کھیل کے سبب دو بار دو سوکے نیچے اور ایک بار دو سو دس اور ایک بار پانچ سو کے اسکور کےاوپر گئی۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بندر ہی نسل پرست لفظ میں نہیں آتا بلکہ ہندوستانی کے لیے باسٹرڈ بھی ایک ہتک آمیز لفظ ہے جس کا استعمال آسٹریلوی اکثر کرتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہيں کہ مائک پروکٹر کا فیصلہ غلط تھا، اور امپائرنگ نااہلی کی ثبوت تھی۔ لیکن ہندوستان میں اس پر ضرورت سے زیادہ ردعمل آیا جو کرکٹ کے لیے اچھا نہيں ہے۔ کرکٹ لگاتار جنگوازم سے متاثر ہورہا ہے۔
ایک ٹیلی ویژن چینل اس بات پر بحث کررہا تھا کہ سڈنی میچ کوریکارڈ سے خارج کردینا چاہیے جبکہ دوسرا کہہ رہا تھا کہ یہ قومی عزت ہے اور ٹیم کو واپس لوٹ جانا چاہیے۔جبکہ ہندوستان میں کوئی کسان خود کشی کرتا ہے تو اس سے قومی جذبات مجروح نہيں ہوتے۔ میرے دوست کھیل میں میدان چھوڑا نہیں جاتا ہے بلکہ مردوں کی طرح کھیلا جاتاہے۔
یہ کرکٹ کے لیے افسوس ناک وقت ہے، لیکن ہمشمہ کھیل میں واپسی اپنےہاتھ میں ہوتی ہے۔ پونٹنگ ٹیم کو اور بڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ کمبلے کی ٹیم کو یاد رکھنا پڑے گا کہ کیسے کھیلا جاتا ہے۔