http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 07 January, 2008, 07:48 GMT 12:48 PST

بھارت کا دورۂ آسٹریلیا معطل

آسٹریلوی آل راؤنڈر اینڈریو سائمنڈز کے خلاف نسلی امتیاز والی فقرے بازی کرنے کے جرم میں بھارتی سپنر ہربھجن سنگھ پر تین ٹیسٹ میچوں کے لیے پابندی کے بعد ہندوستانی ٹیم نے آسٹریلیا کا اپنا دورہ معطل کردیا ہے۔

ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ نے اپنے کھلاڑیوں کو تیسرے ٹیسٹ کے لیے آسٹرلیا کے شہر کینبرہ نہ جانے کے لیے کہا ہے۔ بورڈ نے کھلاڑیوں کو سڈنی میں ہی رہنے کی ہدایت کی ہے۔

دریں اثنا بی سی سی آئی نے کہا ہے کہ ہربھجن سنگھ کے ساتھ جو ہوا وہ ناقابل برداشت ہے اور بورڈ آئی سی سی کے سامنے فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا۔

میچ ریفری مائک پراکٹر نے ہربھجن کے خلاف الزامات کی چار گھنٹے تک سماعت کرنے کے بعد انہیں کھلاڑیوں کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا۔

الزام یہ تھا کہ ہربھجن نے سائمنڈز کو ’بندر‘ کہہ کر پکارا تھا۔ پروکٹر نے کہا کہ سماعت کہ بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہربھجن نے یہ الفاظ استعال کیا تھا اور وہ سائمنڈز کی نسل کی بنیاد پر ان کو برا بھلا کہنا چاہتے تھے۔

بتیس سالہ سائمنڈز آسٹریلوی ٹیم کے واحد کھلاڑی ہیں جو سفید فام نہیں ہیں۔

ستائیس سالہ ہربھجن انیس سو اٹھانوے سے بھارتی ٹیم کی نمائندگی کر رہے ہیں اور ایک روزہ اور ٹیسٹ میچوں میں ساڑھے چار سو سے زیادہ وکٹ لے چکے ہیں۔

سڈنی ٹیسٹ کے تیسرے دن بھارتی ٹیم کی بیٹنگ کے دوران ہربھجن سنگھ اور انڈریو سائمنڈز کے درمیان تکرار کو لوگوں نے ٹی وی پر دیکھا۔ اس وقت سچن تیندولکر نے اس معاملے میں مداخلت کی اور ماحول کو معمول پر لانے کی کوشش کی۔ نسلی امتیاز کے خلاف آئی سی سی کی پالیسی بہت سخت ہے۔

اس سے قبل جنوبی افریقہ کے ہرشیل گبز اور آسٹریلیا کے ڈیرل لیہمن کو بھی نسلی امتیار کے ضابطے کے تحت سزا دی جاچکی ہے۔

گزشتہ برس اکتوبر میں جب آسٹریلیا کی ٹیم بھارت کے دورے پر آئی تھی تو اس وقت بھی اینڈریو سائمنڈز نے بھارتی شائقین پر نسلی امتیاز کا الزام لگایا تھا۔