http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 06 January, 2008, 19:18 GMT 00:18 PST

ہربھجن پر تین میچوں کے لیے پابندی

آسٹریلوی آل راؤنڈر اینڈریو سائمنڈز کے خلاف نسلی امتیاز والی فقرے بازی کرنے کے جرم میں بھارتی سپنر ہربھجن سنگھ پر تین ٹیسٹ میچوں کے لیے پابندی لگا دی گئی ہے۔

میچ ریفری مائک پراکٹر نے ہربھجن کے خلاف الزامات کی چار گھنٹے تک سماعت کرنے کے بعد انہیں کھلاڑیوں کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا۔

الزام یہ تھا کہ ہربھجن نے سائمنڈز کو ’بندر‘ کہہ کر پکارا تھا۔ پروکٹر نے کہا کہ سماعت کہ بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کے ہر بھجن نے یہ لفظ استعال کیا تھا اور وہ سائمنڈز کی نسل کی بنیاد پر ان کو برا بھلا کہنا چاہتے تھے۔

بتیس سالہ سائمنڈز آسٹریلوی ٹیم کے واحد کھلاڑی ہیں جو سفیدفام نہیں ہیں۔

سماعت کے دوران ہربھجن کے ساتھ کپتان انیل کمبلے، سچن تیندولکر، ٹیم مینیجر چیتن چوہان اور ان کے نائب ایم وی سریدھر بھی تھے۔ ہربھجن کو اس فیصلےکے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے۔

غیر تصدیق شد اطلاعات کے مطابق اپیل کل تک جمع کرا دی جائے گی۔ اگر فیصلہ برقرار رکھا گیا تو ہربھجن آسٹریلیا کے خلاف باقی دو ٹیسٹ نہیں کھیل سکیں گے۔

ستائیس سالہ ہربھجن انیس سو اٹھانوے سے بھارتی ٹیم کی نمائندگی کر رہے ہیں اور ایک روزہ اور ٹیسٹ میچوں میں ساڑھے چار سو سے زیادہ وکٹ لیے ہیں۔

سڈنی ٹیسٹ کے تیسرے دن بھارتی ٹیم کی بیٹنگ کے دوران ہربھجن سنگھ اور انڈریو سائمنڈز کے درمیان تکرار کو لوگوں نے ٹی وی پر دیکھا۔ اس وقت سچن تیندولکر نے اس معاملے میں مداخلت کی اور ماحول کو معمول پر لانے کی کوشش کی۔ نسلی امتیاز کے خلاف آئی سی سی کی پالیسی بہت سخت ہے۔

اس سے قبل جنوبی افریقہ کے ہرشیل گبز اور آسٹریلیا کے ڈیرل لیہمین کو بھی نسلی امتیار کے ضابطے کے تحت سزا دی جاچکی ہے۔

گزشتہ برس اکتوبر میں جب آسٹریلیا کی ٹیم بھارت کے دورے پر آئی تھی تو اس وقت بھی اینڈریو سائمنڈز نے بھارتی شائقین پر نسلی امتیاز کا الزام لگایا تھا۔