http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 25 December, 2007, 15:20 GMT 20:20 PST

عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

’پابندی کے خلاف مقدمہ کرینگے‘

انڈین کرکٹ لیگ کھیلنے والے پاکستانی کھلاڑیوں نے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے پر عائد پابندی کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ کرکٹ ان کا ذریعہ معاش ہے اور پابندی کا مطلب انہیں زندگی کے بنیادی حق سے محروم کرنا ہے۔

آئی سی ایل کھیلنے والے چھ کھلاڑیوں میں سے انضمام الحق پہلے ہی بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ چکے ہیں جبکہ عبدالرزاق، اظہرمحمود، توفیق عمر، عمران فرحت اور شبیراحمد اب بھی فرسٹ کلاس کرکٹ میں مختلف ٹیموں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پچیس دسمبر کو پاکستان کے دو اخبارات میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے دو اعلیٰ عہدیداروں کے دو مختلف بیانات شائع ہوئے ہیں۔

ایک اردو اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز ذاکر خان نے کہا ہے کہ آئی سی ایل کھیلنے والے کرکٹرز پر ڈومیسٹک کرکٹ کے دروازے بند نہیں کئے گئے ہیں۔

پی سی بی حکام سے رابطے کی کوششیں تو بارآور ثابت نہیں ہوئیں لیکن آئی سی ایل کھیلنے والے کرکٹرز سے رابطہ ہو گیا۔ اوپننگ بیٹسمین عمران فرحت کا کہنا تھا کہ پی سی بی انہیں معاش کے بنیادی حق سے کیسے محروم کر سکتا ہے۔ ’ہم پاکستان کرکٹ بورڈ کے ملازم نہیں ہیں، میں حبیب بینک کی ملازمت کرتا ہوں۔‘

عمران فرحت نے کہا کہ وہ اپنے قانونی مشیر سے مستقل مشورے میں ہیں اور اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو ان کے پاس عدالت میں جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔

فاسٹ بولر شبیراحمد نے پی سی بی پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ وہ بھارتی بورڈ کو خوش کرنے کے لیے اپنے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا رہا ہے۔ شبیراحمد کی شاندار ہیٹ ٹرک نے چنئی سپر سٹارز کے آئی سی ایل کی فاتح ٹیم بننے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کرکٹرز اگر کاؤنٹی کرکٹ کھیل سکتے ہیں تو کہیں اور بھی جا کر کھیل سکتے ہیں۔ ’میں نے ہمیشہ اپنے ملک کو ترجیح دی، کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کی پیشکش مسترد کی ۔۔۔ لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ میں بیٹھے لوگ کرکٹ کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔‘

پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے والے ادارے حبیب بینک کے شعبہ سپورٹس کے سربراہ عبدالرقیب کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ایک خط موصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ ان کرکٹرز کو نہ کھلائیں جو آئی سی ایل میں حصہ لے چکے ہیں۔

عبدالرقیب نے کہا کہ انہوں نے عمران فرحت اور توفیق عمر کو کرکٹ بورڈ کے فیصلے سے مطلع کردیا ہے۔

پاکستان کے متعدد سابق ٹیسٹ کرکٹرز پہلے ہی پابندی کے فیصلے کے خلاف شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کو تنقید کا نشانہ بناچکے ہیں۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور اس کے تمام ممبران ممالک نے انڈین کرکٹ لیگ کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈومیسٹک مقابلوں کے آرگنائزر شفیق احمد نے کہا ہے کہ آئی سی ایل میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں پر پابندی پی سی بی کی اس پالیسی کے تحت لگائی گئی ہے جس کے تحت کسی بھی کھلاڑی کو غیر قانونی ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔