http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 11 December, 2007, 11:58 GMT 16:58 PST

مناء رانا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور

چیمپئنز ٹرافی میں ٹیم نے مایوس کیا

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری خالد محمود کا کہنا ہے کہ چپمپیئنز ٹرافی میں پاکستان کی ٹیم کو پہلی پانچ پوزیشنز میں آنا چاہیے تھا لیکن اس نے توقعات کے مطابق کھیل پیش نہیں کیا جس سے انہیں سخت مایوسی ہوئی ہے۔

پاکستان کی ہاکی ٹیم چیمپئنز ٹرافی میں ساتویں پوزیشن حاصل کرنے کے بعد پیر اور منگل کی درمیانی شب ملائیشیا سے پاکستان پہنچی ہے۔

ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری خالد محمود کا کہنا ہے کہ توقعات سے کم تر کارکردگی دکھانے کی کیا وجوہات ہیں اس کا تعّین تو ٹیم مینجمنٹ کی رپورٹ کے بعد ہی کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس چیمپئن شپ میں دیکھا گیا کہ پاکستان کی ٹیم نے جو میچ ایک دن کے آرام کے بعد کھیلا اس میں اس کی کارکردگی خراب رہی ایسا کیوں ہوا اس پر بھی تحقیق ہو گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم نے بغیر آرام کے جو میچ کھیلے اس میں نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی اور اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی ٹیم کے حوالے سے جو مثبت بات سامنے آئی وہ یہ تھی کہ ٹیم کی فٹنس کا معیار پہلے سے بہتر دکھائی دیا۔

انہوں نے کہا کہ سینیئر کھلاڑی دلاور اور غضنفر کی واپسی سے ٹیم بہتر دکھائی دی اور اگر سہیل عباس کی واپسی بھی ہوتی تو زیادہ بہتر ہوتا لیکن وہ بلانے کے باوجود کیمپ میں نہیں آئے۔

انہوں نے کہا کہ سہیل عباس لیگ چھوڑ کر ملک کے لیے کھیلنے آ جاتے تو اولمپک کے لیے بہتر ٹیم بن سکتی تھی لیکن اب ان کی واپسی کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایشین ٹیموں خصوصا پاکستان اور بھارت کی ہاکی کے کھیل میں تنزلی کی بڑی وجہ ہاکی کے نئے قوانین ہیں اور نئے قوانین کے تحت ہم ایشین اسٹائل کی ہاکی نہیں کھیل سکتے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یورپین اسٹائل ہی اپنائیں۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری نے بتایا کہ چمپئنز ٹرافی پاکستان میں نہ ہونے سے فیڈریشن کو جو مالی نقصان ہوا ہے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن اس کا ازالہ کرنے کو تیار نہیں ان کا کہنا ہے کہ شریک ملکوں نے آنے سے انکار کیا لہذا وہ اس کے ذمہ دار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ سپر لیگ کروانے کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہیں لیکن اس سے پہلے انڈیا کی ہاکی فیڈریشن نے اپنی سپر لیگ کے لیے پاکستان کے آٹھ کھلاڑی مانگے ہیں اور ٹیم مینجمنٹ سے مشورہ کرکے ان آٹھ کھلاڑیوں کا فیصلہ کیا جائے گا۔