http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 04 December, 2007, 04:15 GMT 09:15 PST

کولکتہ ٹیسٹ بغیر ہار جیت کے ختم

کولکتہ میں پاکستان یونس خان کی سینچری کی بدولت تین میچوں کی سیریز کا دوسرا ٹیسٹ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم کرانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

آخری دن کھانے کے وقفے سے پہلے پاکستان کو جیتنے کے لیے 345 رنز کا ہدف دینے اور سینتیس کے مجموعی سکور پر دونوں پاکستانی اوپنرز کو واپس پویلین بھیجنے کے بعد بھارت نے میچ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی۔

مکمل سکور کارڈ کے لیے یہاں کلک کریں

آخری دن کی جھلکیاں

یاسر حمید اور پہلی اننگز کے سینچری میکر کامران اکمل کے آؤٹ ہونے کے بعد انیل کمبلے نے جارحانہ فیلڈنگ کے ساتھ بالنگ جاری رکھی اور پینسٹھ کے مجموعی سکور پر بھارت کو تیسری کامیابی دلوائی۔ انیل کمبلے کا دوسرا شکار سلمان بٹ تھے جو صرف گیارہ رنز بنا کر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔

اس موقع پر پہلی اننگز کے کامیاب ترین بلے باز مصباح الحق کھیلنے آئے لیکن وہ بھی بھارتی بالرز کا سامنا نہ کر سکے اور صرف چھ رنز پر مناف پٹیل کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

مصباح الحق کے آؤٹ ہونے کے بعد بھی کپتان انیل کمبلے نے یونس خان اور پانچویں نمبر پر آنے والے محمد یوسف کے لیے جارحانہ فیلڈنگ قائم رکھی لیکن انہیں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی اور دونوں پاکستانی بلے باز ہربھجن سنگھ اور بھارتی کپتان کی بالنگ کا اعتماد کے ساتھ سامنا کرتے رہے۔
شعیب اختر نے گنگولی اور دھونی کو بولڈ کیا

یونس خان نے ایک سو سات رنز بنائے جبکہ کھیل کے اختتام پر محمد یوسف اپنی نصف سینچری سے صرف چھ رنز پیچھے تھے۔

اس سے قبل بھارتی کپتان انیل کمبلے نے دوسری اننگز چار وکٹ کے نقصان پر ایک سو چوراسی رن پر ڈکلیئر کر دی اور یوں بھارت کو مجموعی طور پر پاکستان پر تین سو چوالیس رنز کی برتری حاصل ہوئی۔

میچ کے آخری دن پاکستان کو ابتداء میں ہی پہلی کامیابی مہندر دھونی کی وکٹ کی صورت میں اس وقت ملی جب وہ سینتیس کے انفرادی سکور پر شعیب اختر کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔گنگولی بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور چھیالسی کے انفرادی سکور پر شعیب کا دوسرا شکار بنے۔ گنگولی کے آؤٹ ہوتے ہی بھارتی کپتان نے اننگز ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

کولکتہ ٹیسٹ میں پاکستان کے مصباح الحق اور کامران اکمل کی اچھی بیٹنگ کے باوجود بھارت میچ پر اپنی گرفت قائم رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ بھارت نے اپنی پہلی اننگز پانچ وکٹوں کے عوض چھ سو سولہ کے بڑے سکور پر ڈیکلئر کر دی تھی جس کے جواب میں مصباح الحق کے 161 ناٹ آؤٹ اور ایک نازک مرحلے پر محمد سمیع کے اڑتیس رنز کی بدولت پاکستان فالو آن سے بچنے میں کامیاب رہا۔

تاہم چوتھے روز کھانے کے وقفے کے بعد بھارتی بالرز پاکستان کی چار وکٹیں گرا کر اسے 456 کے سکور پر آؤٹ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ یوں بھارت کو پہلی اننگز میں 160 رنز کی برتری حاصل ہوئی۔ جب چوتھے دن کا کھیل ختم ہوا تھا تو بھارت نے دو وکٹ کے نقصان پر ایک سو اکتالیس رن بنائے تھے اور اسے پاکستان پر تین سو ایک رن کی برتری حاصل تھی۔

تین ٹیسٹ میچوں کی اس سیریز میں بھارت کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔

انڈیا کی ٹیم:
وسیم جعفر، دنیش کارتک، راہول ڈراوڈ، سچن تندولکر، سورو گنگولی، وی وی ایس لکشمن، مہندر دھونی، انیل کمبلے، ظہیر خان، ہربھجن سنگھ اور مناف پٹیل۔

پاکستان کی ٹیم:
سلمان بٹ، یاسر حمید، یونس خان، فیصل اقبال، مصباح الحق، کامران اکمل، سہیل تنویر، دانش کنیریا، شعیب اختر اور محمد سمیع۔