Monday, 12 November, 2007, 21:27 GMT 02:27 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
سکواش کے مرد کھلاڑیوں کی عالمی تنظیم پروفیشنل سکواش ایسوسی ایشن نے پاکستان میں غیرمعمولی حالات کے تناظر میں پاکستان اوپن سکواش سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ چودہ نومبر سے اسلام آباد میں شروع ہونے والی اس چیمپئن شپ میں کوئی غیرملکی مرد کھلاڑی حصہ نہیں لے گا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ سکواش کی عالمی تنظیم نے براہ راست پاکستان اوپن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ورنہ عام طور پر کسی ٹورنامنٹ سے دستبرداری کا فیصلہ کھلاڑی انفرادی طور پر کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان اوپن میں اس مرتبہ خواتین ایونٹ بھی رکھا گیا ہے اور خواتین کھلاڑیوں کی عالمی تنظیم وسپا نے پاکستان اوپن سے دستبردار ہونے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور غیرملکی خواتین کھلاڑی اس ایونٹ میں حصہ لیں گی۔
پاکستان اوپن اب غیرملکی کھلاڑیوں کے بغیر کھیلی جائے گی اور پاکستان سکواش فیڈریشن کے سیکرٹری ونگ کمانڈر شمس الحق کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ پروفیشنل سکواش ایسوسی ایشن کے سامنے اٹھایا جائے گا کیونکہ کئی کھلاڑیوں نے اپنی انٹریز بھی بھیج دی تھیں اور ڈراز بھی تیار تھے۔
پاکستان میں غیرمعمولی صورتحال کے بعد عالمی رینکنگ کے ابتدائی بارہ کھلاڑیوں نے پاکستان اوپن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیاتھا جس کے بعد عالمی نمبر تیرہ آسٹریلیا کے اسٹورٹ بوزویل کو ٹاپ سیڈ رکھا گیا تھا لیکن اب تمام کے تمام غیرملکی کھلاڑی مقابلے سے غیرحاضر ہوں گے۔
پاکستان میں ایمرجنسی کے بعد ویمنزکرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائنگ ایونٹ بھی ملتوی کیا جا چکا ہے جو انیس سے پچیس نومبر تک لاہور میں ہونا تھا جس میں پاکستان کے علاوہ جنوبی افریقہ، زمبابوے، برمودا، ہالینڈ، آئرلینڈ، سکاٹ لینڈ اور پاپوا نیوگنی کی ٹیموں نے حصہ لینا تھا لیکن آئی سی سی نے طویل غور و خوص کے بعد اسے پاکستان میں فوری طور پر نہ کرانے کا فیصلہ کیا۔ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کی حفاظت اور سکیورٹی اس کی اولین ترجیح ہے۔