Sunday, 11 November, 2007, 20:47 GMT 01:47 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
چیمپئنز ٹرافی ورلڈ ہاکی ٹورنامنٹ کے لیے بیس رکنی پاکستانی ٹیم کا اعلان دو روزہ ٹرائلز کے بعد اتوار کو کر دیا گیا۔
کپتان ریحان بٹ کو خراب کارکردگی پر ڈراپ کر کے گول کیپر سلمان اکبر کو قیادت کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔
انتیس نومبر سے نو دسمبر تک کوالالمپور میں ہونے والے ٹورنامنٹ کے لیے نئے کپتان کے ساتھ ساتھ نئے منیجر کی تقرری بھی کی گئی ہے۔ کیمپ کے دوران پیر میں فریکچر ہونے کے سبب اصلاح الدین کو ملائشیا نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور منیجر و چیف کوچ کی ذمہ داری خواجہ ذکاء الدین کے سپرد کر دی گئی ہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر میرظفراللہ جمالی نے ریحان بٹ کے بارے میں کہا کہ کچھ عرصے سے ان کی کارکردگی میں فرق آیا ہے لیکن انہیں امید ہے کہ وہ دوبارہ ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
سہیل عباس کے بارے میں سوال پر میرظفراللہ جمالی کا کہنا تھا کہ’اس بارے میں کسی قسم کا کوئی سسپنس نہیں تھا۔ یہ کوئی تھری ڈائمینشن فلم نہیں ہے ہر چیز واضح ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ قومی ہاکی کے مفاد میں انہوں نے سہیل عباس کو تمام تر تنقید کے باوجود کیمپ میں بلانے کا فیصلہ کیا لیکن اگر وہ کیمپ میں آ کر ٹرائلز دینے کے لیے تیار نہیں تو انہیں کیسے ٹیم میں منتخب کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو کھلاڑی دلاور اور غضنفر کیمپ میں آئے اور ٹیم میں منتخب ہوگئے۔
میر ظفراللہ جمالی نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی کی پاکستان سے منتقلی کا فیصلہ افسوس ناک تھا اور انہوں نے ایف آئی ایچ سے کہا تھا کہ اگر یہی روش رہی تو پاکستان مستقبل میں آپ کے مقابلوں میں حصہ نہ لینے کے بارے میں سوچے گا لیکن پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کو چیمپئنز ٹرافی میں حصہ لینا چاہیے۔
چیمپئنز ٹرافی کے لیے اعلان کردہ پاکستانی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ سلمان اکبر( کپتان)، ناصراحمد، ذیشان اشرف، ایم عمران، کاشف علی، کامران، عمران خان، عدنان مقصود، دلاور بھٹی، غضنفر، سجاد انور، وقاص شریف، شکیل عباسی،، وقاص اکبر، شبیراحمد، عباس حیدر، اخترعلی، محمد ارشد، عنایت اللہ اور محمد افضل۔
افضل اور عنایت اللہ پہلی مرتبہ پاکستانی ٹیم میں منتخب ہوئے ہیں۔