Sunday, 30 September, 2007, 11:27 GMT 16:27 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں عمدہ کارکردگی دکھانے کے بعد پاکستانی کپتان شعیب ملک جنوبی افریقہ کے سخت چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں جو پیر (یکم اکتوبر) سے شروع ہونے والے پہلےکرکٹ ٹیسٹ کی شکل میں ان کے سامنے ہے۔
نیشنل سٹیڈیم کراچی میں شروع ہونے والا یہ ٹیسٹ میچ بحیثیت کپتان شعیب ملک کا پہلا ٹیسٹ بھی ہے۔ ورلڈ کپ میں ٹیم کی بری کارکردگی کے بعد شعیب کو اس سال انضمام الحق کی جگہ قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
دورے پر آئی ہوئی جنوبی افریقہ کی ٹیم کی قیادت گریم سمتھ کر رہے ہیں جو چھیالیس ٹیسٹ میچوں میں سے انیس میں فتحیاب رہے ہیں۔
جیف لاسن کی بحیثیت کوچ کسی ٹیسٹ میچ میں یہ پہلی آزمائش بھی ہے، جنہوں نے باب وولمر کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے۔
دانش کنیریا ٹیسٹ کرکٹ میں دو سو شکار مکمل کرنے سے صرف دو وکٹوں کی دوری پر ہیں۔
کپتان شعیب ملک کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقی ٹیم چھ فاسٹ بولرز کے ساتھ پاکستان آئی ہے۔ ’ ظاہر ہے ہم ان کی قوت کے مطابق نہ میچ کھیل سکتے ہیں نہ وکٹ تیار کر سکتے ہیں۔‘
شعیب ملک نے کہا کہ ٹیسٹ میچ میں پہلی مرتبہ کپتانی کرتے ہوئے وہ قطعاً نروس نہیں ہیں۔ ’ٹھیک ہے یہ کپتان کی حیثیت سے میرا پہلا ٹیسٹ ہے لیکن بحیثیت کرکٹر میں کافی ٹیسٹ میچز کھیل چکا ہوں۔‘
انضمام الحق کی عدم شمولیت کے بارے میں سوال پر شعیب ملک نے ڈپلومیٹک انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ کرکٹرز آتے اور جاتے رہتے ہیں۔ ’انضمام الحق عظیم کرکٹر ہیں لیکن یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا معاملہ ہے اس مرحلے پر میں صرف کراچی ٹیسٹ پر توجہ رکھے ہوئے ہیں۔‘
جنوبی افریقی کپتان گریم سمتھ کہتے ہیں کہ جب آپ برصغیر میں کھیلنے آتے ہیں تو اسی طرح کی وکٹیں آپ کو ملتی ہیں جس پر حیران نہیں ہونا چاہئے، لیکن انہیں اپنی بیٹنگ پر اعتماد ہے کہ وہ سپنرز کو کھیل سکتی ہے۔
پاکستانی سلیکٹرز اور کپتان کے لیے پریشانی کی بات نائب کپتان سلمان بٹ کا آؤٹ آف فارم ہونا ہے، جو آخری دس ٹیسٹ اننگز میں صرف ایک نصف سنچری کی مایوس کن کارکردگی کے بعد ڈراپ کردیے گئے تھے۔ لیکن ان کی واپسی حیران کن طور پر نائب کپتان کی حیثیت سے ہوئی۔ ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی مایوس کن پرفارمنس کے بعد اس وقت ان پر بہت دباؤ ہے۔
سلیکٹرز نے پندرہ رکنی ٹیم میں توفیق عمر کو بھی شامل کیا ہے۔ دوسرے اوپنر کے طور پر ان کا مقابلہ محمد حفیظ سے ہے، جن کی اضافی خصوصیت آف سِپن بولنگ ہے۔
ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے ڈراپ کئے جانے کے بعد انڈین لیگ کی چکاچوند چمک سے متاثر ہوجانے والے محمد یوسف پاکستان کرکٹ بورڈ سے معاملات طے پاجانے کے بعد دوبارہ ٹیم میں آچکے ہیں اور وہ مصباح الحق اور یونس خان کے ساتھ ایک بڑے سکور کے لیے پاکستان کی سب سے بڑی امید ہیں۔
جنوبی افریقہ کی بیٹنگ لائن گریم سمتھ، ہرشل گبز، جیک کیلس، اے بی ڈی ویلیئرز اور ہاشم آملا کے علاوہ کسی بھی وقت بڑی اننگز کھیلنے کے لیے تیار مارک باؤچر پر مشمل ہے جبکہ تیز بولرز نتینی ڈیل اسٹین اور مورنی مورکل کے ساتھ پاکستانی وکٹوں کو دیکھتے ہوئے جنوبی افریقہ نے بائیں ہاتھ سے بولنگ کرنے والے سپنر پال ہیرس کو ٹیم میں شامل کیا ہے۔
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان اب تک کھیلے گئے چودہ ٹیسٹ میچوں میں جنوبی افریقہ نے سات جیتے ہیں جبکہ تین میں پاکستان کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
پاکستانی سرزمین پر دونوں ٹیموں کے درمیان یہ تیسری ٹیسٹ سیریز ہے۔ پہلی سیریز جنوبی افریقہ نے ہنسی کرونئے کی قیادت میں جیتی تھی جبکہ دوسری میں انضمام الحق کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے گریم سمتھ کی ٹیم کو ہرا کر حساب بیباک کر دیا تھا۔