Thursday, 27 September, 2007, 11:59 GMT 16:59 PST
مناء رانا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
گزشتہ سال کے لیے آئی سی سی کے ٹیسٹ پلیئر آف دی ایئر کا اعزاز حاصل کرنے والے پاکستانی بیٹسمین محمد یوسف نے انڈین کرکٹ لیگ سے کیا ہوا اپنا معاہدہ ختم کر کے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سنٹرل کانٹریکٹ پر دستخط کر دیے ہیں۔
یوسف نے یہ اعلان پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے انتہائی پر مسرت لہجے میں محمد یوسف کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں
کیا۔ پریس کانفرنس سے پہلے محمد یوسف نے چئرمین کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یوسف پاکستان کی ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کے بغیر ٹیم مکمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے محمد یوسف کی مزید تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک محب الوطن ہیں اور وہ ہمارے ہیرو ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محمد یوسف انڈین کرکٹ لیگ کی اس شق کے بارے میں نہیں جانتے تھے کہ وہ ضرورت پڑنے پر اپنے ملک کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب محمد یوسف کو انڈین کرکٹ لیگ کی طرف سے پیشکش ہوئی تو وہ اپنا مستقبل دیکھتے ہوئے اس میں شامل ہو گئے۔ چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ پاکستان کے ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے اپنے پلان ہیں جس کے تحت پریمیئر لیگ اور چمپیئن لیگ شروع کی جائے گی اور ان میں حصہ لینے والے کھلاڑی ملک کے لیے بھی کھیل سکیں گے۔
پی سی بی کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کے برعکس محمد یوسف کافی سنجیدہ تھے تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے تقریباً وہی باتیں دہرائیں جو چیئرمین نے کی تھیں کہ انہیں آئی سی ایل کی شق کے بارے میں معلوم نہیں تھا اور کچھ غلط فہمیوں کے سبب انہوں نے اپنا مستقبل دیکھتے ہوئے آئی سی ایل کے ساتھ معاہدہ کیا تھا لیکن پی سی بی نے انہیں مکمل یقین دہانی کرائی ہے۔
محمد یوسف نے کہا کہ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ’پاکستان کے لیے میری جان بھی حاضر ہے۔ پاکستان نے مجھے عزت دی ہے نام دیا ہے اور پاکستان نے مجھے مذہب اسلام بھی دیا ہے اور پاکستان کے لیے ’میں ہر وقت کھیلنے کے لیے تیار ہوں‘۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ غلط فہمیوں کی بناء پر انہوں نے وہ فیصلہ کیا تھا۔
ڈاکٹر نسیم اشرف نے اس تمام معاملے پر کوئی سوال کرنے کی صحافیوں کو اجازت نہیں دی البتہ یہ واضح کیا کہ آئی سی ایل چھوڑنے پر اگر محمد یوسف کو کسی قسم کی قانونی پیچیدگیوں کا سامنا ہوا تو پاکستان کرکٹ بورڈ اس کا دفاع کرے گا۔
یاد رہے کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے کیمپ میں بلانے کے باوجود محمد یوسف کو ٹیم میں نہیں لیا گیا تھا جس پر محمد یوسف نے تنقید کی تھی اور بعد ازاں انڈین کرکٹ لیگ کے ساتھ شامل ہو گئے تھے۔